تازہ ترینکالم

چھوٹے قد کے بڑے لوگ

ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں وہ اتنا ظالم ہے .اورستم گر ہے کہ کسی جسمانی معذوری کے باوجود اگر کوئی محنت مزدوری کرکے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال رہا ہے تو اسکو تحسین کی نگاہوں سے نہیں دیکھتا…یا اگر کوئی معذور بچہ اور بچی ضروریات زندگی کی اشیا ئے صرف فروخت کر رہے ہیں . تو ہم اس ’’ بہادر بچے یا بچی سے سامان خریدنے کو عار سمجھتے ہیں. بجائے اس کے کہ ہم اس بچے اور بچی سے اشیا ء خرید کر اسکے حوصلے کو تقویت فراہم کریں لیکن ہمارا یہ رویہ صرف اشیاء خورد نوش یا دیگر سامان وغیرہ بیچنے والوں سے نہیں ہوتا بلکہ جسمانی معذوری رکھنے والے تقریبا ہر انسان سے ہوتا ہے….لیکن میں نے یہ دیکھا ہے کہ جتنے مضبوط اعصاب کے مالک یہ معذور افراد ہوتے ہیں مکمل جسم اور اعضاء کے مالک افراد نہیں ہوتے ……. بظاہر چھ چھ فٹ کے قد کاٹھ والے …بڑی بڑی موچھوں والے….بھاری بھرکم آواز والے بڑے قد کے یہ بہادر اندر سے بڑے ہی کمزور دل ثابت ہوتے ہیں….یہ باتیں آج مجھے اس لیے یاد آہی ہیں کہ روزانہ اخبارات میں خبریں تواتر سے شائع ہورہی ہیں کہ فلاں سیاسی پہلوان فلاں سیاسی پارٹی چھوڑ کر فلاں پارٹی میں شامل ہو گیا ہے …اور فلاں ملک یا سردار اور چودہری فلاں پارٹی کو طلاق دیکر اپنے ہزاروں ساتھیوں سمیت فلاں پارٹی میں چلے گے….جب میں ان پہلوانوں چودہریوں ملکوں اور سرداروں کے ماضی میں دئیے گے وہ بیانات دیکھتا ہوں تو حیران اور ششدر رہ جاتا ہوں کہ کس طرح یہ اپنے سابقہ قائد کی سیاسی بصیرت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے زمین و آسمان کے قلابے ملاتے رہے ہیں…ان کی سیاسی فہم فراست کو چاند اور سورج سے تشبیع دیتے نہ تھکتے تھے مگر آج ٹکٹ نہ ملنے کے خدشے کے باعث پارٹی چھوڑتے وقت کس طرح اسی قائد کی خامیاں کمزوریا اور برائیاں بیان کر رہے ہیں اور اپنے نئے ’’ بگ باس‘‘ کی شان میں قصیدے پڑھ رہے ہیں….اور جب میں.ان جاگیر داروں سرمایہ داروں ملکوں چودہریوں اور سرداروں کے مقابلے میں ان غریب سیاسی کارکنوں کو دیکھتا ہوں جو نہ اسمبلیوں اور سینٹ کی رکنیت کے لیے ٹکٹوں کی خوائش دل میں رکھتے ہیں اور نہ ہی انہیں اپنے قائد اور رہبر سے انہیں ٹکٹ ملنے کی امید ہوتی ہے لیکن پھر بھی ساری عمر اسی پارٹی میں گزار دیتے ہیں . بلکہ اپنے قائد اور پارٹی منشور کی تبلیغ میں سشبانہ روز مصروف کار رہتے ہیں…کسی آمر یا ڈکٹیٹر کا جبر اور تشدد ان کے پایہ استقلال میں معمولی سی بھی لغزش پیدا نہ کر سکا…اس حوالے سے مجھے قاضی سلطان محمود بہت یاد آ رہے ہیں جو راولپنڈی میں رہتے ہیں اور جب سے پیپلز پارٹی کا قیام عمل میں آیا ہے اس وقت سے اب تک پیپلز پارٹی سے ایسے جڑے ہوئے ہیں جیسے اونٹنی کا بچہ اپنی ماں کے ساتھ جڑا رہتا ہے..آپ سوچ رہے ہوں گے کہ قاضی سلطان محمود کوئی بڑا جاگیردار یا سرمایہ دار ہوگا اور اسکی جسامت یاقد کاٹھ کوئی چھ سات فٹ کا ہوگا …….نہیں جناب قاضی سلطان محمود کا جسمانی قد محض ڈھائی فٹ بمشکل ہوگا لیکن اسکا حوصلہ ہمالیہ کے پہاڑ سے بھی بلند ہے …..ذوالفقار علی بھٹو بیگم نصرت بھٹو اور بینظیر بھٹو جیسی شخصیات انہیں رکوع کی حالت میں جھک کر سلام کیا کرتی تھیں..اور ان سے مصافحہ کیا کرتی تھیں.ضیا الحق کے آمرانہ دور میں جہاں بڑیبڑے جغادری قسم کے پارٹی لیڈران نے جرنیلوں کو معافی نامے لکھ کر دے دئیے تھے لیکن ڈھائی فٹ قد کے مالک قاضی سلطان محمود نے سب جبر اور تشدد برداشت کر لیا مگر پارٹی قیادت سے بیوفائی نہیں کی….جرنیلوں نے انہیں شاہی قلعہ میں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا حتی کہ فوجی اہلکار انہیں سر کے بالوں سے پکڑ کر اٹھاتے اور سامنے دیوار سے مار دیتے…. مطلب کوئی ایسا حربہ نہیں جو قاضی سلطان محمود کے حوصلے کو شکست دینے کے لیے نہ آزمایا گیا ہو…… لیکن قاضی سلطان محمود کو توڑنے اور انہیں شکست دینے کے خواب دیکھنے والوں کے خواب خواب ہی رہے …بلکہ وہ خود اندر سے ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو گے…. ان کی انہیں خدمات کے صلے میں قاضی سلطان محمود پیپلز پارٹی کے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر ہیں اسی طرح میرے لیے وہ چھوٹے قد کے لوگ جنہیں ہمارا معاشرہ ’’بونے‘‘ کہتا ہے جو فلم . اسٹیج.تھیٹرز سرکسوں اور موت کے کنوؤں میں محنت مزدوری کر کے رزق حلال کمانے میں فخر محسوس کرتے ہیں….اور کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کو اپنی اور انسانیت کی توہین تصور کرتے ہیں ….. جن میں اسٹیج اور تھیٹر کے فنکار جاوید کوڈو سر فہرست ہیں…….لیکن ہمیں شب و روز ہزاروں کی تعداد میں ہٹے کٹے …چنگے بھلے پانچ فٹ سے لیکر ساڑھے چھ چھ فٹ کے لوگ بڑی بے شرمی اور بے غیرتی کے ساتھ ہاتھ پھیلائے گلی گلی کوچے کوچے اور بازاروں میں بھیک مانگتے دکھائی دیتے ہیں…. یہ بھیک مانگنے والے ہٹے کٹے لوگ قابل عزت ہیں یا چھوٹے قد کے وہ بونے لوگ قابل فخر ہیں جو محنت کر کے رزق حلال کماتے ہیں …. اسی طرح ہمارے ہر تین چار سال بعد پارٹیاں بدلنے والے سیاستدانوں قابل ستائش ہیں یا وہ چھوٹے ورکر جو کئی دہائیوں سے ایک ہی پارٹی میں اپنی ساری عمر گذار رہے ہیں….. مخلص بھی وہین ہیں اور قابل بھروسہ بھی وہیں ہیں اور لائق عزت اور قابل فخر سرمایہ بھی وہیں ہیں ……ابھی اصغر خان کیس میں جن بڑے بڑے سیاستدانوں کے خلاف آئی ایس آئی سے رقومات لینے کے جرم میں کارروائی کرنے کا سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے …….ان میں سے صرف ایک عورت جس کا نام بیگم عابدہ حسین ہے..اس نے تو ببانگ دہل ت
سلیم کر لیا ہے کہ ہاں مجھے پانچ لاکھ روپے دئیے گے تھے اور میں نے پیسے لیے بھی ہیں بلکہ باقاعدہ پیسوں کی وصولی کی رسید بھی دی گئی تھی…بیگم عابدہ حسین نے کہا کہ میں منافع سمیت سولہ لاکھ روپے واپس کر رہی ہوں…… وہ بیگم عابدہ حسین جنہیں ہم ’’مرد‘‘ صنف نازک کہتے نہیں تھکتے اسنے تو آئی ایس آئی سے لیے گے پیسے واپس بھی کر دئیے ہیں مگر بڑے بڑے آئین اور قانون کی محافظت کرنے کا دعوی کرنے والے بڑے قد کاٹھ والے مردوں نے تو ابھی تک رقومات لینے کا اعتراف تک نہیں کیا…..شائد انہیں یہ خدشہ لاحق ہے کہ اگر انہوں نے رقومات لینے کا اعتراف کر لیا تو شائد انہیں الیکشن لڑنے کا نا اہل نہ قرار دیدیا جائے …..جب تک ہمارے سیاسی زعما اور قائدین اپنے قول فعل میں موجود تضاد کو دور نہیں کرتے اور ایسے سیاستدانوں پر اپنی جماعتوں کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند نہیں کرتے جو آئے روز سیاسی جماعتیں تبدیل کرتے رہتے ہیں قومی سلامتی اور ملکی مفاد ات کے نام پر یہ ’’ہارس ٹریڈنگ ‘‘ ہوتی رہے گی بلکہ دن دگنی رات چگنی ترقی کرتی رہے گی.. ہمارے سیاسی قائدین کو یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ وقتی فائدہ دینے والے طویل المدتی نقصان پہنچاتے ہیں……… کم از کم میرے لیے تو بڑے بڑے جغادری قسم کے لوگ…بڑی بڑی موچھوں والے سیاسی پہلوان……بھاری بھرکم جسامت والے بہروپئے اور آئی ایس آئی سے رقومات لیکر اقرار نہ کرنے والے چھوٹے لوگ یعنی بونے ہیں اور بڑے کردار کے مالک اور اپنی سیاسی جماعتوں اور قائدین سے مخلص چھوٹے اور’’ بونے ‘‘ ہی دراصل بڑے لوگ ہیں…… قاضی سلطان محمود اور جاوید کوڈو جیسے بڑے لوگوں کی عظمت کو سلام کیونکہ ان لوگوں نے کبھی ملک اور قوم کے مفادات کو نقصان نہیں پہنچایا نقصان جب بھی پہنچایا ہے بڑے بڑے قد والے جعلی اور دو نمبر کے لوگوں نے ہی پہنچایا ہے

یہ بھی پڑھیں  رمضان میں بازار صبح سحری سے شام 6 بجے تک کھلے رہیں گے: این سی او سی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker