تازہ ترینکالممحمد شاہد محمود

چیف جسٹس کا کشمیریوں کے زخموں پر مرہم

shahid mehmood logoچیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی 1948ء کی قراردادوں پر عمل نہ ہونا مذاق ہے۔ چھ دہائیاں گزر جانے کے باوجود قراردادوں پر عملدرآمد نہ ہوسکا۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آزاد کشمیر میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیر میں بھی ظلم وستم ہورہا ہے۔ کشمیر میں ظلم و ستم پر امن کے عالمی ٹھیکیداروں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ خوشی ہے ہر شعبہ زندگی میں کشمیری پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کام کر رہے ہیں۔ کشمیر کے حوالہ سے چیف جسٹس آف پاکستان کا بیان انتہائی خوش آئند ہے جس میں انہوں نے اقوام متحدہ کی کارکردگی کو بھی چیلنج کیا ہے ۔کشمیریوں پر بھارتی مظالم کی ایک لمبی اور نہ رکنے والی داستان ہے۔ جس طرح اسرائیل نے فلسطینیوں کی زمین پر قبضہ کرکے انہیں مہاجر بنا دیا ہے، بالکل اسی طرح بھارت کشمیریوں کی زمینوں پر قبضہ کرکے کشمیریوں کو کشمیر سے بیدخل کرنے کی حکمت عملی پر عمل کر رہا ہے۔ 2008ء میں بھارتی فوج نے 38لاکھ ایکڑ اراضی پر قبضہ کرلیا تھا۔اس کے بعد مختلف سکیموں کے ذریعے کشمیریوں کی زمین ہتھیائی جارہی ہے۔بھارتی فوج جس زمین پر قبضہ کرتی ہے وہاں جنگلات جلا دئیے جاتے ہیں اور فصلیں تباہ کردی جاتی ہیں۔حریت رہنماسید علی گیلانی کہتے ہیں کہ ہندو پنڈت برادری 1990ء میں کشمیر چھوڑ کر چلی گئی تھی اب اس برادری کو دوبارہ یہاں آباد کیا جارہا ہے اور ان کی آباد کاری کے لئے الگ زمین حاصل کی جارہی ہے۔ بھارت کے ریٹائرڈ فوجیوں کو بھی مقبوضہ کشمیر میں بسانے کی کوشش ہو رہی ہے اور ان کی آباد کاری کے لئے زمین حاصل کی جارہی ہے۔ ایک اور منصوبہ یہ ہے کہ بھارت کے ہندو سرمایہ کاروں اور تاجروں کو مقبوضہ کشمیر میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دی جارہی ہے اور انکے کارخانوں کیلئے زمینیں خریدی جارہی ہیں۔سری نگر کے انجینئرنگ کالج میں پہلے صرف کشمیری طلبہ کو داخلہ ملتا تھا۔ اب اسی کالج میں بھارت کے دوسرے شہروں سے بھی طلبہ کو یہاں داخلے دئیے جارہے ہیں۔سرینگر کے میڈیکل کالج میں بھی بھارت بھر کے طلبہ کو داخلہ دیا جارہا ہے۔ کشمیری نوجوانوں کو تعلیم کی سہولتوں سے محروم کیا جارہا ہے۔سید علی گیلانی نے کہا کہ میں دو سال سے نظر بند ہوں جبکہ دوسرے لیڈر جن میں شبیر شاہ شامل ہیں، گھروں میں نظر بند ہیں۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ کشمیر میں حالات بگڑ رہے ہیں لیکن پاکستان کی سیاسی قیادت ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچ رہی ہے۔ کشمیری پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔کشمیریوں کو پاکستان سے عقیدت کی سزا دی جارہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی ذرائع کے دعوے کے مطابق گرفتار چاروں نوجوان سرحد پار مجاہد کمانڈر سے رابطے میں تھے اور کسی مقام پر حملے کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔شمالی کشمیر کے ڈی آئی جی غریب داس کے مطابق فوج کو اس بات کی مصدقہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ مجاہدین کا ایک گروپ سوپور اور بارہمولہ میں نیشنل ہائی وے پر سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنارہا ہے۔ غریب داس نے کہاکہ گرفتار اشفاق کو وادی میں حرکت المجاہدین کو از سر نو متحرک کرنے کی ہدایات ملی تھیں اوراس نے کچھ اور لوگوں کو اپنے ساتھ ملالیا تھا۔گرفتار نوجوانوں کے لواحقین نے واقعہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اورمظاہرین نے بھارتی فوج کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ لواحقین نے مطالبہ کیا کہ زیرحراست نوجوان بے گناہ ہیں انہیں فی الفور رہا کیا جائے۔ وادی کے آرونی گاؤں میں مجاہدین کے گھات لگا کر حملہ میں ایک سب انسپکٹر سمیت دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔مقبوضہ کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں بھارتی فوج نے سرچ آپریشن کے دوران 5بے گناہ کشمیریوں کو فائرنگ کے شہید کردیا ۔حریت رہنماؤں نے بھارتی فوج کے ہاتھوں پانچ بے گناہ کشمیریوں کی شہادت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے کشمیریوں کو ان کا حق حاصل کرنے سے نہیں روک سکتا۔عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارتی فوج کی ظالمانہ کارروائیوں کا نوٹس لے اور کشمیریوں کا قتل عام رکوانے کیلئے اپنا اثر رسوخ استعمال کرتے ہوئے بھارت پر دباؤ ڈالے۔حریت کانفرنس (گ) نے کشمیری طلباء پر ادھے پور کالج میں حملے کیخلاف ریاستی انتظامیہ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی انتظامیہ اور قابض بھارتی فوج انسانی حقوق کی کھلے عام خلاف ورزیوں میں مصروف ہیں ۔ حکومت معاملے کو محض زبانی جمع خرچ سے ٹالنے کی پالیسی پر کاربند ہے جبکہ دختران ملت کی صدر سیدہ آسیہ اندرابی نے کہا ہے کشمیری نوجوان آزادی کے حصول کیلئے کچھ بھی کرسکتے ہیں ۔ وادی بھر میں پاکستانی جھنڈوں کا لہرانا جمہوریت کے دعویدار بھارت کیلئے ایک سبق ہے۔ بھارت نے امیرا تھن ریس کوبڑی تشہیر دی ہوئی تھی یہاں کھلے عام پاکستان کے جھنڈے لہرانا،ترانے گانا اور پاکستان کے حق میں نعرے لگانا بھارت اور اسکے بہی خواہوں کو نہ صرف شرمندہ کرگیا تھا بلکہ یہ سب ان پر بجلی بن کے گر اتھا۔ بھارت کو نوشتہ دیوار پڑھ لینی چاہیئے کہ کشمیری نوجوانوں نے آزادی پانے کا حتمی فیصلہ لیا ہوا ہے۔ تحریک حریت نے ریاستی پولیس کی جانب سے گھر گھر چھاپوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس مقبوضہ جموں وکشمیر میں خوف ودہشت پھیلا کر اشتعال انگیزی کو ہوا دے رہی ہے اور کشمیری نو جوانوں پر تشدد ڈھاکر ان کو گھر بار چھوڑ کر متبادل راستہ اختیار کرنے کے لیے مجبور کررہی ہے۔ تحریک حریت نے ان کی گرفتاری کو بلاجواز قرار دیا اور کہا شہداکی نماز جنازہ میں شرکت کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔ تحریک حریت نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں، ایشیا واچ، آئی سی آر سی اور ایمنسٹی انٹرنیشنل سے اپیل کی کہ وہ جموں کشمیر کی موجودہ سنگین صورتحال کا جائزہ لے کر جوانوں پر کئے گئے تشدد اور ان کی بلاجواز گرفتاریوں کا نوٹس لیکر بھارتی فورسز کے مظالم پر روک لگائیں۔ جماعۃ الدعوۃ کے امیر پروفیسر حافظ محمد سعید نے مظفر آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت سمیت پوری دنیا پر باور ہو گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل بغیر خطہ میں قیام امن ممکن نہیں۔مقبوضہ کشمیر میں اگر پاکستانی پرچم لہرایا جارہا ہے تو یہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہے۔ اسے کوئی نہیں روک سکتا۔پاکستانی پرچم لہرانے والے کشمیریوں پر بغاوت کے مقدمے درج کرنا قابل مذمت ہے۔ امریکہ پاکستان اور چین کے خلاف بھارت کو استعمال کررہا ہے۔امریکی وزیر خارجہ نے بیان دیا ہے کہ پاکستان بھارت مذاکرات کے ذریعے سے مسئلہ کشمیر حل کریں مگر مذاکرات کے لیئے تشدد کا خاتمہ ضروری ہے۔ تحریک آزادی کشمیر میں سب سے مرکزی کردار مقامی کشمیریوں کا ہے جنہوں نے لاکھوں قربانیاں دیں اور لاکھوں لوگوں نے ہجرت کی۔ بھارت کشمیر میں پنڈتوں کو بسا کر جموں والی صورتحال پیدا کرنا چاہتا ہے۔ انڈیا اور امریکہ کی دوستی نہیں بلکہ آپس میں معاشقہ چل رہا ہے اور معاشقہ ہمیشہ جذبات اور جنونیت پر مبنی ہوتا ہے اس وقت امریکہ بھارت کی زبان بول رہا ہے کیونکہ بھارت اُس کی معشوقہ ہے جو بازار کی عورت کی طرح کا کردار ادا کررہا ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ناکامی ہے کہ بھارت اور امریکہ کو منہ توڑ جواب نہیں دے رہا۔ عالمی سازش ہے کہ پاکستان کو اقتصادی‘ دفاعی اور ایٹمی لحاظ سے کمزور کیا جائے ‘ اقتصادی راہداری منصوبہ ناکام کرنے اور ایٹمی پروگرام ختم کرنے کیلئے سازشیں ہو رہی ہیں جس کیخلاف ہم کردار ادا کرینگے۔ بھارت طاقت و قوت کے بل بوتے پر مظلوم کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کچلنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ تحریک آزادی کشمیر جاری ہے اور جاری رہے گی۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button