تازہ ترینعلاقائی

چنیوٹ: وزیر اعلیٰ پنجاب کے چنیوٹ دورہ کی وجہ سے سائلین خوار ہو گئے

چنیوٹ (بیورو رپورٹ)وزیر اعلیٰ پنجاب کے چنیوٹ دورہ کی وجہ سے سائلین خوار ہو گئے ،پنجاب کے تما م ڈیپارٹمنٹس کے لوگ گذشتہ ایک ہفتے سے روزانہ کی بنیاد پر چنیوٹ یاترا میں مصروف ہیں نہ کو ئی پٹواری نہ کوئی پولیس آفیسر جسکا بھی پوچھیں وہ وزیر اعلیٰ کے جلسہ کو کامیاب کر نے کی خاطر چنیوٹمیں موجود ہے نہ کو ئی تحصیل دار حتیٰ کہ ان کے چپڑاسی بھی دستیاب نہیں ہیں ایک رپورٹ کے مطابق تحصیل آفس بھوآنہ ،تھا نہ بھوآنہ و لنگرانہ سمیت دیگر تمام صوبائی محکموں کے اہلکار وزیر اعلیٰ پنجاب کی آمد کے سلسلہ میں چنیوٹ اپنی ڈیوٹیاں سر انجام دے رہے ہیں کچہریوں میں لوگ اپنے کاغذات بغلوں میں دبائے ایک سے دوسرے آفس کے چکر کاٹتے نظر آتے ہیں جب بھی کسی پٹواری ،گرداور یا تحصیل دار کا پوچھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ جی چنیوٹ وزیر اعلیٰ آر ہے ہیں ان کے استقبال اورجلسہ گا ہ ی رونقوں کی بحالی کے لیے وہیں موجود ہیں یہ بات بھی درست کہ وزیر اعلیٰ پنجاب چنیوٹ میں اسٹیل ملز کا افتتاح کر ے آرہے ہیں جس سے چنیوٹ کے لوگوں کو روزگار بھی ملے گا ترقی بھی ہو گی مگر کیا ضروری تھا کہ اس کے لیے لوگوں کو زبردستی بھیڑ بکریوں کی طرح کرایے کی گاڑیوں میں بھر بھر کے پنڈال میں پہنچا یا جاتا ؟ہر پٹواری کے ذمے ایک بس یا دو ہائی ایس ویگنیں بمعہ بندے لگائی گئی ہیں ا پٹواری پریشان کہ ایک تو گاڑی کا کرایہ دوسرا بندون کو تلاش کر کے گاڑی بھر کے لیجانا ڈی سی اوچنیوٹ کی جانب سے اے سی صاحبان کو ہدایت ان کی جانب سے تحصیل دار اور پھر نیچے پٹواری ،لطف کی بات تو یہ تھی کہ میاں شہباز شریف کو اپنی مقبولیت کا پتا تب چلتا ان کو اپنی حکومت کی دس ماہ کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے دیکھان چا ہیے تھا کہ لوگ ان سے کتنی محبت کرتے ہیں لوگوں کو زبردستی پنڈال کی جانب نہ دھکیلا جاتا بلکہ وہ خود اپنے مھبوب وزیر اعلیٰ کی محبت میں کھنچے چلے آتے دوسرا مسلم لیگ ن کی مقامی تنظیمیں کہا ں گئیں جو دعویٰ محبت کرتی تھیں دفاتر میں لوگوں کا رش مگر متعلقہ اہلکار موجود نہیں کیوں کہ سب کی ذمے داری وزیر اعلیٰ کو پروٹوکول دینا ہے ڈی سی او کی واہ واہ تب ہو گی جب مجمع زیادہ ہوگا مجمع زیادہ تب ہو گا جب پٹواری گاڑیاں بھر بھر کے لائیں گے عوام جائیں جہنم میں وزیر اعلیٰ کا استقبال ضروری کہ عوام کے کام ؟جتنا خرچہ خادم اعلیٰ کے اس دورہ پر کیا جارہا ہے یہی عوای فلاح و بہبود پر لگا دیا جا تا تو کیا ہی بات تھی یا پھر میاں صاحب ایسی پبلسٹی اپنے پیسوں سے کریں تو عوام خود بخود ان کے جلسوں میں شرکت کریں گے کسی پٹواری کو مجبور کر کے بندے نہیں لانے پڑیں گے چند گھنٹوں کے لیے ایک ماہ سے تیاریاں وقت کا ضیاع ،لوگوں کو پریشانی مگر خادم اعلیٰ کی پگ اونچی رہے تو پٹواری زندہ رہ سکتے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button