تازہ ترینعلاقائی

چینوٹ:میرے آرڈرکومعطل کرنےکاہائی کورٹ کےپاس اختیار ہی نہیں۔EDO

چنیوٹ/لالیاں﴿بیورو رپورٹ﴾EDOچنیوٹ مہر اشرف ہرل کے مبینہ ایمائ پر مختلف عناصر کیطرف سے ملنے والی سنگین نوعیت کی دھمکیاںتحفظ کی استدعا پر EDOنے مذکورہ خاتون ٹیچر کی جبری پوسٹنگ کر دی جبکہ کنٹریکٹ سیٹ پر پوسٹنگ نہیں ہو سکتی متاثرہ ٹیچر فرخندہ اختر نے حصول انصاف کیلئے ہائی کوڑت سے رجوع کر لیا اور مسٹر جسٹس علی باقر نجفی نے دعران سماعت پوسٹنگ آرڈر معطل کرتے ہوئے مذکورہ ٹیچر کو اپنی سیٹ پر ہی کام کرنے کی اجازت دے دی تاہم عہدہ کے نشہ میں سرشار EDOنے عدالت کا حکم ماننے سے نہ صف انکار کر دیا ۔ یہاں تک کہہ دیا کہ میرے آرڈر کو معطل کرنے کا ہائی کورٹ کے پاس اختیار ہی نہیں ہے ۔ بعدازاں کورٹ آرڈر کی کاپی جب DCOچنیوٹ کو دی گئی تو DCOچنیوٹ نے فریقین کی درخواست پر نظر ثانی کا حکم جاری کرتے ہوئے 10یوم کے اندر اندر ہائی کورٹ کو رپورٹ بھجوانے کا آرڈر دیا ہے۔واضع رہے کہ EDOنے جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوران انکوائری چند بھٹہ مزدوروں کے بیانات قلمبند کر لئے کے ٹیچر فرخندہ دوران ڈیوٹی سکول میں مذہبی منافرت پیدا کرتی ہے۔ستم ظریفی کی انتہا ہے کہ ان بھٹہ مزدوروں کا ایک بھی بچہ اس سکول میں زیر تعلیم نہ ہے محض رقابت کی بنائ پر ان مزدوروں سے رٹے رٹائے بیان دلوائے گئے جن کا حقیقت سے سور کا بھی کوئی واسطہ نہ ہے۔ ادھر سکول میں زیر تعلیم بچوں کے والدین کا کہنا ہے کہ فرخندہ اختر نامی ٹیچر سے کسی قسم کی شکائت وغیرہ نہ ہے یہ سب کچھ ایک خاتون ٹیچر امتہ الحسیب کی شرارت سے ہو رہا ہے کیونکہ وہ اپنی 20سالہ سروس کے دوران گورنمنٹ پرائمری سکول پٹھانوالی سے ایک بھی بچی کو 5ویں جماعت پاس نہ کروا سکی ہے جبکہ فرخندہ اختر کی تعیناتی کے دوران سکول میں بچیوں کی تعداد میں نہ صرف اضافہ ہوا ہے بلکہ بچیوں کی قابلیت اور کامیابی کا گراف بھی کئی درجے بڑھ گیا ہے۔ مقامی لوگوں نے فرخندہ اختر کی تعیناتی کو برقرار رکھنے کا پُرزور مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  سندھ بھرمیں ہڑتال،کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker