پاکستانتازہ ترین

آئین کےتحت کسی کو مکمل استثنیٰ حاصل نہیں،چیف جسٹس

 اسلام آباد(بیوروچیف) سپریم کورٹ آف پاکستان میںتوہین عدالت کے نئے قانون کے خلاف دائر آئینی درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں5رکنی لارجر نےکی،دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 248میں کسی کو بھی مکمل استثنیٰ حاصل نہیں ہے اور مخصوص استثنیٰ صرف دفتری امور میں حاصل ہے۔ درخواستوں کی سماعت کرنےوالے5رکنی لارجربینچ  میںجسٹس میاں شاکر اللہ جان،جسٹس تصدق حسین جیلانی،جسٹس جواد ایس خواجہ اورجسٹس خلجی عارف حسین شامل ہیں ۔توہین عدالت کے نئےقانون کے خلاف آئینی درخواستوں میں وفاقی حکومت کو وزارت قانون و انصاف و پارلیمانی امور کےذریعے فریق بنایا گیا ہے۔ سپریم کورٹ میںکیس کی سماعت شروع ہوئی تو وفاق کےوکیل عبدالشکور پراچہ نے موقف اختیار کیا کہ انہیں کل ہی وکیل مقرر کیا گیا ہےجس کی وجہ سے کیس کی تیاری نہیں ہے یہ اہم کیس ہےاس لئےتیاری کےلئے مزید وقت دیا جائےتاہم چیف جسٹس نےان کی درخواست مسترد کردی۔انہوں نےیہ بھی کہاکہ مقدمے کی اہمیت کے پیش نظرفل کورٹ مقدمےکی سماعت کرےجس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بینچ کیسا ہو یہ عدالتی استحقاق ہے، اس بنچ میں بھی سینئر ججز شامل ہیں، اس بات کو رہنے دیں۔ اس موقع پراٹارنی جنرل نے عدالت سے کہاکہ ملکی تاریخ میں ایسا کیس پہلےکبھی نہیں آیا، کیس انتہائی اہم ہےتیاری کےلئےکم ازکم2 ہفتے دئیے جائیںجس پرچیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ کے ایک3 رکنی بینچ نے ماضی میں ایک اسی طرح کےکیس کی سماعت کی تھی، انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ بنچ بھی سینئر ججوں پر مشتمل ہے، معاملہ بہت اہم ہے جو عدلیہ کی آزادی سے متعلق ہےاس لئے جلد فیصلہ ہونا چاہیے۔
بینچ میں شامل جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا کہ توہین عدالت کا قانون ہمیشہ سے موجود ہے اور جب تک قانون کی حکمرانی ہے اس وقت تک توہین عدالت کا قانون موجود رہے گا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل14جولائی کو سپریم کورٹ نے توہین عدالت کے نئے قانون کے خلاف دائر آئینی درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے وزیر اعظم راجا پرویزاشرف ، چیئرمین سینٹ نیر بخاری اور اسپیکر قومی اسمبلی  فہمیدہ مرزا،وزیر قانون ،کیبنٹ ڈویژن اور وفاق کو نوٹس جاری کیےتھےجس کے بعد سماعت 23جولائی تک ملتوی کردی گئی تھی۔
دوسری جانب توہین عدالت کے قانون کے خلاف ملک بھر کے وکلاء آج یوم سیاہ منا رہے ہیںاوربار ایسوسی ایشنز اور با ر کونسلوں پر کالے جھنڈے لہرا دیے گئے ہیں جب کہ وکلاء بازوٴں پر کالی پٹیاں باندھے سراپا احتجاج ہیں۔احتجاجی میٹنگ سے خطاب کر تے ہوئے چیئرمین ایگزیکٹو پاکستان بار کونسل فرحان معظم کا کہنا تھا کہ توہین عدالت کا نیا قانون، کالا قانون ہے اور یہ عدلیہ کو زیر کرنے کی کوشش ہے۔ہڑتال کی وجہ سےوکلاء آج عدالتوں میں بھی پیش نہیں ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں  پری پول دھاندلی کی فقروں پرچیف جسٹس ہنس پڑے،دوبارہ پڑھنے کاحکم

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker