پاکستانتازہ ترین

عدلیہ آئین کی محافظ ہےکوئی بھی آئین سے بالاتر نہیں،چیف جسٹس

cheif-justiceچیف جسٹس افتخار محمد چوہدری(ما نیٹر ینگ سیل) نے کہا ہے عدلیہ آئین کی محافظ اور ذمہ داریاں پوری کرنے کے لئے پرعزم ہے۔ کوئی بھی آئین سے بالاتر نہیں۔ وہ قومی جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ اجلاس میں لاہو،پشاور،سندھ بلوچستان،اسلام آباد ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان،وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس،چیف جسٹس آزاد کشمیر اور رجسٹرارز نے بھی شرکت کی۔انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت عوام کو فوری ور سستے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے جبکہ عدلیہ کو آئین کی محافظ ہونے کے ناطے با اختیار افراد کی طرف سے ماورائے آئین اقدامات اور اختیارات سے تجاوز پر نظر رکھنا ہوتی ہے تاکہ ملک میں آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کو فروغ ملے۔چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی کےلئے وکلاءکی تحریک نے عوام میں یہ امید پیدا کی کہ ملکی معاملات آئینی اقدار کے مطابق چلیں گے۔عوام نے عدلیہ سے یہ امید وابستہ کرلی ہے کہ وہ ان کے حقوق کا تحفط کرے گی اور قصور واروں کو سلاخوں کے پیچھے بھیج کر معاشرے میں امن قائم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ پر عوام کے بڑھتے ہوئے اعتماد پر پرا اترنے کےلئے قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے معاشرے کے ہر طبقہ کو فوری اور سستا انصاف فراہم کرنے کےلئے نظام عدل سے منسلک تمام سٹیک ہولڈرز کی باہمی مشاورت سے جوڈیشل پالیسی مرتب کی۔ تاکہ عوام کو بلا خوف و رعائت انصاف فراہم کیا جائے۔اس پالیسی کا مقصد پرانے مقدمات کو نمٹانا بھی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس بات کا مطالبہ کیا گیا تھا کہ جوڈیشل افسروں کی تعداد بڑھائی جائے مگر حکومت نے آٹھ ماہ گذرنے کے بعد بھی عمل نہیں کیا۔اجلاس میں نیشنل جوڈیشل پالیسی کے تحت ضلعی عدالتوں میں زیر التواءپرانے کیسوں کو نمٹائے جانے کے حوالے سے ضلعی عدلیہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے تحقیقاتی ایجنسیو ں کی طرف سے بروقت چالان جمع کرانے کی کارکردگی اور جیلوں کی ماہانہ معائنہ رپورٹ کا بھی جائزہ لیا گیا ۔

یہ بھی پڑھیں  ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال اوکاڑہ میں سہولتیں ہونے کے باوجود عوام کو سہولتیں میسر نہیں

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker