تازہ ترینصابرمغلکالم

چھرا مارکے الزام میں گرفتار وسیم کے بارے میں شفاف تحقیقات کی اشد ضرورت

abگذشتہ روز حساس اداروں نے کراچی میں خواتین پر چاقو سے حملہ کر کے انہیں شدید زخمی کرنے کے الزام میں مبینہ ملزم ساہیوال کے رہائشی وسیم کو منڈی بہاؤالدین کے علاقے رنمل شریف میں ایک گھر سے گرفتار کر لیا ہے، دو ماہ سے کراچی میں خواتین پر ہونے والی عجیب اور دہشت ناک وارداتوں کا سلسلہ شروع ہوا تو کراچی بھرمیں شدید خوف ہراس کی فضا قائم ہو گئی یہ واقعات ہی ایسے تھے جس میں ماؤں بہنوں ،بیٹیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا،یہ واقعات زیادہ تر گلستان جوہر کراچی میں رونما ہوئے،ان واقعات میں عریشہ،سونیا اور لائبہ نامی خواتین سمیت کل 13خواتین کو زخمی کیا گیااس دہشت گردی کی ان وارداتوں کے مقدمات شارع فیصل اور گلستان جوہر وغیرہ میں درج ہوئے،چاقو بردار کے خواتین پر حملوں کے بعد کراچی سمیت پورے سندھ کی انتظامیہ اور حکومت چکرا کر رہ گئی مگر حملہ آور آتا اور وار کر کے کسی چھلاوے کی طرح غائب ہو جاتا مگر پولیس ان کی روک تھام میں بری طرح ناکام رہی ،کئی بار پولیس نے ملزم کی گرفتاری کا نہ صرف دعویٰ کیا بلکہ یہ رپورٹ وزیر اعلیٰ اور میڈیا تک بھی پہنچا دی مگر ایسی ہر خبر محض نمبرنگ کی حد تک ہوتی ،ایڈیشنل انسپکٹر جنرل کراچی مشتاق مہر نے میڈیا کو بتایا کہ خواتین کو چاقوکے وار سے زخمی کرنے کے واقعات کی تحقیقات کے دوران 6ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے،وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پولیس بریفنگ پر بتایا کہ اس دہشت گردی میں ملوث ملزمان کے بارے میں واضح شواہد مل چکے ہیں جن میْں سے ایک کا کراچی اور دوسرے کا تعلق پنجاب کے ضلع ساہیوال سے ہے،کراچی میں ملزم کی گرفتاری میں ناکامی پر سندھ پولیس نے اپنی تفتیش کا رخ پنجاب کی طرف مورڈ یا۔ دو سال قبل ساہیوال شہر میں مختلف سڑکوں پر بلیڈ سے عورتوں کو زخمی کرنے کے واقعات پر مذکورہ ملزم وسیم کو اس کے تین دوستوں سمیت مقامی پولیس نے گرفتار کر لیا تھا،اس سے ہر طرح کی تفتیش کی گئی ،جیل میں حساس اداروں نے انکوائری کی اسے قصوری چکی (بلاک) میں قید تنہائی میں رکھا گیا مگر جتنا اس کا کردار تھا اتنی سزا ملنے پر 8ماہ بعد اسے رہائی مل گئی ،وضاحت۔(الراقم مبینہ ملزم سے اس حوالے سے ہمدردی نہیں رکھتا کہ اگر وہ کراچی میں ہونے والی وارداتوں میں واقعی ملزم ثابت ہوتا ہے تو اسے نشان عبرت بنایا جائے تا کہ آئندہ کسی کو ایسی وحشت پھیلانے کی جرات نہ ہو سکے ہاں البتہ اگر وہ ان کاروائیوں میں ملوث نہیں تو اسے صرف ماضی کے حوالے سے کسی بھینٹ نہ چڑھایا جائے )کراچی سے جب پولیس کا دھیان ساہیوال کی جانب ہوا تو میڈیا کے بعض ریٹنگ کے کرداروں نے اسے سینکڑوں ایسی وارداتوں میں ملوث قرار دیا ،کیا سینکڑوں ایسی گھناؤنی وارداتوں میں ملوث کوئی ملزم صرف آٹھ ماہ بعد ہی جیل سے رہا ہو سکتا ہے؟ایسا ممکن ہی نہیں اتنی بھی اندھیر نگری نہیں ہے نہ ہی پنجاب پولیس ملزمان کی ایسی کوئی ہمدرد ہے،ماضی کی کاروائیوں میں بھی وسیم کو اس کے ساتھیوں جو در حقیقت ان وارداتوں میں ملوث تھے نے پھنسیایا اور آج بھی انہی میں سے ایک شہزاد نامی شخص جواس وقت بھی کاروائیوں میں ملوث تھا جسے اب کراچی پولیس نے پکڑ رکھا ہے ماضی کی طرح وہ اب بھی وسیم کو لپیٹنے کے بیانات دے رہا ہے،اس کے مطابق وہ وسیم کو پناہ دیتا تھا اور ان وارداتوں کو سن کر وسیم کو تسکین ملتی تھی ،الراقم کو یہ سب اس وجہ سے پتا ہے کہ ساہیوال کا یہ وسیم جب جیل میں تھا تب کسی تعلق کے حوالے سے اس کے ایک عزیز نے مجھے کہا کہ ان کا ایک جیل میں وسیم کو قصوری چکی میں بند رکھا گیا ہے ملاقات کی کسی کو اجازت نہیں اس لئے آپ ہماری مدد کریں ،میں حالات کا پتا کیا تو بتایا گیا کہ کیونکہ حساس ادارے بھی اس کی تفتیش میں ملوث ہیں اس لئے اسے قید تنہائی میں رکھا گیا ہے ،بعد از تفتیش اسے عام بیرک میں منتقل کیا گیا،وسیم کی رہائی کے بعد الراقم نے صحافتی مشاہدے کی بنا پر ان واقعات کی مزید چھان بین کی تو وسیم کے بارے میں کسی ایسی بات کا سرا نہ ملا جس سے وہ اس قدر جرائم پیشہ اور ایسی خوف کی علامت وارداتوں میں مکمل طور پر ملوث ہو،اب کراچی میں یہ سب ہوا تو اسے یوں پیش کیا جا رہا ہے جیسے پاکستان بھر میں ہونے والی تمام کی تمام ایسی وارداتیں جہاں بھی پیش آئی ہوں وسیم نے ہی کی ہیں،ایک سال قبل راولپنڈی میں بھی خواتین کو ایسے ہی زخمی کرنے والا ایک گینگ گرفتار ہوا تھا جسے پولیس اور حساس اداروں نے کومبنگ آپریشن کے ذریعے پکڑاان کو بھی شامل تفتیش کیوں نہیں کیا جاتا؟،مبینہ وسیم کی گرفتاری پر ڈسٹرکٹ انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی )ویسٹ سلطان علی خواجہ کا یہ حوصلہ افزا بیان سامنے آیا ہے کہ وسیم کو گرفتار کر لیا گیا جس پر شبہ ہے کہ وہ کراچی کی چاقو مار وارداتوں میں ملوث ہے ان کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس بابت شفاف تحقیقات ضرور کریں گے ابھی تک انہیں بھی یقین نہیں،کراچی کے حساس ادارے بھی پولیس کے مؤقف سے اختلاف اور عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وسیم کو ان وارداتوں کا ملزم نہیں سمجھتے ملزم نے دو خواتین سے بات بھی کی تھی اور وہ خالصتاً کراچی کے اردو لہجے میں بات کر رہا تھا جبکہ وسیم بہت کم پڑھا لکھا جو پنجابی لہجے میں بھی اردو میں بات نہیں کر سکتا، وسیم کا تعلق ساہیوال کے ایک غریب گھرانے سے ہے وہ ماضی میں جیل سے نکلنے کے بعد مختلف شہروں میں محنت مزدوری میں لگ گیا ابھی جیسے ہی انہیں میڈیا کے ذریعے علم ہوا کہ کراچی کی چھرا مار وارداتوں میں اسے چھلاوا ثابت کیا جا رہا ہے تو وہ ڈر اور خوف کے مارے روپوش ہو گیا مگر یہ اس کی حماقت تھی اسے چاہئے تھا کہ پنجاب میں ہی وہ کسی حساس ادارے کے سامنے پیش ہوجاتا کیونکہ آخر اسے بھاگ کر جانا کہاں تھا؟مختلف شہروں سے اس کے متعدد عزیز و اقارب کی گرفتاری عمل میں آئی ،الراقم پہلے بھی وضاحت کر چکا ہے کہ وہ کسی ملزم سے ہمدردی نہیں رکھتا مگر وسیم کے لئے انصاف کی ازحد ضرورت ہے اور پنجاب حکومت کے ترجمان نے بھی یہ کہا ہے کہ گرفتار ملزم وسیم ان واقعات سے مسلسل انکاری ہے اسی بات کو قرین انصاف کے عین تقاضوں کے مطابق دیکھنے اور پرکھنے کی اشد ضرورت ہے،کراچی میں انصاف پسند پولیس آفیسر اور حساس ادارے مشترکہ طور پر وسیم کو چھلاوا بنائیں اور ثابت کریں محض خدشات اور ماضی کے گناہوں پر اس کے گرد پھندا ڈالنا کسی طور مناسب نہیں اگر ایسا نہ ہوا تو یہ انصاف کا قتل ہو گا ،ضروری تو تھا کہ کراچی پولیس کے حوالے کرنے سے قبل پنجاب پولیس اور دیگر حساس ادارے اس کی تفتیش مکمل کرتے،

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker