تازہ ترینعلاقائی

چنیوٹ:’’پولیس کی پھرتیاں‘‘پولیس مقابلے میں بیگناہ شخص کو پھڑکا کر اشتہاریوں کا ساتھی ظاہرکردیا

چنیوٹ(بیورو رپورٹ) ’’پولیس کی پھرتیاں ‘‘ پولیس مقابلے میں بیگناہ شخص کو پھڑکا کر اشتہاریوں کا ساتھی ظاہر کرکے ان کے کھاتے میں ڈال دیا اور جان چھڑالی جبکہ اصل ملزمان چار اضلاع کی پولیس کو چکما دیکر بھاگنے میں کامیاب ہو گئے اور’’پولیس دیکھتی رہ گئی‘‘ اہلیان علاقہ اور جائے وقوعہ کے عینی شاہدین نے چنیوٹ پولیس کی جھوٹی کارکردگی کا پول کھول دیا جبکہ دوسری جانب پولیس نے بے گناہ جان سے ہاتھ دھونے والے احمد امین ولد مغلا کے لواحقین کو چپ رہنے کا ’’کیپسول ‘‘کھلا دیا بتایا گیا ہے کہ گزشتہ روز تھانہ صدر کے علاقہ موضع ہر سہ شیخ میں پولیس کو اطلاع ملی کہ وہاں مشہور اشتہاری ملزم وارث گلوتر اپنے یگر ساتھیوں کے ہمراہ موجود ہے جس پر ملزمان کی گرفتاری کے لئے گینڈ آپریشن کیا گیا اور اس آپریشن میں ضلع چنیوٹ،فیصل آباد،حافظ آباد،اور سرگودہا کی پولیس شامل ہوئی تا ہم پولیس پارٹی کو دیکھ کر ملزمان پارٹی نے فائرنگ شروع کردی اور باآسانی بھاگنے میں کامیاب ہوگئے جبکہ معلوم ہوا ہے کہ اسی اثناء ضلع فیصل آباد چک نمبر42ج،ب پکا ڈلا کا رہائشی احمد امین ولد مغلا اپنے کسی ضروری کام کام کے سلسلہ میں قریبی پنڈی بھٹیاں کے علاقہ بہرام کے میں آیا تھاکو چنیوٹ پولیس نے ڈاکوؤں کی مبینہ طور پر فائرنگ کی زد میں آتے ہوئے ہلاک ظاہر کیا گیا جس پر پولیس نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ مذکورہ احمد امین ڈکیت گینگ کا ممبر تھا اور انہی کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا جبکہ اہلیان علاقہ اور جائے وقوعہ کے عینی شاہدین کے مطابق فرار ہونے والے ڈکیت گینگ سے احمد امین کا کوئی تعلق نہ تھا بلکہ احمد امین کسی کام کے سلسلہ میں یہاں آیا تھا اور چنیوٹ پولیس نے مدعا کو بدلنے کیلئے سارا ڈرامہ کیا حالانکہ احمد امین ایک شریف گھرانے سے تعلق رکھتا ہے تاہم پولیس نے مقتول کے لواحقین کو میٹھی گولیاں دیکر معاملے کا رخ بدل دیاہے جب اس سلسلہ میں مذکورہ تھانہ ایس ایچ او چوہدری یونس سے مقتول کے جرائم ریکارڈسے متعلق پوچھا گیا کہ مقتول کے خلاف کتنے مقدمات یا درخواستیں درج ہیں تومذکورہ ایس ایچ او نے بتا یا کہ اب تک مقتول احمد امین کے خلاف تھانہ صدرپولیس چنیوٹ کے پاس کوئی ریکارڈ موجود نہ ہے جبکہ اس سلسلہ میں جب ڈی پی او چنیوٹ سے اس واقعہ کے متعلق رابطہ کیا گیا تو ان سے بات نہ ہو پائی ہے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button