انور عباس انورتازہ ترینکالم

چیف الیکشن کمیشن صاف شفاف الیکشن کروانے میں ناکام

anwar abasملک میں بڑی بڑی باتیں کی جا رہی ہیں۔نگران حکومتیں اپنے با اختیار ہونے کا واویلا کر رہی ہیں۔ کوئی انتخابات کو فری انیڈ فئیر کرانے کا کریڈٹ لینے کی تگ و دو میں زمین و آسمان کے قلابے ملا رہا ہے۔چیف الیکشن کمشنراور اس کا عملہ اپنے نمبر ٹانگنے کی کوشش میں ہے۔وہ بھی اس بے بنیاد دعوی کے ساتھ کہ اس نے ملک میں آزادانہ،منصفانہ اور غیر جانبدارانہ الیکشن کروا کر قوم کے ساتھ کیا ہوا اپنا وعدہ پورو کر دکھایا ہے۔جبکہ یورپین یونین کے مبصرین کی ٹیم کے سربراہ اور دیگر ارکان نے جو حقائق بیان کیے ہیں ۔وہ الیکشن کمیشن کا منہ چڑا رہے ہیں۔تحریک انساف کے مرکزی رہنما وکلاء تحریک کے سرخیل اور لاہور کے حلقہ این اے 125سے تحریک انصاف کے امیدوار حامد خاں ایڈووکیٹ نے مسلم لیگ نواز کے نو منتخب رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق کے خلاف رٹ دائر کر دی ہے،لاہور ،کراچی اور دیگر شہر وں میں سونامی کی لہریں سراپا احتجاج بنی ہوئی ہیں۔شہر میں صاف اور شفا الیکشن کے بارے میں بیشمار کہانیاں گردش کر رہی ہیں۔تحریک انصاف کے احتجاج سے اگر کوئی پریشان ہوا ہے تو وہ مسلم لیگ نواز اور اسکے نو منتخب ارکان اسمبلی ہیں۔ان سب سے زیادہ خواجہ سعد رفیق اور ایاز صادق متفکر دکھائی دے رہے ہیں۔شائد انہیں اس بات کا خوف دامن گیر ہے کہ کہیں سونامی کے احتجاج کی لہریں پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں نہ لے لیں۔ جس ولولے اور جوش سے لوگ اپنے چھینے ہوئے حق کو واپس لینے کے لیے میدان میں نکل رہے ہیں ۔اس سے تو یہی لگتا ہے کہ الیکشن کے صاف اور شفاف کرائے جانے کے لیے جس قدر شور شرابی کیا جا رہا ہے وہ سب ڈھونگ کے سوا کچھ نہیں ہے۔الیکشن کمیشن اور نگران حکومتوں کے دعوؤں میں قطعی کو ئی صداقت نہیں ہے۔نگران وزیر اعظم اور نگران صوبائی وزرائے اعلی کس قدر با اختیار تھے اس کا بھانڈابھی اس وقت ہی پھوٹ گیا تھا جب نگران وزیر داخلہ ملک حبیب نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے بڑے فخر سے کہا تھا کہ’’ اس وقت پاکستان میں میاں نواز شریف واحد سیاست دان ہیں۔ جو ملک کے لیے اپنے دل میں درد رکھتے ہیں۔میں اپنا ووٹ مسلم لیگ نواز کو دوں گا۔‘‘ جس پر ملک بھر میں سیاسی جماعتوں اور میڈیا میں کافی لے دے ہوئی ۔پیپلز پارٹی سمیت بہت ساری دوسری جماعتوں کی جانب سے نگران وزیر اعلی سے نگران وزیر داخلہ ملک حبیب کے خلاف کارروائی کرنے کے مطالبات سامنے آئے ۔لیکن وزیر اعظم میر ہزار خاں کھوسو کو اسکی جرات نہیں ہوئی کہ وہ اپنے ہی وزیر داخلہ سے جواب طلبی کرتے اور انہیں ان کے منصب سے برطرف کر دیتے۔اور ثابت کرتے کہ واقعی وہ بطور نگران وزیر اعظم بے اختیار نہیں ہیں۔مجھے تو آج تک اس بات کی سمجھ نہیں آ سکی کہ نگران وفاقی وزرا کے ناموں کا انتخاب کس نے کیا تھا اور کہاں سے ان کے نام وفاقی وزرا کی فہرست کی زینت بنے۔کیا یہ نام واقعی نگران وزیر اعظم اور وزرائے اعلی کے منتخب کردہ تھے؟ یا کہیں اور مقام سے فراہم کیے گے تھے۔اسی طرح مجھے چیف الیکشن کمشنر کے با اختیار ہونے میں بھی شک و شبہ ہے۔کیونکہ انکی کسی نے ایک نہ سنی ہے۔ ریٹرنگ افسروں سے لیکر اوپر تک کے حکام اپنی مر ضی و منشا ء کے مطابق الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزیاں کرنے کے مرتکب پائے گے۔ الیکشن کمیشن ’’ پاکی دامان اتنی بھی نہ بڑھائے کہ حقائق منظر عام پر آنے سے اسے منہ چھپانا پڑے۔ فی الوقت فی الوقت فافن نامی غیر سرکاری تنظیم کی ابتدائی رپورٹ اور یورپین یونین کی رپورٹس کا مطالعہ الیکشن کمیشن کے لیے ضروری ہے۔فافن نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں بہت ہی سنگین نوعیت کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کر کے الیکشن کمیشن کی پریشانیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔گو کہ ’’فافن‘‘ نے مسلم لیگ کی ایک اعلی شخصیت کے اصرار پر رپورٹ کے معض مندرجات کی وضاخت کر دی ہے۔لیکن ’’فافن‘‘ اور یورپین مبصرین کی ان رپورٹس اور سابوق امریکی سفیر کمعون منٹر کی جانب سے انتخابات کو سو فیصد صاف اور شفاف نہ ہونے کے بارے میں بیان نے الیکشن کمیشن کے ساکھ پر لاتعداد سوالیہ نشانات لگا دئیے ہیں،الیکشن کمیشن کو برحال انکے جوابات دینے ہوں گے۔الیکشن کمیشن کے یہ احکامات بھی ’’ہوا ‘‘ میں اڑتے دکھائی دئیے گے۔جن میں کہا گیا تھا ۔کہ ڈایوٹی پر حاضر نہ ہونے والے سرکاری ملازمین کے ساتھ سختی سے نبٹا جائیگا۔اور انکے ورنٹ گرفتاری بھی جاری کیے جائیگے۔لیکن پنجاب کے بے شمار پولنگ اسٹیشنز پر تعینات کیے گے عملہ الیکشن ڈایوٹی سے غیر حاضر رہا لیکن انکے خلاف کسی قسم کی تادیبی کارروائی ابھی تک عمل میں نہیں لائی گئی۔کالا شاہ کاکو مریدکے ضلع شیخوپورہ کے پولنگ اسٹیشن پر آخری روز تک پرزائیڈنگ آفتسر تعینات ہونے پر کوئی سرکاری ملازم آمادہ نہیں تھا۔میری اطلاع کے مطابق جمعرات کی شام تک ماتحت عملہ اپنے پرزائیڈنگ کی تلاش میں تھا۔لیکن اپنے پرزائیڈنگ افسر سے رابطہ کرنے پرانہیں معلوم ہوتا کہ اسے نے اپنی ڈیوٹی تبدیل کروائی لی ہے ۔لہذا وہ اپنے نئے پرزائیڈنگ افسر کو تلاش کرے۔اس کی دہشت کی وجہ مسلم لیگ نواز کے امیدوار قومی اسمبلی رانا تنویر حسین کے حامیوں کی دہشت بتائی جاتی ہے۔اسی طرح الیکشن کمیشن اپنے اس دعوے کو پورا ثابت کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے کہ الیکشن ڈایوٹی دینے والے عملے کو بھرپور تحفظ فراہم کیا جائیگا اور ووٹوں کی گنتی کے بعد نتائج فوج کی نگرانی میں ریٹر نگ افسران کے پاس لائے جائیگے ۔لیکن بہت ساری جگہوں پر مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ پرزائیڈنگ افسران بغیر کسی سکیورٹی کے نتائج لیکر ریٹرنگ افسراں کے پاس پہنچے۔
ان اطلاعات کا الیکشن کمیشن کے پاس کیا جواز ہے کہ کئی انتخابی حلقوں کے نتائج کا اعلان الیکشن کے چار روز بعد تک نہیں کیا جا رہا۔اخترجان مینگل اور دیگر سیاسی جماعتیں اسی بات کا رونا رو رہی ہیں۔کہ انکی کامیابی کو شکست میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ماضی میں نتائج کے اعلان میں اس قدر تاخیر دیکھنے میں اور سننے میں نہیں آئی۔
انتخابات کے بارے میں قوم کو امید دلائی گئی تھی کہ یہ پاکستان کی تاریخ کے صاف اور شفاف ہوں گے۔ لیکن الیکشن کے بعد ہر طرف سے صدائے احتجاج بلند ہو رہی ہے۔جماعت اسلامی سے لیکر جمعیت علائے اسلام تک اور مسلم لیگ کے تمام گروپوں سے پیپلز پارٹی تک سبھی ان انتخابات میں دھاندلیوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ الیکشن کمیشن کو لاہور ،کراچی،اور راولپنڈی اسلام آباد سمیت دوسرے شہروں میں دئیے جانے والے دہرنوں سے بلند ہونے والی صداؤاں پر جتنی جلد ممکن ہو سکے کان دھرے۔کہیں ایسا نہ ہو کہ بات اور حالات کنٹرول سے با ہر ہو جائیں۔میرے خیال میں’’فخروبھائی‘‘ قوم سے کیے گے اپنے عہد کو مبھانے میں ناکام رہے ہیں۔یہ بات انہیں بھی تسلیم کر لینی چاہئے۔     note

یہ بھی پڑھیں  بھائی پھیرو:تھانہ سٹی کی حدود میں شہر کے تاجر پر قاتلانہ حملہ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker