تازہ ترینکالممسز جمشد خاکوانی

چھوٹے میاںکادھیلا اورلندن کامیل

بھئی سوشل میڈیا والے تو ولی ہو گئے ہیں بڑے میاں صاحب کے لندن جانے سے بھی پہلے بتا دیا تھا کہ پہلے ابا جی جائیں گے پھر دو ہفتے بعد سپتری کی لندن ضرورت پڑے گی لو جی اب درخواست دائر ہو گئی ہے کہ ابا کا چور سوئچ صرف مریم بی بی کو معلوم ہے سو وہی تیمار داری کریں گی،اس سے پہلے ”شاپنگ تھراپی“ اور کھابا تھراپی“ ہو چکی ہے بقایا دو ہفتے عدالتی مہلت کے رہ چکے ہیں اور بٹیا رانی چھ ہفتوں کی رخصت مانگ رہی ہیں کیا بڑے میاں واپس آئیں گے؟تین بار کے وزیر اعظم سے یہ سوال کرنے کی جرات کس کو ہے؟
دو ہٹے کٹے بیٹے ایک بیٹی،ایک بھائی دو بھابیاں، تین جوان پوتے دوپوتیاں،نواسے،نواسیاں،سمدھی،تین بھتیجوں کی بیویاں بارہ نوکر لیکن تیمار داری کے لیے مریم کا جانا ضروری ہے کیوں؟
ایک لمبی سی میز کے ارد گرد خالی پلیٹیں سامنے رکھے میاں صاحب کی پلیٹیں گنتے تصویریں منظرعام پر آئی ہیں ساری نون لیگ کی ٹاپ لیڈر شپ لندن پہنچی ہوئی ہے جو چور چور کے فلک شگاف نعروں کی گونج میں انہی فلیٹس میں پہنچے ہیں جن کی ملکیت سے شریف فیملی انکار کر چکی ہے بلکہ احسن اقبال تو اچھی خاصی کروا کر لندن ایئرپورٹ سے نکلے ہیں اب شنید یہ ہے کہ جس پیسے کی ریکوری ہوئی ہے وہ ملک ریاض کا نہیں شریف فیملی کا ہے ملک ریاض صرف وچولے بنے ہیں شریف لوگ باقائدہ ”پلی بار گین“ کر کے باہر گئے ہیں صرف ان کو یہ ریلیف دیا گیا ہے کہ ان کا نام نہ لیا جائے ظاہر ہے یہ خان صاحب کی ضد تھی جس پر انہیں کہا گیا آم کھائیں پیڑ نہ گنیں کیونکہ ملک میں پیسہ آئے گا تو عوام کو ریلیف ملے گا۔۔نیشنل کرائم ایجنسی نے وہ کام کیا ہے جو کوئی نہیں کر سکا اڑتیس ارب روپے پاکستان کو واپس مل رہے ہیں پراپرٹی تھی حسین نواز کی اور اس کا ایڈریس تھا ”ون ہائیڈپارک “جب خان صاحب کی گورنمنٹ وجود میں آئی تو سپریم کورٹ میں ایک معاملہ تھا جس میں سپریم کورٹ نے کہا کہ بیرون ملک جو پاکستانیوں کی پراپرٹیز ہیں ان کے حوالے سے انفارمیشن ہونی چاہیے تو ایک ”ایسیٹ ریکوری یونٹ“بنایا حکومت پاکستان نے اور شہزاد اکبر صاحب کو اس کا ہیڈ مقرر کیا تو انہوں نے یو اے ای میں یورپ میں ہر جگہ ان کا سراغ لگانا شروع کیا بہت ساری پراپرٹیز بڑے بڑے امیر لوگوں نے خریدی ہوئی تھیں ان میں شریف خاندان نے بھی پراپرٹیز خریدی ہوئی تھیں
جب ایسٹ ریکوری یونٹ نے پکڑنا شروع کیا تو اس میں جسٹس قاضی عیسی فائز کی بھی پ راپرٹی کا نام آیا اور ان کے خلاف بھی جو ریفرنس ہوا سپریم جوڈیشنل کونسل میں تو سپریم کورٹ میں اس کی سماعت چل رہی ہے ہم اس پر ابھی بات نہیں کریں گے لیکن حسین نواز نے جب محسوس کیا کہ انکی پراپرٹی کا پتہ چل جائے گا تو انہوں نے فوری طور پر اس کو بیچا اور جن کو بیچا ان کو فنانس بھی خود کیا ان کا مطمع نظر صرف یہ تھا کہ پراپرٹی فوری طور پر ان کے نام سے اتر جائے اس میں جو بہت سے قانونی تقاضے تھے وہ پورے نہیں کیے گئے منی ٹریل جو تھی اس کے حوالے سے بڑے سوال تھے تو برطانیہ کی نیشنل کرئم ایجنسی تھی اس نے تحقیقات شروع کیں،جب وہ تحقیقات ہو رہی تھیں ان کے بیچ انہوں نے سیٹل منٹ کر لی شریف فیملی نے،انہوں نے ایگری کر لیا کہ ہم سے غلطی ہو گئی ہم غیر قانونی کام کر بیٹھے ہمارے پاس منی ٹریل پتہ نہیں ہے کہ نہیں ہم آپ کو ایک سو نوے ملین پاؤنڈ جو کہ پاکستانی روپوں میں اڑتیس ارب روپے سے کچھ زیادہ ہی بنتے ہیں وہ ہم آپ کو واپس دیتے ہیں (یاد رہے کہ یہ سیٹل منٹ آؤٹ آف کورٹ ہوئی ہے) تو یو کے نیشنل کرائم ایجنسی نے اس آؤٹ آف کورٹ سیٹل منٹ کو تسلیم کر لیا اور اڑتیس ارب روپے ان کے پاس آئے جو وہ حکومت پاکستان کو دے رہے ہیں یہ تو تھی اڑتیس ارب کی کہانی،، ایسٹ ریکوری یونٹس“ بھر پور انداز میں اپنا کام کر رہا ہے آپ پاکستانی میڈیا کے بیانیہ پر مت جائیں یہ انہی کا بیانیہ لے کر چل رہے ہیں اب جو سوال شہزاد اکبر نے اٹھائے ہیں ان کے بارے میں آج ایک سینئر صحافی نے سوال اٹھایا ہے کہ یہ اٹھارہ سوال لے کر شہزاد اکبر عدالت کیوں نہیں جاتے؟ کیا ڈیڈھ سال میں یہ سارے کیس عدالتوں میں نہیں؟کیا پاکستانی عدالتیں اتنی جلدی فیصلے دیتی رہی ہیں کہ جب تک عوام یا تو مایوس ہو جاتی ہے یا بھول جاتی ہے ان اٹھارہ سوالوں کے بارے میں بات کرتے ہیں لیکن اس سے پہلے آپ کو یاد دلا دوں بار بار چھوٹے میاں شہباز شریف فرمایا کرتے تھے،اگر مجھ پر ایک دھیلے کی کرپشن ثابت ہو جائے تو سیاست چھوڑ دونگا جبکہ صرف شہباز شریف کے خاندان کے اثاثوں میں آٹھ ہزار گنا اضافہ ہو چکا ہے 33کمپنیاں بنا کر جعلی ٹی ٹیز کے ذریعے رقم باہر بھیجی جاتی رہی،اب ان اٹھارہ سوالوں کی طرف آتے ہیں جو شہزاد اکبر نے اٹھائے ہیں
وزیر اعظم کے معاون خصوصی احتساب شہزاد اکبر نے اپنی پریس کانفرنس میں انکشافات کیے،شہباز شریف فیملی نے اربوں کی کرپشن کی سیاسی مشیران کے نام پر منی لانڈرنگ کے لیے جی این سی نامی کمپنی بنائی گئی پیسوں کو مختلف اکاؤنٹس میں گھمایا جاتا پھر کیش کرایا جاتا وزیر اعلی ہاؤس میں بیٹھ کر یہ گورکھ دھندہ چلایا گیا
کیا دبئی کی چار کمپنیاں وہی نہیں جو زرداری کے لیے بھی منی لانڈرنگ کرتی رہیں،دو تین سالوں میں جی این سی کمپنی کے ذریعے 8.7ارب روپے منی لانڈرنگ کی گئی،جی این سی کمپنی کے تین مالکان ہیں،نثار احمد گل،ملک علی احمد،اور طاہر نقوی،جی این سی کے تین مالکان میں سے
نثار احمد گل شہباز شریف دور میں چیف منسٹر ہاؤس میں ڈائریکٹر پولیٹیکل افیئرز تھے اور وہ دس سال تک اس عہدے پر رہے ملک علی احمد بھی چیف منسٹر ہاؤس میں سیاسی مشیر رہے،طاہر نقوی اسسٹنٹ جنرل منیجر شریف گروپ آف کمپنی رہے جی این سی سے رقوم نکال کر شہباز شریف کو منتقل کی گئیں نثار احمد گل کے بقول جی این سی حمزہ شہباز چلاتے رہے رقم سلمان شہباز کے پاس جاتی اور وہ ماڈل ٹاؤن میں واقع گھر منتقل کی جاتی،کمپنی کے دو کیش بوائز بھی ہیں جو بیس بائیس ہزار ماہوار لے رہے تھے خود سوچیں بھلا یہ بھی کوئی کام تھا گنتے گنتے بھی کئی نوٹ پار کر لیتے ہونگے قومی مال کو کس بے دردی سے لوٹا گیا اب دونوں کیش بوائے زیر حراست ہیں ان سے تفتیش کی جا رہی ہے چیف منسٹر ہاؤس سے بینک ٹو بینک ٹرانزیکشن کی جاتی رہی نیٹ ورک کا مین آفس ”سی ایم سیکرٹیریٹ پنجاب“ تھا جعلی ٹی ٹیوں کے ذریعے رقم منتقل کی گئی دھیلے والی سرکار بتائیں کیا رقم منتقل کرنے کے لیے ان کی بلٹ پروف گاڑی اور ایلیٹ فورس استعمال نہیں کی گئی؟کیا جعلی ٹی ٹیوں کی رقم ماڈل ٹاؤن رہائش گاہ کی تعمیر پر خرچ نہیں ہوئی؟جعلی ٹی ٹیوں کے ذریعے 33.32کمپنیاں بنائی گئیں منی چینجرز کے ذریعے جعلی ٹی ٹیز لگوائی گئیں جعلی ٹی ٹیز کے ذریعے دکھایا گیا کہ یہ پیسہ باہر سے آتا ہے اتنی مکاری سے ملکی دولت لوٹنے والا جب یہ کہے کہ ایک دھیلے کی کرپشن ثابت کرو توکیسا لگتا ہے؟اس بہتی گنگا میں سب نے ہاتھ دھوئے ہیں تو جن کے ہاتھ کالے ہیں وہ تو عمران کے دشمن بنیں گے مفت کے مال کی چس ہی ایسی ہوتی ہے لیکن یہ چند ہزار یا چند لاکھ کرپشن ذدہ چہرے بائیس کروڑ عوام کی نمائندگی تو نہیں کر سکتے؟جو صبح گھر سے حلال روزی کی تلاش میں نکلتے ہیں اور شام کو کبھی خالی ہاتھ بھی واپس آنا پڑتا ہے سوال تو یہ بھی تھا کیا ملک علی احمد شہباز شریف کے فرنٹ مین نہیں تھے؟کیا نثار احمد گل نے بینک اوپننگ فارم میں عہدہ مشیر اور پتہ وزیر اعلی ہاؤس نہیں لکھوایا ہوا تھا؟کیا نثار احمد گل سلمان شہباز کے ساتھ دبئی اور قطر نہیں گیا تھا؟کیا کیش بوائز نے کروڑوں روپے شہباز شریف کے ذاتی اکاؤنٹ میں منتقل نہیں کیئے تھے؟کیا اس رقم سے تہمینہ درانی کے لیے دو ولاز نہیں خریدے گئے؟کیا شعیب قمر اور مسرور انور نے رقم حمزہ شہباز کے اکاؤنٹ میں منتقل نہیں کی؟ کیا نثار احمد گل کے اکاؤنٹ سے رقم آپ کو منتقل نہیں ہوئی؟ کیا رقم آپ اور آپکے اہلخانہ کے ذاتی اخراجات میں استعمال نہیں ہوتی تھی؟جی این سی کے چپڑاسی ملک مقصود کے ذریعے کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشن نہیں ہوئی؟جی این سی کے مالکان کو اعلی عہدوں پر فائز نہیں کیا گیا؟آپ کی رہائش گاہ پر کک بیکس کی رقم وصولی نہیں ہوتی رہی؟کیا آپ کالے دھن کی سرپرستی نہیں کرتے تھے؟ کیا دبئی کی چار کمپنیاں نصرت شہباز اور سلمان کے اکاؤنٹ میں پیسے نہیں بھیجتی رہیں؟ کیا آپ کے داماد اعلی علی عمران نوید اکرم کے ذریعے زلزلہ زدگان کی رقم کی لوٹ مار نہیں کی؟ڈیوڈ روز اور مجھ پر برطانوی عدالتوں میں ہرجانے کا دعوی کب دائر کریں گے؟ یہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر کا آخری سوال تھا مقام حیرت ہے دھیلے والی سرکار ان معصومانہ سوالوں کا جواب دینے کی بجائے اس بہانے کے ساتھ لندن بھاگ گئی کہ اسلام آباد کی فضائیں جادو ٹونے سے مسموم ہیں ہمارے لیے خوشگوار نہیں فضائیں تو لندن کی بھی آپ کو راس نہیں وہاں برطانوی صحافی کا سوال آپ کا پیچھا کر رہا ہے کب مجھے عدالت لے جاؤ گے؟ اوپر سے پاکستانی مستقل چور چور کے نعرے لگا رہے ہیں کب تک بھاگو گے سرکار؟ لندن میں بھی مکافات عمل پیچھا کرے گا اللہ کی لاٹھی نے ایران کے شہنشاہ کو اتنی بڑی سلطنت سے محروم کر دیا آپ کیا چیز ہیں؟

یہ بھی پڑھیے :

What is your opinion on this news?

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker