تازہ ترینعلاقائی

چنیوٹ:خادم اعلیٰ پنجاب کا ’’پڑھالکھا پنجاب‘‘ ضلع چنیوٹ کے ہزاروں بچوں کا تعلیمی مستقبل تاریک کرنے کا منصوبہ بےنقاب ہوگیا

چنیوٹ(بیورورپورٹ)خادم اعلیٰ پنجاب کا ’’پڑھا لکھا پنجاب ‘‘ضلع چنیوٹ کے ہزاروں بچوں کا تعلیمی مستقبل تاریک کرنے کا منصوبہ بے نقاب ہو گیا محکمہ ایجوکیشن کے پڑھے لکھے فنکاروں نے چنیوٹ کے پورے گاؤں کو ان پڑھ رکھنے کے منصوبے پورا زور لگا دیا پروگرام یوپی ای کے تحت دیا گیا ٹارگٹ ’’خانہ پوری‘‘ کرتے ہوئے سرکاری کاریگروں نے اپنے دفتروں میں ہی پورا کردیاٹبہ اڈواں کے 168بچے تاحال سکول کی بجائے گلیوں میں خاک چھانتے نظرآرہے ہیں دوسری طرف الاصلاح ہائی سکول کی تعداد سرکاری رجسٹروں میں چودہ سو جبکہ اصل میں چھ سو کے قریب نکلی ۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب کا 36واں ضلع بننے والے چنیوٹ میں ابھی بھی بہت سے ایسے علاقے ہیں جہاں کے بچے سکول نہیں جاتے اور نہ ہی انتظامیہ کی طرف سے انہیں سکول کی طرف جانے کے لیے کوئی حکمت عملی اپنائی گئی ہے حکومت پاکستان اور پنجاب نے اساتذہ اور مختلف دیگر اداروں کے ذریعے یوپی اور یوایس ای سروے کروایا جس میں پورے ضلع کے ہر گھر اور گاؤں میں بچوں کو ان کی بنیادی سہولت تعلیم دینے کے لیے گھر گھر مہم شروع کی گئی اس سلسلہ میں ضلع چنیوٹ کے محکمہ ایجوکیشن کو سترہ ہزاربچوں کو سکول داخل کرانے کا ٹارگٹ دیا گیا ان بچوں کے داخلے کا ٹارگٹ محکمہ ایجوکیشن نے سو فی صد پورا کرکے حکومت کو رپورٹ بھیج دی جو شاید دفترمیں ہی مکمل کیا گیا کیونکہ ٹبہ اوڈاں کے تاحال 168بچے بچیاں تعلیم کے زیور سے آراستہ ہونے کی بجائے گلیوں میں خاک چھانتے اور والدین کے ساتھ کھیتوں میں کام کرتے نظر آتے ہیں اس علاقے کے مکینوں کا کہنا ہے کہ متعد د بار محکمہ ایجوکیشن کی توجہ اس طرف کرائی گئی اور ان بچوں کے نام بھی خود لکھ کر ان تک پہنچائے گئے لیکن ان کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے دوسری طرف شہر چنیوٹ کے وسط میں واقع گورنمنٹ الاصلاح ہائی سکول کی بلڈنگ کی تعمیر میں تاخیر ہونے کی وجہ سے اس سکول جس میں تین ہزار کے قریب طالبعلموں کی تعداد تھی وہاں اب سرکاری کاغذات میں چودہ سو طالب علم ظاہر کیے جارہے ہیں جبکہ حقیقت میں اس وقت وہاں صرف چھ سو کے قریب طالب علم زیر تعلیم ہیں اساتذہ نے نام نہ دینے کی شرط پر بتایا کہ اگر ہم تعداد کم بتائیں گے تو ہمیں نوکری سے فارغ کردیا جائے گا اس لیے بوگس طالب علم ڈالے گئے ہیں ۔دوسری طرف محکمہ ایجوکیشن کا کہنا ہے کہ ٹبہ اڈواں پر واقعی ہی سکول نہ ہے تاہم اساتذہ کی ڈیوٹی لگادی ہے جو اصل رپورٹ سے آگاہ کریں گے ۔اگر ایسا ممکن ہوا تو ضرور بچوں کو سکول داخل کروائیں گے ۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!