پاکستانتازہ ترین

ہم اقلیتوں کے حقوق کا ہر حال میں تحفظ چاہتے ہیں ، چیف جسٹس

chief justiceاسلام آباد(بیورو رپورٹ) سپریم کورٹ نے اقلیتوں کی اراضی اور عبادت گاہوں کے قبضے کے حوالے سے ازخود نوٹس کیس کی سماعت 25 جولائی تک ملتوی کردی جبکہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اقلیتوں کے حقوق کا ہر حال میں تحفظ چاہتے ہیں ، پوری دنیا میں ہماری بدنامی ہورہی ہے ادارے اپنا کام کریں تو کسی پر کوئی حرف نہیں آئے گا ، ڈی ایچ اے اور محکمہ اوقاف مل کر فیصلہ کرلیں بصورت دیگر عدالت فیصلہ کرے گی ، انہوں نے یہ ریمارکس گزشتہ روز دیئے ہیں ۔ اوقات کی اراضی کے حوالے سے کیس کی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ سابق ویکو ٹرسٹ بورڈ کے چیئرمین کی عدم موجودگی کی وجہ سے عدالتی حکم پر عمل نہیں ہوسکا ہے بتایا گیا ہے کہ وہ دل کا مریض ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان میں دل کا اچھا علاج ہوتا ہے ان کو بلائیں ایف آئی اے کی رپورٹ کا جائزہ لیا ہے انہوں نے صحیح خطوط پر تحقیقات کی ہیں ۔ آصف ہاشمی کو خود پیش ہونا پڑے گا ۔ جسٹس جواد نے کہا کہ سابق چیرمین آجائیں سارے معاملات سامنے آجائینگے ۔ سرور نامی وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے اوقاف کی اراضی کے حوالے سے کرپشن کے بارے درخواست دے ر کھی ہے لاہور میں چار موضعات کی جگہ ہے 844 کنال 5مرلہ زمین لاہور میں ہے موضع لدڑ ہے اور یہ سب ڈیفنس کا علاقہ ہے یہ زمین ڈی ایچ اے کو فروخت کردی گئی تھی جسٹس جواد نے کہا کہ یہ تو ٹرسٹ کی اراضی ہے وکیل نے بتایا کہ یہ اراضی ڈی ایچ اے کے ساتھ تبدیل کی گئی ہے اوقات کو پیش کی گئی تھی اگر وہ زمین لیں تو وہ بعد میں ڈویلپ کرکے دینگے جو اراضی ڈویلپ نہیں ہو زمتن برد ہو وہ اراضی قابل فروخت ہوتی ہے یہ آباد زمین تھی جسٹس جواد نے کہا کہ اراضی فروخت نہیں کی جاسکتی تھی یہ زمین جہاں ہوگی وہیں رہے گی اس کا کسی اور سے تو تعلق ہو نہیں سکتا ۔ جسٹس عظمت نے کہا کہ اس زمین کو کس طرح فروخت کردیا گیا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ باری باری سب کو بلائیں گے اور اس کا جواب دیئے جائیں یہ پہلا معاملہ ڈی ایچ اے کے ساتھ اراضی کی تبدیلی کا ہے ڈی ایچ اے والے آجائیں اس دوران ڈی ایچ اے کے وکیل قاسم ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور عدالت میں جواب پیش کیا عدالت نے کہا کہ آپ تو ڈی ایچ اے لاہور کی جانب سے پیش ہورہے ہیں راولپنڈی اسلام آباد کی طرف سے کون پیش ہورہا ہے قاسم ایڈووکیٹ نے بتایا کہ تین تجاویز دی گئی تھیں 1946 کینال اراضی شروع تھی تین موضع تھے ڈیرہ پے کی اراضی نہیں لی گئی تھی وہ گوردوارہ کی اراضی تھی جو آج بھی برقرار ہے موتہ سنگھ او دوسرے موضع کے حوالے سے دو معاہدے کئے گئے 843کنال اراضی ڈی ایچ اے کی فروخت نہیں ہوئی تھی اس پر معاہدہ کیا گیا عدالت نے حافظ ایس اے رحمان سے پوچھا کہ کیا اوقاف یہ اراضی ڈی ایچ اے کو فروخت کرسکتے ہیں ؟ ان کی بجائے قاسم نے بتایا کہ اراضی فروخت کی جاسکتی ہے وفاقی حکومت اگر ہدایات دے تو اراضی فروخت کی جاسکتی ہے اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وفاقی حکومت نے کیا جواب دیا تھا اس پر عدالت کو بتایا گیا کہ وفاقی حکومت نے اعتراض لگا دیا تھا اپریل 2009ء میں اجازت دے دی تھی چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت کی منظوری کی دستاویز کہاں ہیں ؟ ایس اے رحمان نے وفاق نے اجازت نہیں دی تھی اوقاف بورڈ نے رابطہ کیا تھا اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے کارروائی کیوں نہیں کی ؟ عدالت کو بتایا گیا کہ کارروائی کیلئے رابطہ کیا گیا تھا اس حوالے سے جواب آپ کے پاس موجود ہے وفاقی حکومت نے بھی اس حوالے سے جواب دائر کررکھا ہے چیف جسٹس نے کہاکہ آپ کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ویکو ٹرسٹ بورڈ نے صحیح فیصلہ کیا تھا مگر بعد میں چیئرمین آصف ہاشمی نے معاملات ادھر ادھر کردیئے آپ نے کارروائی کیوں نہیں کی آپ کیخلاف فیصلہ آیا ہوا ہے ہم کیا کریں ؟ جب آپ نے خود کچھ نہیں کیا اگر عدالت ازخود نوٹس نہ لیتے تو آپ کیا کرتے پورا محکمہ ملا ہوا تھا جسٹس عظمت نے کہا کہ انہوں نے کیا کرنا تھا انہوں نے کہا کہ سو جائے جسٹس جواد نے کہا کہ بورڈ کے کتنے ممبرز ہیں ایس اے رحمان نے کہا کہ سولہ ممبرز ہوتے ہیں چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے ڈی ایچ اے کے ساتھ ڈیل کو حتمی شکل دی تھی آپ نے تاریخ تک دے دی تھی۔ ایس اے رحمان نے بتایا کہ ڈیل ابھی بھی مکمل نہیں ہوئی معاملات کے حوالے سے رپورٹ آپ کے پاس موجود ہے میٹنگ منٹس بھی لگے ہوئے ہیں بورڈ نے فیصلہ کیا تھا کہ ڈیل نہیں ہوگی مگر سابق چیئرمین نے حکم دیا کہ ڈیل مکمل ہوگی اس حوالے سے آکشن کی گئی ایک موضع سے 75ایکڑ اراضی جبکہ دوسرے موضع سے 42جبکہ تیسرے موضع سے 26ایکڑ اراضی حاصل کی گئی بورڈ نے دو آکش کرانے کا کہا تھا دو ڈویلپ پلاٹوں کا فیصلہ کرلیا گیا تھا جس میں 33فیصد اراضی ڈویلپ کرکے ڈی ایچ اے نے واپس کرنا تھی جسٹس عظمت نے کہا کہ بتائیں کہ اس اراضی کو لیز پر دیا گیا تھا ایس اے رحمان نے کہا کہ غیر قانونی طریقے سے زمین دی گئی اسلام آباد کی حد تک معاملہ فائنل ہوگیا بورڈ نے بھی اس معاملے کو تسلیم کرلیا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا ک ہم نے کہا تھا کہ جب تک فیصلہ نہیں ہوگا آپ تعمیرات نہیں کرینگے ایف آئی اے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بے ایمانی کی گئی ہے اور جو معاہدہ کیا گیا تھا اس پر عمل نہیں کیا گیا پرانے فیصلے کو بائی پاس کرکے نقصان کیا گیا ڈی ایچ اے نے پہلے لے کر اراضی خالی کرنا تھی جسٹس جواد نے کہا کہ یہ قانونی معاملات ہیں پیسے لین
ا دینا کے معاملات بعد میں آئیں گے وکیل نے بتایا کہ ڈی ایچ اے کے ساتھ معاملات سے ٹرسٹ کو دو سے تین ارب روپے کانقصان ہوا ہے اس دوران ڈائریکٹر لیگل اعظم خان ایف آئی اے بھی موجود تھے انہوں نے بھی ایف آئی اے کی رپورٹ پیش کی تھی چیف جسٹس نے کہا کہ 33فیصد قبضہ دیا جانا تھا کوئی نہیں دیا گیا ۔ عدالت کو بتایا گیا کہ اپریل 2008ء میں اراضی لیز پر دی گئی چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے 33فیصد پلاٹس دینا تھے بعد میں 25فیصد پر معاملات طے کئے گئے اعظم خان سے عدالت نے پوچھا ک کیا تازہ ترین رپورٹ لائے ہیں اس پر اعظم خان نے تازہ ترین رپورٹ عدالت میں جمع کروائی عدالت کو بتایا گیا کہ آصف ہاشمی کی وجہ سے 108 کنال اراضی کا فرق پڑا تھا جسٹس جواد نے کہا کہ ڈی ایچ اے پیسے دے رہا ے اور یہاں ہمیں بتایا جارہاہے کہ انہیں کچھ نہیں پتہ چیف جسٹس نے کہا کہ ویکو ٹرسٹ اور چیئرمین آصف ہاشمی نے شفاف معاہدہ نہیں کیا دو طریقے ہیں یا تو ہم یہ کیس ایف آئی اے کو بھجوادیں کیس چلتا رہے اور جو سزا ہوگی ہوگی دوسرا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ زمین واپس کردی جائے پھر آصف ہاشمی کا معاملہ رہ جائے گا اس کو بعدمیں دیکھ لیں گے جسٹس جواد نے کہا کہ سیکشن 19 کے تحت معاہدہ سرے سے ہی غلط تھا اس کے لئے ٹرسٹ کو سول سوٹل فائل کرنا پڑے گا اگر یہ معاہدہ ہو بھی جاتا ہے تب بھی معاملات واضح نہیں ہوں گے پونے دو کروڑ روپے کا خرچ کہاں رکھیں گے ؟ عدالت کو بتایا گیا کہ ساڑھے بارہ کروڑ روپے 108 کینال اراضی پر ڈی ایچ اے نے ڈویلپمنٹ کے لئے خرچ کیا جسٹس عظمت نے کہا کہ کاغذوں میں تو یہ اقلیتوں کی عبادت گاہیں ہیں مگر اس پر اصل قبضہ کس کا ہے عدالت کو بتایا گیا کہ ڈی ایچ اے کا قبضہ ہے ڈی ایچ اے کا 244 کنال اراضی پر قبضہ ہے چیف جسٹس نے کہا کہ آزادانہ طور پر قبضے کے معاملے کا جائزہ لے لیتے ہیں جسٹس عظمت نے کہا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ لیز پر دی گئی اراضی پر کتنے پیسے لئے جارہے ہیں قبضہ کسی اور کا ہے چالیس ہزار روپے فی کینال ٹھیکہ لیا گیا تھا اس کا تحفظ کیسے ہوگا کیا ضمانت دیتے ہیں کہ اس اراضی پر اگلے ہفتے قبضہ نہیں ہوگا جسٹس جواد نے کہا کہ اصل مسئلہ قبضہ لیناہے ٹرسٹ غیر قانونی قبضے کیسے ختم کرائے گا ؟ ڈی ایچ اے کی جانب سے بتایا گیا کہ 80 کروڑ روپے کا فائدہ ٹرسٹ کو ہوچکا ہے جسٹس جواد نے کہا کہ آپ کے کاغذات ٹائٹل ٹرانسفر نہیں ہیں صرف خالی کاغذی معاہدے ہیں حقیقت اس کے برعکس ہے 80کروڑ روپے کدھر ہیں ہشام سردار ایڈووکیٹ نے بتایا کہ 98کروڑ روپے واپس آئے جو اس عدالت کے نوٹس لینے کی وجہ ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے پلاٹ 33فیصد نہ دینے کی جہ سے جو نقصان ہورہا ہے اس کو کون پورا کرے گا ہشام سرور نے کہا کہ جس کو پیسے دیئے گئے اس کا کوئی پتہ نہیں ہے جسٹس جواد نے کہا کہ ہم شفافیت دیکھنا چاہتے تھے جو نظر نہیں آئی قانونی طور پر شاید ایسا کیا جاتا ممکن نہ ہو تفتیش فوجداری طریقے سے ہوگی پہلے سول طریقے سے واپس آئیں گے یہ ہمارا کام نہیں تھا جو ہم نے نوٹس لیا ہے ادارے خود بہتر کام کریں تو عدالت کو کبھی مداخلت کی ضرورت نہیں رہے گی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جسٹس ریٹائرڈ صبیح الدین احمد نے کوئٹہ میں ایک مشنری سکول واپس کرایا جسٹس عظمت نے کہا کہ جس کی ذمہ داری تھی انہوں نے ذمہ داری پوری نہیں کی لگتا یہی ہے کہ وہ اس قابل تھے ہی نہیں چیف جسٹس نے کہا کہ جو شخص آئین کی پابندی نہیں کرتا اس کو اس آئین کے تحت انصاف کے حصول کا حق نہیں حامد خان آصف ہاشمی کے رویے کی وجہ سے کیس چھوڑ چکے ہیں 33فیصد پر بات کریں تو ٹھیک ہے ہم اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں چیف جسٹس نے کہا کہ اقلیتوں کو جتنا تحفظ دے سکتے ضرور دینگے جسٹس عظمت نے کہا ایک لاکھ چالیس ہزا روپے فی کینال اراضی ویکو ٹرسٹ نے فروخت کی ہے زندگی اتنی آسان نہیں جتنی لگتی ہے کراس چیک کے ذریعے دیئے گئے آٹھ کروڑ روپے ٹریس ہوچکے ہیں یا نہیں اس پر عدالت کو بتایا گیا کہ یہ ایک کروڑ اسی لاکھ روپے تھے آٹھ کروڑ رویپ نہیں تھے جسٹس جواد نے کہا کہ اگر ڈی ایچ اے ولی ہے تو پھر ہم اس کے مرید بن جاتے ہیں کہ جس کو پہلے پتہ چل جاتا ہے کہ فلاں اراضی کا معاملہ ہمارے حق میں ہوجائے گا آپ تو بہت کچھ پہلے جان جاتے ہیں آپ نے نذیر احمد پاور آف اٹارنی والا بھی ڈھونڈ لیا اور اس کا ذہن بھی پڑھ لیا کہ یہ معاملہ آپ کے حق میں ہوجائے گا ہشام سرور نے بتایا کہ ان پیسوں سے اسٹاک ایکسچینج سے 73 کروڑ روپے کے شیئرز کی خریدوفروخت کی گئی جسٹس جواد نے کہا کہ جو فوجداری معاملات میں ملوث ہیں ان کیخلاف ضرور کارروائی ہوگی چیف جسٹس نے کہا کہ ہم اقلیتی کے معاملات کا تحفظ کرنا چاہتے ہیں عدالت نے کیس کی سماعت پچیس جولائی تک ملتوی کردی

یہ بھی پڑھیں  پانچویں کے بعد ہشتم کا امتحان ختم کرنے کافیصلہ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker