تازہ ترینڈاکٹر فوزیہ عفتکالم

چائلڈ لیبر

dr.fouzia iffatصبح صبح سردی سے کپکپاتے ہاتھوں سے یخ پانی سے برتن دھوتے ہوئے نو سالہ عامر کو دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔سوچوں کا در کیا وا ہوا بہت کچھ قطار در قطار ذہن کے پردے میں آنے لگا ۔بے اختیار دل نے کہا یہ سراسر ظلم ہے ۔دماغ نے دل کی بات پر استہزائیہ لہجے میں قہقہ لگایا ۔دل نے دوبارہ سرزنش کی کہ کیا یہ اس کے اسکول جانے کی عمر نہیں ؟ذہن نے ہونہہ کہ کر منہ پھیر لیا ،
یہ ساری کشمکش اس نو سالہ عامر کے لئے تھی جو سامنے والے ہوٹل میں ملازم تھا ۔جسے عرف عام میں چھوٹا کہا جاتا ہے ایسے کئی چھوٹے ہمیں اپنے اردگرد نظر آتے ہیں ۔گندے لباس ،کالے ہاتھ،گریس اور آئل سے بھرے داغ زدہ چہرے جن سے معصومیت چھین کر نوعمری میں ہی فکروتردد کی چھاپ لگادی گئی ان کے ہاتھوں میں کتابوں کے بجائے اوزار تھما دئیے گئے ۔ان کے بے فکر ذہنوں میں خوش رنگ تتلیوں اور پریوں کی کہانی کے بجائے فکرِ معاش کی فکروں کے ڈھیر لگا دئیے ہیں ۔قصور کس کا ھے؟والدین کا جنہوں نے انہیں جنم دیا یا پھر معاشرے کا کہ جس نے ان کو اس مقام پر پہنچا دیایا پھر حکومت کاجو انکے گھر کے بوجھ اٹھانے میں ان کی مدد نہیں کر سکتی یا اس غربت کا جس کی وجہ سے وہ اپنی آنکھوں سے خواب نوچ کر فکر سجا لیتے ہیں ۔شاید ہم سب قصوروار ہیں یہ ہماری اندر کی کرپشن ہے جو ہمیں کسی ظلم کے خلاف کوئی قدم اٹھانے سے روکتی ہے اور ہم کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے بلی کے انتظار میں ہیں کہ آئے اور ہمیں کھا جائے۔نہ جانے ہم اتنے بے حس کیوں ہیں ؟
اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کی مزدوری چائلڈ لیبر کے زمرے میں آتی ہے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے مطابق اٹھارہ سال سے کم عمر بچے جو مختلف جگہوں پر کام کرتے ہیں چائلڈ لیبر کہلاتا ہے۔20 نومبر کویہ دن منایا جاتا ہے۔جس میں چند دھواں دار تقریریں اور ایک عمدہ ضیافت ہوتی ہے۔اور بس دن کا اختتام ہو جاتا ہے ۔کوئی ان مسائل کی طرف توجہ نہیں دیتا جس کی وجہ سے چائلڈ لیبر جنم لیتا ہے۔دنیا ایک گلوبل ولیج ہے اور چائلڈ لیبر اس میں ہونے والا ایک اہم ایشو جس پر صدیوں سے بات ہوتی رہی ہے اور ہوتی رہے گی اگرچہ ان مسائل سے ساری دنیا دوچار ہے مگر خاص طور پر افریقہ،امریکہ اور ایشیا میں بہت عام ہے۔ایشین ممالک 110مین پاور پر مشتمل ہے اعدادوشمار کے مطابق جائزہ لیں تو انڈیا میں دس سے چودہ سال کی عمر میں مزدوری کرنے والے بچوں کی تعداد45ملین کے لگ بھگ ہے برازیل میں 7 ملین نائجیریا میں 10ملین ،بنگلہ دیش میں 8سے12 ملین اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق پاکستان میں 11ملین بچے مزدوری کرتے ہیں ۔اور ان میں آدھی تعداد کی عمر10سال ہے جبکہسے ان کی تعداد1996 سے ان کی تعداد6سے7 سال تک آگئی اب یا حال ہے کہ کل آبادی کا چوتھائی حصہ مزدور بچوں پر مشتمل ہے۔اگرچہ پاکستان کے آئین کے مطابق چودہ سال سے کم عمر بچے کسی فیکٹری یا کار خانے میں کام نہیں کر سکتے کیونکہ جبری مشقت اور انسانی تجارت اسلامی جمہوریہ کے کاغذوں میں ممنوع ہے ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بچے مزدوری کیوں کرتے ہیں ؟ اس کی بڑی اور بنیادی وجہ غربت ہے اس بہادری کے دور میں پیٹ پالنا ہی بہت بہادری کا کام ہے ۔کمعمری میں سر سے والدین کا سایہ اٹھ جانا،گھر میں بہت ذیادہ افراد کا ہونا اور کمانے والا ایک ہو تو یہ صورتحال ہوتی ہےآخر زندگی کی گاڑی بھی تو دھکیلنی ہے۔ مختلف ہوٹلوں،دکانوں،ورکشاپوں ،سگنل پہ ھاتھ میں کپڑا تھامے،یہ سب بچے ہمارے لئے سوالیہ نشان ہیں کیا ان کا دل نہیں کرتا کہ یہ سکول جائیں مگر کیا تدارک اس غربت کا؟ کیا کوئی حل نہیں آخر کب تک ہم ان مسائل کی چکی میں پستے رہیں گے اس ظلم کو سہتے رہیں گے اور ان نودمیدہ کلیوں کو کچلتا دیکھتے رہیں گے۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button