شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / اطہر مسعودوانی / ”سول ملٹری ڈائیلاگ” کی ضرورت !

”سول ملٹری ڈائیلاگ” کی ضرورت !

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے راولپنڈی میں میڈیا بریفنگ میں ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات میں بتدریج کمی آنے کی بات کرتے ہوئے آپریشن رد الفساد کے اعداد و شمار بھی پیش کئے۔انہوں نے کہا کہ  بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں بہت کمی واقع ہوئی ہے اور وہاں فراری ہتھیار ڈال رہے ہیں، افواج پاکستان کی زیادہ تر توجہ بلوچستان کی جانب ہے تاکہ وہاں صورتحال بہتر ہو۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ چند سالوں میں کراچی میں امن وامان کی صورتحال میں بہت بہتری واقع ہوئی ہے، دہشت گردی کے واقعات میں 99 فیصد جبکہ اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں 93 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ڈی جی ‘ آئی ایس پی آر’ نے کہا کہ پشتون تحفظ موومنٹ والے اس لائن کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں ان کے ساتھ وہی ہوگا جو ریاست اپنی اپنی رٹ برقرار رکھنے کے لیے کرتی ہے اور ہم کریں گے،ان کے صرف 3 مطالبات تھے، چیک پوسٹس میں کمی، مائنز کی کلیئرنس اور لاپتہ افراد کی بازیابی، یہ وہ مطالبات ہیں جو ریاست کی ذمہ داری ہے اور وہ کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگلے سال پاک افغان بارڈر پر خاردار تار لگانے کا کام مکمل ہوجائے گا، جس سے صورتحال میں مزید بہتری آئے گی۔میجر جنرل آصف غفور نے افغانستان اور بھارت سے متعلق بات کے علاوہ کشمیر کو غیر فطری طور پر تقسیم کرنے والی لائین آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت میں اضافے سے متعلق بتایا کہ 2017میں بھارت کی جانب سے سیز فائر کی 1881  خلاف ورزیاں ہوئی تھیں، لیکن رواں برس کنٹرول لائن پر سیز فائر کی 2593خلاف ورزیاں ہوئیں، جن کے نتیجے میں 55 شہری شہید اور 300زخمی ہوئے۔
  بریفنگ کے دوران ڈی جی” آئی ایس پی آر” کا کہنا تھا کہ 70 سال گزر گئے لیکن ہم اب بھی عوام کو بتا رہے کہ ہم نازک دور سے گزر ہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا کہ یہ نازک دور کیوں آئے اور اس کا ذمہ دار کون ہے؟ اس پر بحث ہوئی ہے لیکن نتیجہ نہیں نکلتا، سب ایک دوسرے پر الزام لگاتے ہیں۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ اگر ہم ماضی میں بیٹھے رہے تو آگے نہیں جاسکتے، ہم ماضی سے صرف نتیجے لے سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نازک وقت سے اس مقام پر آگئے ہیں، جسے واٹر شیڈ کہتے ہیں، آج ہم اس واٹر شیڈ پر کھڑے ہیں، جہاں سے آگے نازک وقت نہیں، یا بہت اچھا وقت ہے یا پھر نازک وقت سے خراب وقت ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم نے کئی جنگیں لڑیں، آدھا ملک گنوادیا، لیکن پچھلے چند سالوں میں بہتری کی طرف آئے، ملک امن کی طرف گیا، معیشت میں بہتری آئی، ہم اس کو ریورس کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ کیا اس نازک لمحے سے اچھے پاکستان کی طرف نہیں جاسکتے؟ فیصلہ ہم نے کرنا ہے کہ ہم نے ایسا ہی رہنا ہے یا کامیابیوں کے ساتھ آگے چلنا ہے۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ہم خود کو ٹھیک کریں گے تو آگے کچھ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان اس ملک کی فوج ہے، اس کا تعلق ایک پارٹی، بندے یا ایک صوبے سے نہیں، ہم حکومت کا ادارہ ہیں، آج پی ٹی آئی کی حکومت ہے، اس سے پہلے کسی اور پارٹی کی تھی، سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ حکومت کو ان پٹ دیتی ہے، یہ خوشی کی بات ہے کہ تمام ادارے مل کر قومی مقصد کے لیے کام کرنا چاہیے۔اس موقع پر انہوں نے میڈیا کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ میڈیا کا بہت بڑا کردار ہے، یہ ریاست کا چوتھا ستون ہے، سب مضبوط ہوگئے اور آپ جھٹکے لگائیں تو بلڈنگ کو نقصان ہوگا۔انہوں نے کہا میڈیا صرف چھ مہینے کے لیے پاکستان کی ترقی دکھائے اور پھر دیکھے کہ ملک کہاں پہنچتا ہے۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ہم ملک کو ایک ایک انچ لگا کر دوبارہ بنا رہے ہیں، مل کر امن کی صورتحال بہتر کر رہے ہیں اور ایک ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہاں آئین کے مطابق قانون کی حکمرانی ہو۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے درخواست کی کہ سب مل کر اپنا اپنا کردار ادا کریں اور ملک کو وہاں لے کر جائیں، جہاں ہمارا حق بنتا ہے۔
یوں تو پاکستان کا آئین اداروں کے درمیان تقسیم کار اور اداروں کی درمیان حاکمیت اور اطاعت کے پیمانے وضاحت کے ساتھ بیان کرتا ہے لیکن آئین کے بجائے عملی طاقت کی اطاعت کے چلن نے ملک کو ا س نازک صورتحال سے دوچار کیا ہوا ہے جس کا اظہار اس میڈیا بریفنگ میں کیا گیا  ۔ترجمان پاک فوج کی ان باتوں کا جواب دینے کے لئے تو سب سے موزوں شخصیت خود ترجمان پاک فوج ہی ہو سکتے ہیں۔ملک میں عمران خان اور طاہر القادری کے دھرنے سے لیکر موجودہ ‘ پی ٹی آئی ‘ حکومت کی تشکیل تک جو طریقہ کار اپنا یا گیا،کیا وہ  اقتصادی شعبے کے علاوہ ملک کو سیاسی عدم استحکام کا شکار کرنے کے لئے کافی نہ تھا؟ پاکستان میں حاکمیت کی اس کشمکش میں پاکستان کو سنگین ترین خطرات سے دوچار کرنے کے بعد یہ کہنا کہ ” ہم خود کو ٹھیک کریں گے تو آگے کچھ ہوگا”، کیا معنی رکھتا ہے؟پاکستان میں جمہوریت کے نام پر فوج کی تابعدار حکومتوں کے تجربات کئی بار ہو چکے ہیں اور تمام کے تمام تجربات ناکامی اور نامرادی سے ہمکنار ہوئے۔آخر ہمارے پالیسی ساز اپنی پالیسیوں کی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے اس بات پر اصرار کیوں رکھتے ہیں کہ آئندہ بھی پالیسیوں کی تشکیل انہی کی صوابدید رہے؟ملک کے سیاسی حقائق خوشبو یا بدبو کی طرف ہوتے ہیں جنہیں چھپایا نہیں جا سکتا، اس کی مہک یا بدبو حقیقت آشکار کر ہی دیتی ہے۔ترجمان پاک فوج کا یہ کہنا کہ ”میڈیاصرف چھ مہینے کے لیے پاکستان کی ترقی دکھائے اور پھر دیکھے کہ ملک کہاں پہنچتا ہے” ،اس بات کے اظہار کا اعادہ ہے کہ کیا غلط بیانی پر مبنی پروپیگنڈے سے ترقی کے اہداف حاصل کئے جا سکتے ہیں؟یہ بات اس ” مائینڈ سیٹ” کا اظہار بھی ہے کہ ملک کا ایک ادارہ خود کو جذبہ حب الوطنی سے اتنا سرشار پاتا ہے کہ ملک کی تقدیر کے ہر عنوان کو خود ہی تحریر کرنے کو ملکی مفاد کا آخری راستہ تصور کرتا ہے۔
فوج کے ترجمان کی ان باتوں سے ملک میں”سول ملٹری ڈائیلاگ” کی ضرورت ملک کے وسیع تر مفاد میں اشد طور پر سامنے آتی ہے۔ ملک میںسیاسی عدم استحکام کے لوازمات پورے کرنے کی فکر کر نے کی صورتحال میں اقتصادی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ملک کو سیاسی عدم استحکام سے دوچار کرنے کے اقدامات کے ساتھ ساتھ پاکستان کو درپیش سنگین صورتحال پر تشویش کا اظہار بڑے حوصلے کی بات ہے۔ہمیں یقین ہے کہ ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے پورے خلوص دل کے ساتھ پاکستان کو درپیش خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
  ترجمان پاک فوج کے اس اظہار تشویش سے بھی یہ ضرورت واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ”سول ملٹری ڈائیلاگ” کا اہتما م کرتے ہوئے ملک میں حاکمیت اور اختیار کی کشمکش کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کی راہ اپنائی جائے۔ ماضی کے ناکام تجربات بار بار دھراتے ہوئے پاکستان کو بار بار ناقابل تلافی نقصانات پہنچنے کی صورتحال کو جاری رکھنا ملک اور عوام کے علاوہ کسی ادارے کے بھی مفاد میں نہیں ہے ۔خود کو ٹھیک کرنے کا مطلب اس کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا کہ ہم اپنے قول و فعل میںتیزی سے بڑہتے تضاد کو کم کرنے پر توجہ دیں
یہ بھی پڑھیں  موٹروےپولیس نے4جیب تراش پکڑکر جمبرچوکی کےحوالےکردیے