شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / ضلع چکوال کی سیاسی ڈائری

ضلع چکوال کی سیاسی ڈائری

محترم قارعین !ملکی سیاسی حالات میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ ضلع چکوال کا سیاسی ماحول بھی تبدیلی کی طرف گامزن ہے ۔ 1985 ء میں غیر جماعتی الیکشن ہو ئے تھے ۔ جن میں چکوال سے جنرل ( ر) مجید ملک ایم این اے کی سیٹ حاصل کر نے میں کا میاب ہو ئے ۔ اس وقت چکوال کو تحصیل سے ضلع کا درجہ دلوانے کے لئے جنرل (ر) مجید ملک اور چوہدری لیاقت علی خان نے مل کر بھر پور کوشش کی اور چکوال کو تحصیل سے ضلع کا درجہ ملا ۔ اگر 1985 ء کا سیاسی منظر نامہ دیکھا جا ئے تو ن لیگ اس وقت ایک نومولود جما عت تھی ۔ اور جب 1988 ء کے الیکشن آئے تو اس وقت ضلع چکوال ن لیگ کا گڑھ بن کر ابھرا ۔ اور اب تک ن لیگ کی سیاسی پوزیشن ضلع چکوال کے دونوں حلقوں حلقہ NA-60 اورحلقہ NA-61 میں خاصی مضبوط رہی ۔ 2008 ء کے الیکشن میں جب چوہدری پر ویز الہی نے الیکشن لڑنے کا فیصلہ حلقہ NA-61 سے کیا تو اس وقت ایک بار ن لیگ کو سیٹ جیتنا مشکل دیکھا ئی دے رہا تھا لیکن حالات نے ایسا پھیر دیا کہ ن لیگ کے امیدوار سردار محمد فیض ٹمن چند ووٹوں سے جیت گئے ۔ جبکہ ق لیگ کی پوزیشن اس وقت خاصی مضبوط دیکھا ئی دے رہی تھی۔
ن لیگ کے اس امیدواراور اس وقت کے ایم این اے سردار محمد فیض ٹمن پر ایک بار حالات کی گردش نے ایسا جھٹکا لگا یا تھا۔ کہ ملک بھر میں سیاسی جعلی ڈگری کلچرنے ان کو بھی اپنی بھینٹ چڑ ھالیا ۔ اور جس کی وجہ سے سابق ایم اے سردار محمد فیض ٹمن نے استعفیٰ دے دیا تو ن لیگ کی اعلیٰ قیادت کو پریشانی میں ڈال دیا ۔ اس وقت ن لیگ کی اعلیٰ قیادت گومہ گوں کی پوزیشن میں آگئی ۔جب ضمنی الیکشن کے لئے امیدوار کا چنا ؤ کیا جا نا تھا تو ن لیگ کی پا رٹی تقسیم در تقسیم ہو گئی ۔ لیکن اعلیٰ قیادت نے کا رکنوں کو بھی اور تمام امیدواروں کو بھی ایک پلیٹ فارم پر لا نے کے لئے ایڈووکیٹ ملک محمد کبیر کو ٹکٹ جا ری کر دیا تا کہ کا رکنوں کا منہ بند ہو۔ جب کا رکنوں کے دے گئے نا موں میں کا رکن کو ٹکٹ جا ری کیا گیا تو ایک بار حالات ن لیگ کی فیور میں چلے گئے ۔ لیکن جب ن لیگ کی اعلیٰ قیادت نے دیکھا کہ اب حالات حق میں ہیں تو انہوں نے ایم این اے چوہدری ایاز امیر کی بات ما نتے ہو ئے ٹکٹ ایڈووکیٹ ملک محمد کبیر سے واپس لے کر سردار ممتاز خان ٹمن کو دلوا دیا ۔
حالات ایک بار پھر بگڑے ضرور لیکن ن لیگ کی اعلیٰ قیادت نے سب کا رکنوں کو اعتماد میں لے لیا ۔ اور کا رکن ویسے بھی مجبور ہو تے ہیں کیو نکہ ان کے نصیب میں پارٹی کے لئے قربا نیاں ہی ہو تی ہیں ۔ اس کی واضع مثال پی پی پی کے جیا لوں سے ہی لگا ئی جا سکتی ہے کہ جنہوں نے پا رٹی کے لئے جتنی قربا نیاں دیں اتنی کسی پا رٹی کے کا رکنوں نے نہیں دیں ۔ جیلیں پی پی پی کے کا رکنوں نے کا ٹیں ما ریں پا رٹی کی خاطر ان جیا لوں نے کھا ئیں ۔گو ہر پارٹی کے کا رکن اپنی پا رٹی کی خاطر قربا نیاں دیتے ہیں ۔ لیکن پا رٹی کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے کا رکنوں کو اہمیت دیں ٹشو پیپر کی حیثیت نہ دیں کہ استعمال کیا اور پھینک دیا ۔
جب ن لیگ کی اعلیٰ قیادت نے پیپلز پارٹی کے کا رکن اور جیالے کو ن لیگی بنا لیا اور اس کو ٹکٹ جا ری کر دیا تو بظاہر پوزیشن خاصی کمزور دیکھا ئی دینے لگی لیکن ن لیگ کی اعلیٰ قیادت نے کیپٹن صفدر اور حمزہ کا بسیرا ڈلوا دیا حلقہNA-61 میں ۔اور اس وقت ق لیگ کے پا س بھی کو ئی امیدوار میدان میں لا نے کے لئے نہیں تھا تو انہوں نے بھی پو شیدہ طور پر مقامی سطح پر مشاورت کر کے سردار ممتاز خان ٹمن کی حما یت کا اعلان کر دیا تھا بلکہ ق لیگ کے سید تقلید رضا شاہ نے تو ن لیگ کے ضمنی انتخابات کے امیدوار سردار ممتاز خان ٹمن کا جلسہ بھی کروایا ۔ بحرحال سردار ممتاز خان ٹمن پی پی پی کے جیا لے ہو نے کی بجا ئے ضمنی الیکشن کے بعد ن لیگ میں شامل ہو گئے ۔ اور اب تک ن لیگ کے ایم این اے ہو نے کی حیثیت سے ن لیگ میں ہی موجود ہیں ۔ عوامی و سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ سردار ممتاز خان ٹمن ق لیگ کو ہی سپورٹ کرنے کو تیا ر ہیں ۔ لیکن سردار ممتاز خان سے جب اس با رے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس بار ے کو ئی جواب نہیں دیا ۔
ملکی سیاست کے ساتھ ساتھ ضلع چکوال کے حالات سیاسی نقطہ نظر سے واضع ہو نے کا وقت قریب آگیا ہے ۔ اور کون کس پلیٹ فارم پر جا ئے گا واضع ہو نے والا ہے ۔ تحریک انصاف کے ضلعی رہنما ء سردار غلام عباس خان نے پہلے بھی کئی بار اپنے بیان میں یہ بات واضع کہی ہے کہ وہ الیکشن حلقہ NA-61 پر ہی لڑیں گے ۔ لیکن درمیان میں ایسے حالات بنے کہ انہوں نے اپنا ارادہ حلقہNA-61 سے بدل دیا تھا ۔ لیکن اب پھر انہوں نے بہت ہی واضع طور پر کہا ہے وہ الیکشن حلقہNA-61 سے ہی لڑیں گے ۔ ان کا اختلاف سردار محمد فیض ٹمن سے سیاسی ہے ذاتی نہیں ۔ جب کہ اگر دیکھا جا ئے تو دونوں ہی تحریک انصاف کے پلیٹ فارم پر ابھی بھی موجود ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت کس کو ٹکٹ جا ری کر تی ہے کیو نکہ اگر تو سردار غلام عباس خان کو ٹکٹ دیا تو اس سے تحریک انصاف میں واضع انتشار کی فضاء بنے گی ۔ کیو نکہ سردار محمد فیض ٹمن نے بھی الیکشن حلقہ NA-61 سے ہی لڑنا ہے ۔عوامی وسیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ جہاں تک بات ہے سابق ایم پی اے کر نل (ر) سلطان سرخرو کی تو وہ PP-23 سے الیکشن تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے لڑیں گے چاہے NA-61 پر سردار غلام عباس خان ہی کیو ں نہ ہو ۔ ان کو اس سے کو ئی سروکار نہیں ۔ سردار محمد فیض ٹمن کے لئے حالات خاصے بھا ری دیکھا ئی دیتے ہیں لیکن اب آگے آگے دیکھیں ہو تا ہے کیا ۔ کون کس کروٹ بیٹھتا ہے ۔
الیکشن کے دنوں میں کچھ امیدوار فصلی بٹیر ہو نے کا ثبوت دیتے ہیں کہ جب الیکشن کا بگل بجنے کا وقت قریب آ تا ہے تو وہ بھی اپنی گردش حلقہ میں تیز کر دیتے ہیں ۔ جیسے 2008 ء کے الیکشن میں PP-22 کی سیٹ سے ن لیگ کے ہا رے ہو ئے امیدوار پیر نثار قاسم کرسال اور PP-22 کی سیٹ جیتے ہو ئے ق لیگ کے امیدوار سردار خرم نواب اب تک عوام کی آنکھوں سے اوجھل رہے ۔ اور جب دیکھا کہ الیکشن کا بگل بجنے کو ہے تو نمودار ہو گئے ہیں ۔ سردار خرم نواب تو اب PP-22 کا خواب نہیں رکھتے کیو نکہ وہ پی پی پی اور ق لیگ کے متفقہ امیدوار کے طور پر حلقہNA-60 کے امیدوار کا سہرا سجا نے کو تیا ر بیٹھے ہیں ۔ جبکہ پیر نثار قاسم کا ابھی بھی جوش دیدنی ہے کہ آؤٹ آف سکرین رہنے کے باوجود اب پھر PP-22 سے ن لیگ کے امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑنا چاہتے ہیں اور ٹکٹ کے خواہش مند ہیں ۔ چکوال میں ن لیگ کے PP-22 کے امیدوار کے چنا ؤ کے لئے ہو نے وا لے اجلاس میں جو سات خواہش مندامیدوار شامل ہو ئے تھے۔ ان میں پیر نثار قاسم جو جی نے بھی شمو لیت کی ۔ اور ٹکٹ کی خواہش کا اظہار کیا ۔
ضلع چکوال کا مو جودہ سیاسی منظر نامہ یہ بتا رہا ہے کہ حلقہNA-60 پر ق لیگ اور پیپلز پارٹی کا متفقہ امیدوار سردار خرم نواب اور حلقہ NA-61 پر چوہدری پر ویز الہی خود الیکشن لڑیں گے۔ عوامی و سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ قومی کی دونوں سیٹوں پر ق لیگ اپنے امیدوار لا نے کی خواہش مند ہے ۔ جبکہ صوبا ئی سیٹوں پر پیپلز پا رٹی اور ق لیگ کے مشترکہ امیدوار اتفاق رائے سے میدان میں لا ئے جا ئیں گے اور اس کا فیصلہ بہت جلد اعلیٰ قیادت کر ے گی ۔

یہ بھی پڑھیں  رحیم یارخان: پی ٹی آئی کا کارواں چل پڑا ہے، تبدیلی آئی گی، شاہد طالب امیدوار196