تازہ ترینکالممرزا عارف رشید

چھوٹے میاں اگر وزیر پانی و بجلی بن جائیں تو ۔۔۔۔؟؟؟؟؟

Mirza Arifمولانا گھر چل کر گئے مگر پھر بھی بات نہ بن سکی ۔ خبیر پختنخواہ میں جب دال نہ گلی تو مولانا نے سوچا کہ بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی سہی انہیں کشمیر کمیٹی کا چیئرمین‘ وفاق میں تین وزراتیں اور بلوچستان میں بھی دو وزارتیں دی جائیں تو میں ساتھ چلنے کیلئے تیار ہونگے ۔ مولانا کی آرزو تھی کہ مرکز میں بھی انہیں کچھ نہ کچھ ملنا چاہئے کسی بھی جماعت کی حکومت آئے مولانا سب سے آگے آگے ہوتے ہیں ۔ اس مرتبہ میاں برادران کی اتنی مجبوری نہیں تھی کہ وہ مولانا کو پلیٹ میں رکھ کر سب کچھ دیدیتے کیونکہ میاں برادران نے بھی اپنی جماعت سے وزیر بنانے ہیں ۔ مولانا نے پیپلز پارٹی کی حکومت میں مزے تو کر لئے مگر لگتا ہے کہ اب وہ اس مزے سے محروم رہیں گے ۔ دوسری طرف چوہدری نثار علی خان اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میری پاس ایک صوبائی سیٹ ہے تو مجھے وزیر اعلیٰ پنجاب بنایا جائے ۔ چوہدری نثار علی کی خواہش پوری نہ ہو سکی ۔ کیونکہ بعد ازاں وہ اپنی صوبائی سیٹ ہار گئے تھے۔ چوہدری نثار کی قربانی اور وفا کو دیکھا جائے تو میاں برادران کو چاہئے کہ وہ انہیں وزیر اعلیٰ بنا دیتے ۔ میاں برادران کسی سے کم نہیں وزیر اعظم بھی خود اور وزیر اعلیٰ بھی خود رہتے ہیں ۔ جبکہ میاں نواز شریف کاتیسری بار وزیر اعظم کا خواب پورا ہونیوالا ہے ۔ ادھر چھوٹے میاں بھی کسی سے کم نہیں وہ چاہتے ہیں کہ انکی بھی ہٹٹرک پوری ہو جائے اور وہ چاہتے ہیں وزیر اعلیٰ بنیں ۔بڑے میاں صاحب 1980ء سے 1985ء تک فنانس منسٹر رہے اور 1985ء سے 1990ء تک وزیر اعلیٰ پنجاب رہے اور 1990ء سے 1993ء تک وزیر اعظم پاکستان رہے پھر 1997ء سے 12اکتوبر 1999ء تک دوسری مرتبہ وزیر اعظم رہے ۔ 1997ء سے 1999ء تک میاں شہباز شریف بھی وزیر اعلیٰ پنجاب رہے ۔ میاں صاحب کی جماعت 2009ء سے 2010ء تک پیپلز پارٹی کی حکومت کا حصہ رہی ۔2009ء سے 2013ء تک میاں شہباز شریف دوسری مرتبہ وزیر اعلیٰ رہے ۔ تقریباً 26سال تک اقتدار میں رہنے والے میاں برداران نے کبھی اپنی جماعت کے کسی بھی رکن کو اہم عہدہ نہیں دیا ۔ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ وفاق میں جنوبی پنجاب کو ترجیحی دی اور اہم عہدے بھی دیئے ۔ جن میں فاروق لغاری کو صدر پاکستان ‘ 2009ء میں سیّد یوسف رضا گیلانی کو وزیر اعظم پاکستان بنایا انکے نا اہل ہونے کے بعد راجہ پرویز اشرف کو اپنی جماعت کی طرف سے وزیر اعظم پاکستان بنایا ۔ میاں برداران بتائیں کہ انہوں نے اپنے 26سالہ دورِ اقتدار میں جنوبی پنجاب کو کون سی اہم سیٹ دی ؟ 8ستمبر 2013ء کوصدر پاکستان آصف علی زرداری اپنی عہدہ صدرات مکمل کر رہے ہیں اسکے بعد قوی امکان ہے کہ بڑے میاں صدر پاکستان ہونگے ‘ چھوٹے میاں وزیر اعظم پاکستان اور چھوٹے میاں کے بڑے صاحبزادے حمزہ شہباز وزیر اعلیٰ پنجاب ہونگے پوری حکومتی مشینری اپنے ہی گھر رہے گی ۔ لگتا ہے کہ عمران خان کو اپوزیشن تک ہی محدود رکھا جائیگا ۔ عمران خان نے جذباتی انداز میں جو تقریریں کیں اسکا نقصان اٹھاتے ہوئے وہ وزیر اعظم تو نہ بن سکے مگر اپوزیشن لیڈر ضرور بن جائینگے ؟ اس مرتبہ وفاقی حکومت میں آنیوالی اپوزیشن بھی کمال ہے ۔ مخدوم امین فہیم ‘ جاوید ہاشمی ‘ شیخ رشید ‘ شاہ محمود قریشی جیسے لیڈران اپوزیشن میں بیٹھیں گے ۔ شیخ رشید کے اپوزیشن میں آنے سے اسمبلی کا رنگ ہی کچھ اور ہو جائیگا ۔ میاں برداران اس خوشی فہمی میں نہ رہیں کہ حکومت ایسے ہی چل جائیگی کیونکہ یہ 1990کا زمانہ نہیں اب ملکی حالات بدل چکے ہیں ‘ اب تو کچھ کئے بغیر حکومت نہیں چلے گی ‘ میاں بردران کو بہت کچھ کرنا پڑیگا عوام کو ڈلیور کرنا ہو گا۔وگرنہ ایسا نہ ہو کہ وہ کہیں کہ ہم نے حکومت سنبھالی تو خزانے خالی تھے اور اسکے علاوہ اور بھی مشکلات تھیں وغیرہ وغیرہ مگر جس طرح پاکستانی قوم نے شدید گرمی میں باہر نکل کر ووٹ ڈالے اسی طرح اب عوام چاہتے ہیں کہ حکومت بھی باہر نکلے اور عوام کے کام کرے ۔ 11مئی 2013ء کو پاکستان کے عوام جاگ گئے ہیں لگتا ہے کہ وہ اب سونے والے نہیں جس طرح پاکستانی عوام جاگی ہے اسی طرح آئندہ آنیوالی حکومت کو بھی جاگنا ہو گا ۔ ہم ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود بھی دوسرے کے سامنے جھولی پھیلاتے ہیں ۔ پاکستان میں کس شہ کی کمی ہے ۔معدنیات سے مالا مال پاکستان چاہتا ہے کہ کوئی ایسی حکومت آئے جو اس معدنیات کو استعمال کرے اور ملک کو ترقی کی طرف گامزن کرے ۔ قوم چاہتی ہے توانائی کو پورا کرنے کیلئے اپنے ڈیم ہوں ۔ میاں صاحب ہر جلسے میں کہتے تھے کہ کھلاڑی اور اناڑی کچھ نہیں کر سکتے جو کرنا ہے ہم نے کرنا ہے تو میاں صاحب اب آپ کی حکومت ہے کچھ کرنا ہی ہو گا وگرنہ آئندہ انتخابات میں حال پیپلز پارٹی سے بھی بدتر ہو گا ۔ چھوٹے میاں صاحب بہت تجربہ کار ہے ہیں انہوں نے بھی ہر جلسہ میں لوڈشیڈنگ کے خاتمہ کا اعلان کیا ۔ کہیں چھ ماہ ‘ کہیں ایک سال تو کہیں تین سال کا وعدہ کرتے رہے ‘لگتا ہے کہ وہ جذباتی ہو کر یہ بھول جاتے تھے کہ اس سے پچھلے جلسہ میں ‘ انہوں ا نے کیا کہا ہے اور اب کیا کہہ رہے ہیں ؟ دیکھتے ہیں یہ لوڈشیڈنگ کتنا عرصہ میں ختم ہوتی ہے یا ملک سے بجلی ہی نہیں رہتی ؟ چھوٹے میاں صاحب کو چاہئے کہ وہ اس مرتبہ چوہدری نثار علی خان کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنا دیں (مگر وہ اپنی صوبائی سیٹ ہار گئے ہیں ) اور خود وفاق میں وزیر پانی و بجلی بن جائیں کیونکہ جس طرح کا انکا کام کرنے کا انداز ہے تو ہو سکتا ہے کہ 6ماہ میں ہی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہو جائے ۔ چھوٹے میاں صاحب کی طرح انہی کی جماعت سے کوئی اور وزیر لوڈشیڈنگ کے خاتمہ کیلئے وہ کام نہیں کر سکے گا جو چھوٹے میاں صاحب کر سکتے ہیں کیونکہ ملک اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ہی لوڈشیڈنگ ہے ۔ اور عوام چاہتے ہیں کہ آنیوالی حکومت لوڈشیڈنگ کو فوری طور پر ختم کرے ۔ مسلم لیگ (ن) کو صدر زرداری نے ٹف دینے کیلئے ایسے حالات میں حکومت دیدی ہے کہ اگر اب بڑے میاں سمیت چھوٹے میاں اور انکی جماعت نے عوام کو کچھ ڈلیور نہ کیا تو 2018ء میں مسلم لیگ (ن) کا صفایا ہو جائے جبکہ بڑے اور چھوٹے میاں یہ بھی یاد رکھیں کہ انہوں نے ووٹ لوڈشیڈنگ سمیت دیگر بحرانوں سے نمٹنے کے وعدوں سے حاصل کئے ہیں اگر وہ کامیاب نہ ہو سکے تو انکا اور انکے خاندان کا پورے ملک کی ہر چھوٹے بڑی وزارت ہمیشہ کیلئے چھن جائیگی اور پاکستان کے عوام جانتے ہیں کہ میاں برداران یہ صدمہ کبھی برداشت نہ کر سکیں گے ۔note

یہ بھی پڑھیں  بہاول نگر: حساس اداروں اور پولیس کا مشترکہ سرچ آپریشن، 3مشکوک افراد اسلحہ سمیت گرفتار

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker