بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

چائلڈ لیبرز۔۔جہالت کا سونامی

bashir ahmad mirہر دور میں تعلیمی پالیسی کا اعلان کیا جاتا رہا ہے کہ اب عوام کے لئے تعلیمی مسائل و مشکلات نہیں رہیں گئیں مگر ایسے اعلانات بالا خانوں میں گردش کرتے جا رہے ہیں مگر زمین پر ان کی کوئی شکل نظر نہ آنا ایک المیہ سے کم نہیں ۔گذشتہ دنوں صدر پاکستان آصف علی زرداری نے بھی تعلیمی اصلاحات کے حوالے سے ایک اعلان کیا جس کی روشنی میں اب کوئی بچہ تعلیم کے حصول میں دشواری محسوس نہیں کرئے گا۔یقیناًاس اہم پالیسی پر عمل در آمد کب اور کیسے ہوگا اس کا علم نہیں ،کیونکہ آمدہ تین ماہ بعد انتخابات ہو رہے ہیں اگر پی پی پی بر سرِ اقتدار نہیں آتی تو حسب معمول ہمارے منصوبہ ساز نئی ڈگر پر چل کر ماضی کی کسی مثبت پالیسی کو کیوں اپنانے دیں گے ،کیونکہ انہیں اپنی بہاریں کسی دوسرے کے ساتھ گذارنی پڑہیں گئیں ۔ویسے بھی ہماری بیوروکریسی بڑی ہو شیار ہے وہ ہوا کا رخ پہلے سے دیکھ کر آگے بڑھتی ہے ،لاکھوں روپے کے ماہانہ مراعات لینے والے ایسا رسک نہیں لے سکتے کہ وہ خوشامد کے بجائے حقیقی تبدیلی کی جانب بڑھنے دیں۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق ہمارے وطن عزیز میں ایک کروڑ دو لاکھ پانچ سال سے پندرہ سال تک کے بچے مزدوری کر رہے ہیں جو کل آبادی کے تناسب سے چھ فی صد ہیں ۔یہ بچے گھریلو حالات سے مجبور ہو کر بڑے لوگوں کے فارم ہاؤسز ،کوٹھیوں یا پھر ہوٹلوں میں مشقت کر کے اپنے والدین کا سہارا بن رہے ہیں ۔جنہیں کہیں بھی روزگار نہیں ملتا وہ بھیک مانگ کر پیٹ کا دوزخ بھر رہے ہیں ۔ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو کچرا چن کر دیہاڑی لگاتے ہیں ۔انتہائی افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ یہی بچے دہشت گردوں کا ایندھن بنتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمارے حکمران صرف چھ فی صد چائلڈ لیبر کو کنٹرول نہیں کر سکے ،پھر حکمرانوں کو عوام دوستی ،امن ،خوسحالی کا دعویٰ کرتے ہوئے ذرا بھر شرم بھی نہیں آتی کہ ان کی رعایا میں معمولی شرح کی حد تک اصلاحات کے ثمرات کیوں نہیں سامنے آ رہے ہیں ۔
دراصل تعلیم کے شعبہ میں بھی مافیا نے جب سے انگڑائی لی ہے اس وقت سے تعلیم کے فروغ میں کمی واقع ہو تی جا رہی ہے۔جب میرٹ سے ہٹ کر اساتذہ بھرتی ہوں،من پسند ای اورز،ڈی ڈی اورز ،ڈی اورز اور اس طرح دیگر منصوبہ ساز آفیسران تعینات ہوں تو وہ کیا تبدیلی لائیں گے انہوں نے تو وہی کچھ کرنا ہے جو ان کے پیشواء کہیں گے۔ایک اندازے کے مطابق سال بھر میں تعلیمی اداروں میں تعطیلات زیادہ اور تعلیمی سرگرمیاں کم ہوتی ہیں ۔ اکثر استاد بچوں کے سامنے سگریٹ پیتے ہیں ،جن اداروں میں کمپیوٹرز ہیں وہاں طلباء کو جدید تعلیم دینے کے بجائے گیمز اور انتہائی با وثوق ذرائع کے مطابق غیر اخلاقی فلمیں بھی دکھائی جاتی ہیں ۔ایسے ماحول میں بچوں پر کونسا مفید اثر پڑ سکتا ہے اس نے پھر آوارگی کا سہارا لینا ہے ،کہتے ہیں کہ استاد بچوں کے لئے آئیڈیل ہوتے ہیں لیکن یہ تعداد خال خال نظر آتی ہے۔پھر المیہ یہ ہے کہ بھاری فیسیں ،مہنگی کتب اور گڈھوں جیسے وزن والا بیگ اٹھانے والے بچے کیا خاک تعلیم حاصل کر سکتے ہیں ۔ایک عجب نظام تعلیم ہے جہاں پانچویں ،اٹھویں کے بورڈز بناکر تجارت کی جا رہی ہے ۔اگر وہی امتحانات اسی ادارے میں منعقد ہوں تو ایک چوتھائی اخراجات آتے ہیں مگر غریب عوام کو ذلیل کرنے کے لئے ایسے قاعدے ضابطے بنائے جاتے ہیں کہ عام آدمی اپنے بچوں کو سکول کے بجائے ہوٹلوں پر برتن مانجھنا بہتر تصور کرتا ہے۔
یہ رونا صرف کسی ایک ضلع،صوبہ اور کسی ایک ادارے کا نہیں یہ المیہ پورے پاکستان کے تعلیمی اداروں کا ہے۔اگر ہمارا تعلیمی نظام ٹھیک ہو جائے تو پھر مستقبل کے پندرہ بیس سالوں کے بعد خوشگوار تبدیلی کی امید کی جا سکتی ہے لیکن یہاں ہر ایک ’’ڈھنگ ٹپاؤ‘‘ اور لنگ جاؤ ‘‘ پالیسی اختیار کیئے ہوئے ہے ایسے حالات میں کسی تبدیلی کا مستقبل قریب میں آنے کے خواب دیکھے تو جا سکتے ہیں مگر حقیقی تبدیلی ظہور پذیر ہونا محال ہے۔جہاں نالائق،خوشامد پسند،کاسہ لیس،بزدل ،غیر سنجیدہ پن کے حامل لوگ سفارش ، دھونس و دھاندلی سے ہماری تقدیر کے مرقوم بن جائیں وہاں کسی غیبی مدد کی ہی دعا کی جا سکتی ہے۔
تعلیم واحد ایک راستہ ہے جس کی بنیاد پر ملک کی بہتر تعمیر ممکن ہے۔جب تعلیم میں تجارت کا عنصر غالب آجائے تو پھر قوم کے مستقبل کو سنوارنے کی توقع کم ہو جاتی ہے۔دنیا بھر میں بنیادی تعلیم کو مفت اور لازمی قرار دیا گیا ہے بلکہ جن ممالک نے سائنس و ٹیکنالوجی میں قوم رکھا ہے ان کی ترقی کا بنیادی راز ہی فروغ تعلیم سے ممکن ہوا۔ہمارے ملک میں ہر سال نصاب کیوں تبدیل ہوتا ہے کھبی کسی نے اس بارے ذرا سوچنے کی کوشش کی ہے دراصل ایک مافیا جو راتوں رات کروڑ پتی بننے کی دوڑ میں لگا ہے وہ ملی بھگت سے ہر سال چند کتب کے ابواب بدلنے کی ترغیب دیتا ہے اس طرح کروڑوں روپے کمانے کے ذرائع دریافت کئے جاتے ہیں ۔چونکہ جہاں ’’آوئے کا آوہ‘‘ بگڑا تگڑا ہو وہاں ایسا ہونا معمول ہوتا ہے۔5ویں،8ویں جماعتوں کے بورڈز کس لئے بنائے گئے ہیں ۔یہ سب مال بناؤ مہم کا حصہ ہیں ،پھر لیٹ فیس کے بہانے ڈبل فیس ،ٹرپل فیس تک وصول کرنے کے ذرائع کیوں پیدا کئے گئے ہیں ؟یہی نہیں نصابی کتب کے ہر سال نرخ بڑھانے سے کونسا طبقہ فیضیاب ہو رہا ہے۔
ان بنیادی خرابیوں کا تذکرہ اس لئے کیا جاتا ہے کہ ہمیں مل کر آنے والی نسل کو بچانا ہے ورنہ ہمارا نام و نشان تک نہیں رہے گا۔طبقاتی نظام تعلیم نے ایسی تفریق قائم کر لی ہے کہ اب غریب اعلیٰ تعلیم کا سوچ بھی نہیں سکتا۔آج جو حالات کا رونا رویا جاتا ہے اس کا منبع ہمارا نظام تعلیم ہے ورنہ آج ہمارے بیوروکریٹس آنے والی نسلوں کو بہتر مستقبل دینے کی اہلیت رکھتے،ہمارے عوامی نمائندے خوشامد پسندوں کے نرغے میں آنے کے بجائے اصول پرستی سے عوام کو سہولیات فراہم کرتے ،ہمارا ہر ادارہ درست سمت پر رواں دواں ہوتا۔مگر ایسا کہیں نظر نہ آنا ہماری غفلت،لاپروائی ،ذاتی مفادات اور جاہ پرستی کا پیش خیمہ ہے ۔
تعلیمی بحران قوموں کو ختم کر دیتا ہے ۔دشمنانِ وطن ہزاروں تعلیمی اداروں کو خیبر پختونخوا میں مسمار کر رہے ہیں ،جس سے لا تعداد بچے زیور تعلیم سے محروم ہو رہے ہیں ۔اس کے ابھی منفی اثرات محسوس تو نہیں ہو رہے ہیں لیکن یہ ایسا جہالت کا سیلاب جو سونامی اور سینڈی سے بھی خطرناک ہے جو ہمارے دروازے پہ دستک دے رہا ہے جس سے نمٹنے کے لئے دیر پا منصوبہ بندی کی ضرورت ہے یہی سونامی اور سینڈی دہشتگردوں کے خام مال کی صورت میں ہماری بربادی کا پیش خیمہ بن رہے ہیں ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے اہل علم و دانش مستقبل بینی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان خامیوں اور کمزوریوں کا تدارک کریں جن کے سبب پوری قوم دشمن کے نشانے پر پہنچ چکی ہے۔امید کی جاتی ہے کہ اہل وطن اپنا آج آنے والے کل کے لئے وقف کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں  سبی سمیت ڈویژن بھر میں جاری وزیراعلیٰ بلوچستان کے فراہم کردہ ترقیاتی منصوبوں کی مد میں ملنے والے فنڈز کو کسی صورت ضائع کرنے کی اجازت نہیں دیں گے

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker