تازہ ترینکالممحمد فرحان عباسی

چھپے رستم ،تمہیں یاد ہو کہ نا یاد ہو

سرزمین شہداء کس علاقے کو کہتے ہیں میں نہیں جانتا اور نا ہی میں نے کبھی اس بات کی کھوج لگانے کی کوشش کی ہے کہ کس خطے کے کونسے حصے کو سرزمین شہداء کا خطاب حاصل ہوا ،مگر ایک کے بعد ایک بہادر اور ایک کے بعد ایک شہید کی داستان شجاعت سننے اور پڑھنے کے بعد اس بات کو محسوس کیا کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جسے سرزمین شہدا کہا جا ئے تو اس میں کوئی مذائقہ نا ہوگا ،
اس سرزمین نے کبھی تو اپنی افواج کے شہداء کے جسد خاکی اٹھائے ،اور دشمن کو پیٹھ دکھا کر بھاگنے پر مجبور کیا تو کبھی اس کے جوانوں نے اپنی جانیں فضا میں ہی اللہ کے سپرد کر دیں ،
کبھی یہ کارگل کے محاذ پر دن رات چوکنے کھڑے نظر آئے تو کبھی کشمیر کے بارڈر پر راتوں کی نیید قربان کرکے ملک کی حفاظت کرتے ہوئے نظر آئے ان میں سے ہر ایک کی قربانی اپنی اپنی جگہ ہے ہر ایک کی قربانی اپنی مثال آپ ہے ،اور پوری قوم ان کی قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے ،
کہ اپنے ملک کی خاطر اپنی جانوں پر تو کھیل گئے مگر ملک پر آنچ نہیں آنے دی ۔
اور یہ ایسے شہدا ہیں جن کی قربانیوں سے دنیا واقف ہے ان میں سے کسی کو ستارہ ء جرئات سے نوازا گیا تو کسی کو ستارہء امتیاز سے ،کسی کو نشان امتیاز ملا توکسی کی لحد پر پھولو ں کی برسات کی گئے اور قومی پرچم لہرایا گیا ،
ہم نے رسمی طور پر اپنے جن شہدا کو یاد رکھا ہے وہ دنیاوی تقاضاہے پورا کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے ہم ان کی قبروں پر پھولوں کے ہار چڑھا دیتے ہیں ،رنگارنگ ماربل اور ٹائلیں لگا کر ان کی قبروں کو حسن و زینت بخشنے کی کوشش بھی کرتے ہیں ،ان کے اہل و عیال کی ہر قسم کی امداد بھی کرتے ہیں غرض یہ کہ انکی ہر دنیاوی خواہش پوری کرتے ہیں ،ان کے بچوں کو تعلیم دلواتے ہیں ،اور ان کے لئے روشن مستقبل کی راہیں ہموار کرتے ہیں اور کچھ تو ایسے بھی ہیں کے جن کو اعلی تعلیم کے لئے باہر ممالک بھیج دیا جاتا ہے مگر یہ سب کچھ ایک خاص طبقے کے لئے ہوتا ہے ،ایک ایسے طبقے کے لئے جن کے پاس سب کچھ ہوتا ہے ،اور یہ سب کچھ ملکی خزانے سے کیا جاتا ہے چاہے امداد کی شکل مین ہو یا پھر ہیرا پھیری کر کے دیا جائے اور وہ لوگ دنیا میں کسی کی امدادکے مستحق بھی نہیں ہوتے ،وہ اگر چاہین تو دو،چار،دس افراد کی کفالت بھی کر سکتے ہیں ،15,20بچوں کے تعلیمی اخراجات برداشت کرنے کی سکت بھی ان میں آسانہی سے ہوتی ہے مگر اس کے باوجود ان کی امداد کی جاتی ہے اور وہ بھی عوام کے خون پسینے کی کمائی سے اکٹھے کئے ہوئے ملکی خزانے سے ،کیا ہماری افواج کے سپاہی قربانیاں اس لئے دیتے رہے کہ ان کے خون کا بدلے ملکی خزانے کو لوٹا جائے ،یہ وہ شہداء ہیں جن کی قربانی سے دنیا واقف ہے اور دنیا کے سامنے اپنا سر بلند رکھنے کی وجہ سے ہمارے حکمران میڈیا کے سامنے آ کر ہمارے ملک کے شہداء کی قربانیوں کو بیچتے ہیں اور اس کے بدلے ڈالر اور نام کماتے ہیں ۔
مگر ہماری تاریخ ہمیں ان کے علاوہ کچھ دکھلانا چاہتی ہے ،ہمارے ضمیر کو جنجھوڑ جنجھوڑ کر اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ تاریخ کے اوراق پلٹواور دیکھو ہماری تاریخ میں چھپے رستم بھی بہت ہیں مگر ہم نے ان کو بھلا دیا ہے ،ان نام سے ان گھر والوں کے علاوہ کوئی واقف نہیں ،کچھ نے قربانی دی ملک کے لئے تو کسی نے اپنے مذہب کی خاطر جان نچھاور کر دی ،کسی کو سولی چڑھا دیا گیا تو کسی کا سر قلم کر دیا گیا ،
کسی کو عقوبت خانوں میں بند کر دیا گیا اور جب وہاں سے نکالا گیا تو ایک شہید کی لاش کی صورت میں تو کسی کو زہر کا انجکشن لگا دیا گیا ،
کسی کو کتوں اور جانوروں کی خوراک بنا دیا گیا تو کسی انسان دشمن امریکہ کے حوالے کر دیا گیا ،
ہاں ہماری تاریخ ایسے شہداء سے بھری پڑی ہے جن کا نام سے دنیا ناواقف ہے ،جن کو ہمارے ہی ملک کے لوگ بھول چکے ہیں ،
ہمارے ملک میں ایسے شہزادے بھی گزرے ہیں کہ جن کی قربانی دنیا کاحصول نہیں بلکہ رب کائنات کی رضا تھی ،جبب دشمن نے اس بات کا گمان کیا کہ مسلمانوں کی غیرت مر چکی تو اسی دم کسی نا کسی عاشق رسول نے قربانی دینے کا فیصلہ کیا ،اور دشمن کو یہ بات باور کرا دی کہ ہماری غیرت زندہ ہے ،(وہ بات الگ ہے کہ کچھ لوگ حضورﷺکی شان میں گستاخی کو تو برداشت کر لیتے ہیں مگر اپنی غیرت پر آگ بھگولا ہو جاتے ہیں یہ دنیا کا دستور ہے کوئی نئی بات نہیں )آج پوری قوم کو غازی عامر چیمہ شہید یاد ہے اس نے قربانی نام کمانے کے لئے نہیں دی تھی بلکہ اس کی غیرت نے اس بات کو گوارا نہین کیا کہ کوئی غلیظ اپنی زبان سے ہمارے نبی ﷺ کو گالی دے ،اس کو اس جرم کی سزا ملی کہ اس نے نبیﷺ پر بھوکنے والی گورے کو واصل جہنم کیا تھا ،اس کو دنیا اور پاکستان کے کسی ادارے نے کو ئی اعزاز نہیں دیا اس کے گھر میں کسی نے امداد کی پیشکش نہین کی اس کے والد کے پاس کو ئی وزیر،کوئی صدر نہیں آیا اس کی شجاعت پر اسے کسی نے کوئی تمغہ نہیں دیا ،کیونکہ اس نے قربانی دنیا کو دکھانے کے لئے نہیں بلکہ اللہ کہ رضاء کے لئے دی تھی،اس شہادت مسلمانوں کے لئے باعث فخر ہے ،اور دنیا کو اس شہید پر ناز ہے کہ جس نے نا ملک کی خاطر قربانی دی نا ہی نام کمانے کے لئے ۔
کو ن ،ہے جو نہین جانتا غازی علم الدین شہید کو جن کی برسی چند دن پہلے گزری مگر کسی حکومت نے ان کی قبر پر حاضری دی نا ہی ان کے لئے کسی بھی فورم پر دعاکی گئی وہ بات الگ ہے کہ ان کے لئے کوئی دعا کرے نا کرے جس ہنستی کی ناموس کے لئے ان کی قربانی تھی وہ ہنستی ان کو کبھی تنہا نہیں ہونے دے گی
محمد کے تقدس پر زبانیں جو نکالیں گے ،خداکے حکم سے ایسی زبانیں کھینچ ڈالیں گے
آ ج کچھ لوگ اپنے دور حکومت میں ڈالرون کے عوض بیچے جانے والے ایک مجاہد جس کے نام کے ساتھ شہید کا لقب جڑ گیا اسے بھول گئے ہیں آئے دن نعرے لگانے اور ہمدردی کے گن گانے والوں کی عوامی خدمت کے ہم تہہ دل سے معترف ہین مگر جرم ہے وہ جرم ہے چاہے غلام کرے یا بادشاہ ،
ایک اسلامی ملک سے ایک عاشق رسول کو گرفتار کیا گیا اور اس کے بعد اسے ایسے دشمن کے حوالے کر دیا گیا جو اپنے آپ کو انسانی حقوق کا ٹھیکیدار کہلواتا ہے مگر پس پردہ وہ ایک درندہ ہے ایک ایسا درندہ جو صرف اپنے آپ کو ہی انسان سمجھتا ہے ۔جس کی نظر میں دنیا کی کسی اور قوم کو جینے کا حق نہیں خصوصا مسلمان قوم اس کی آنکھ میں کانٹابن کر چبھتی ہے اور اس کے حلق مین کانٹے کی حثیت رکھتی ہے ،یہ ایسے درندے ہیں کہ جو ملکوں کے ملک کھا گئے مگر ابھی بھی خون کے پیاسے ہیں ان کی پیاس صرف اور صرف انسانی خون سے ہی بجھتی ہے ،جن رات کی نیید سے قبل چند سو مسلمانوں کا قتل نا ہو جائے ان کو نیید نہیں آتی ،یہ ایسے وحشی ہیں کہ ان کے نظریے میں دنیا میں جینے کا حق صرف انہی کو ہے ۔
اس عاشق رسول کے نام سے اور کوئی واقف ہو نا ہو میں اور چند اور لوگ اس سے ضرور واقف ہیں ،
اس کا نام ہے ایمل کانسی شہید جس کا تعلق کوئٹہ سے ہے یہ وہ شہید ہے جس کو امریکہ کے حوالے کر دیا گیا تھا یہ کہہ کر کہ یہ مجرم ہے مگر حقیقت میں یہ ایک مجاہد تھا ،،یہ حضرت ابوبکرؓ ،حضرت عمرؓ کا جانشین تھا ،اس میں عمرؓ کی شجاعت عنصر تھا اور عثمانؓ جیسی حیاتھی ،اس نے اپنی ناموس رسالت پر نبیﷺکے دشمنوں کو واصل جہنم کر کے اس بات کو ثابت کر دیا تھا کہ اس دور میں بھی حضرت خالدبن ولیدؓ کی سنت کو زندہ رکھنے والے موجود ہیں ۔
آج اہل ایمان جن کے دلوں میں رتی رابر بھی ایمان موجود ہے جو دنیا کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دیتے ہیں ،جن کے دلوں میں منافقت کا بیج سرے سے ہی نہیں ہے ،جو ہر انسان کو اپنے سے بہتر اور اعلی جانتے ہیں ،اس شہید کی قربانی کے معترف ہیں ۔
اور اس شہید کو سلام پیش کرتے ہیں کہ جس کے کارنامے کو یاد کر کے ہمارے ایمان کو تقویت ملتی ہے
اس کارنامہ ہمارے لئے باعث اعزاز ہے ،ہم اس اعزاز کو اپنے سروں کا تاج سمجھتے ہیں چہ جائے کہ جن لوگوں نے اسے امریکہ کے حوالے کیا تھا وہ اسے دہشت گرد کہیں

یہ بھی پڑھیں  ڈسکہ: پابندی کے باوجود آتشبازی کا سامان رکھنے پر دو افراد کے خلاف مقدمہ درج

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker