کالممحمد فرحان عباسی

کھوکھلے نعرے اور بے وقوف عوام

آج سے چار سال پہلے کی بات مجھے اچھی طرح یاد ہے جب ہماری قوم کے ہر فرد کی زبان پر نعرے گونجھ رہے تھے ،ہر ایک کا چہرہ پر امید نظر آرہا تھا ،اور دل کی دھڑکنیں تیز سے تیز تر ہوتی جا رہیں تھیں،یہ وہ وقت تھا جب دوسروں کے مفاد کی خاطر بھائی بھائی کا دشمن بن چکا تھا ایک گھر میں اگر چار افراد ہیں تو وہ چاروں ایک دوسرے کے مخالف ہو چکے تھے ،گلی محلوں میں نوبتیں قتل وقتال تک جا پہنچی تھیںاور لوگ ایک دوسرے کی عزتوں تک سے کھیلنے کو تیار ہو چکے تھے ،گلی کوچوں بازاروں ،چوکوں چوراہوں میں رات گئے جلسے ،جلوس ہوتے ،دن کو سکون نا رات کو چین،ایسی کشمکش شاید کبھی دیکھنے کو ملتی ہو۔
ٓٓٓٓٓیہ وہ وقت تھا جب میں نے سکولوں کالجوں اور طلبائ تنظیموں کو آپس میں دست وگریباں ہوتے دیکھا،درسگاہوں کاتقدس پامال ہوتے دیکھا اور اس قوم کے معماروں کوپٹتے دیکھا،مگر افسوس کہ یہ قوم بیوقوف بنی رہی اور یہ اس بات کو نا جان سکی کہ ان کے کندھے پر بندوق رکھ کر ان ہی کا شکار کئے جانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں ،جی ہاں یہ وقت سابقہ الیکشن کا تھا جب جب ہمارے ملک سے ایک ظالم جابر ،آمر کوگارڈ آف آنر دے کر رخصت کیا گیا تھا اس معاہدے کے ساتھ کہ اس کو گارڈ آف آنر دینے والوں کو اس قوم مسلط کیاجائے گا ،اور اس طرح وہ آمر تو چلا گیا ،مگر قوم پر ایک اور عذاب مسلط کر کے۔اور یہ عذاب ایسا ثابت ہوا کہ اس نے عوام کے تن سے کپڑے اتروا لئے ،اپنی شان کو اونچا کرنے کے لئے ،اور عوام کو ڈرانے کے لئے ،ہاتھ سے روٹی کا لقمہ چھین لیا اس خاطر کہ اس سے اپنے حصے کا ٹیکس ادا کریں گے،اور عوام جب بھوکی ہو گی تو اس میں کسی ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کی سکت نہیں ہو گی ،اور سرسے مکان کی چھت چھین لی،اس خاطر کہ اپنے محلات کی دیواروں کو مضوط کریں گے ۔
جی ہاں اس قوم کا یہ حال تو ہونا ہی تھا کہ حکومت کسی اور نے کرنی تھی اور اس قوم کے افراد نے دھنگافساد اپنے گھروں میں کیا ،ایک غیر کی خاطر جس کا اس ملک سے کوئی رشتہ بھی نہیں ،اپنے بھائی باپ اور رشتہ داروں سے دشمنیاں پالیں،اس قوم کے ساتھ ایسا تو ہونا ہی تھا کہ جس نے اسلام کے لئے تو ایسی محنت نہیں کی ، آج یہ قوم اگر بھوکی مر رہی ہے تو اس میں اسی قوم کا قصور ہے ،اور یہ قوم اپنے ہی گناہوں کی سزا بھگت رہی ہے اگر اسوقت یہ قوم ہوش کے ناخن لے لیتی تو آج نوبت فاقوں کے بعد خودکشیون تک نا پہنچتی ،آج غریب اپنے بچوں کو ذبح نا کرتے اور اس حد تک مجبور نا ہوتے کہ اپنے بچوں کو سر بازار فروخت کے لئے پیش نا کرتے ،آج یہ قوم اس بات کی حقدار ہے کہ جن لوگوں نے اس قوم سے ووٹ لے کر جن جن کو دلوائے تھے ان کے گریبان چاک کریں ،ان کے گھروں کو مسمار کریں ،اور ان سے اپنے حقوق چھین لیں ،ان غداروں سے ان کے کھوکھلے نعروں کا حساب لیں اور اس ملک کی عدالتوں میں ان کے خلاف دھوکہ دہی اور فریب کے مقدمات دائر کریں ۔اگر اس قوم نے اب بھی ہوش کے ناخن نا لئے اور ماضی کی طرح اب بھی اپنے حقوق کے لئے جدجہد نا کی تو شائد وہ وقت بہت قریب ہے کہ جب یہ ازدھا قوم کے غریبوں کو نگل جائے ،اور اس کا نام و نشان تک صفحہ ہنستی سے مٹ جائے ۔

یہ بھی پڑھیں  ۔،۔مردانِ حق ۔،۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker