شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / کالم / بے حسی ۔۔۔ یا ۔۔۔ مجبوری؟؟؟

بے حسی ۔۔۔ یا ۔۔۔ مجبوری؟؟؟

غُصہ ، بد تمیزی، عدمِ برداشت، انتقام، غرور ، تکبر، قانون شکنی، چودراہٹ وغیرہ وغیرہ۔۔۔اس طرح کی لا تعداد خامیاں جنہیں آپ خوبیاں بھی کہہ سکتے ہیں ان میں سے کوئی بھی اگر کسی کے اندر نہیں ہے تو پھر وہ پاکستانی کہلانے کے لائق ہی نہیں ہے۔کیوں کہ پاکستانی ہونے کے لیئے ان سب غیر ضروری چیزوں کا ہونا بہت ضروری ہے۔
لوکل بس میں سفر کرنے کے دوران بھیڑ کی وجہ سے اگر کسی دوسرے مسافر کا پائوں آپ کے پائوں پر آ جائے تو آپ پر فرض ہے کہ اُس کے معذرت کرنے سے پہلے پہلے اُس کی تبیعت صاف کر دیں اور اگر بات کچھ توں تکار سے آگے نکل جائے تو اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے آپ اُسے یہ بھی بتا دیں کہ آپ کی پہنچ کہاں تک ہے۔اور اگر آپ کو خوش قسمتی سے سیٹ مل گئی ہے تو آپ آرام اور سکون سے سفر کے مزے لیں آپ کو اس بات کی کوئی پروا نہیں ہونی چاہئیے کہ آپ کے قریب کوئی ضعیف ، بزرگ یا کوئی خاتون کھڑے ہو کر سفر کرنے پر مجبور ہیںآپ کو اپنی سیٹ سے اُٹھ کر اُن کو بیٹھ جانے کی پیشکش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو آپ مہذب لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جبکہ مہذب لوگ بڑے حساس ہوتے ہیں۔۔۔
اگر کوئی آپ کے گھر کے سامنے کوڑا کرکٹ پھینک جائے تو اس بات کو درگزر کرنا تو در کنار آپ پر لازم ہے کہ آپ وہ کوڑا اُٹھائیں اُس میں اپنے گھر کا کوڑا بھی شامل کریں اور اُس ہمسائے کے گھر کے سامنے پھینک آئیںجس نے آپ کے گھر کے سامنے پھینکا تھا یعنی اینٹ کا جواب پتھر۔آپ نے اپنے دوسرے ہمسائے کے بیٹے سے اس بات کا انتقام بھی لینا ہے جو اُس نے پچھلے اتوار کو آپ کو سائیکل مار کر تھوڑا سا زخمی کر دیا تھااور وہ دوسرے دن اپنے باپ کو ساتھ لے کر آپ سے معافی مانگنے آپ گھر بھی آ گیا تھا۔ اگر آپ اُسے معاف کر دیتے تو آپ بھی مہذب لوگوں میں شامل ہو جاتے جبکہ مہذب لوگ بڑے حساس ہوتے ہیں۔۔۔
آپ کا پچھلے ماہ بجلی کے بل کی عدم ادائیگی کی وجہ سے کنیکشن کٹ گیا تھا اور آپ نے لائین مین سے مل ملا کر کنڈیاں لگا لیں تھیں جو ابھی تک لگی ہوئی ہیں اور نہ جانے کب تک اس مالِ مفت سے استفادہ حاصل کرتے رہیں گے۔آپ نے بینک سے قرضہ بھی لے رکھا ہے جس کی ابھی تک آپ نے ایک قسط بھی ادا نہیں کی ۔ ابھی پچھلے دنوں کی بات ہے آپ نے اپنے بڑے بیٹے کو سرکاری نوکری دلانے کے لیئے پانچ لاکھ روپیہ بطور رشوت بھی ادا کیا تھا ۔ اگر آپ یہ سب کچھ نہ کرتے تو آپ بھی مہذب لوگوں میں شامل ہو جاتے جبکہ مہذب لوگ بڑے حساس ہوتے ہیں۔ یہ صرف آپ ہی کا مسلہ نہیں ہے ہم سب اس مسلے کا شکار ہیں اور اپنے آپ کو مہذب ہونے سے محفوظ رکھنے کی کہ ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ہم اپنے ارد گرد کے لوگوں میں ہزار خامیاں تلاش کرنے کی کوشش میں ہوتے ہیں جبکہ ہمیں اپنی ایک ہزار ایک خامی بھی نظر نہیں آتی۔ ہم دوسروں کو نیچا دکھانے کے لیئے سر توڑ کوشش کرتے ہیں جبکہ دوسروں جیسا بننے کی ذرہ بھی کوشش نہیں کرتے۔ ہم احسان فرا موش بھی ہیں اور اپنے اوپر ہونے والے ظلم و زیادتی کو بھی بہت جلد بھول جاتے ہیں۔کیوں کہ ہم بے حسی کا شکار بھی ہیں ۔ ہم ہر بُرے کام میں پہل کرتے ہیں اور اچھے کام کرنے کے لیئے ایک دوسرے کا منہ تکتے رہتے ہیں۔ہم بار بار ٹھوکر کھانے کے عادی ہیں اور ہر بار اُنہیں لوگوں پر بھروسہ کر لیتے ہیں جنہوں نے ہمیں ماضی میں کئی بار دھوکہ دیاہو۔
ہم اپنے پائوں پر آئے ہوئے دوسرے مسافر کے پائوں کو برداشت نہیں کر سکتے مگر چار چار گھنٹے کی مسلسل لوڈشیڈنگ اور دن دُگنی اور رات چوگنی مہنگائی کو برداشت کر لیتے ہیں۔ ہمارے اندر اتنی بھی برداشت نہیں ہے کہ ہم اپنے ہمسائے کی ذرہ سی غلطی کو برداشت کر لیں لیکن ہم اُن کو برداشت کر لیتے ہیں جوبڑی سے بڑی کرپشن کرے۔ ہم نے اُن کو بھی معاف کر دینا ہوتا ہے جو غیروں سے ہماری زندگیوں کے سودے کرتے ہیں اور اپنی ہی بیٹیوں کو مجرم بنا کر غیروں کے حوالے کر دیتے ہیں۔یہ سب کچھ ہم اس لیئے کرتے ہیں کیونکہ ہم مہذب نہیں ہیں ہم حساس نہیں ہیں۔ اگرہم مہذب ہوتے تو ہم حساس بھی ہوتے اور اپنے اوپر ہونے والے ظلم اور ذیادتی کے خلاف آواز بھی اُٹھاتے۔ مل کر احتجاج بھی کرتے اور ان چور لُٹیروں سے چھٹکارہ حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ۔۔۔ لیکن!!!۔۔۔ہم ایسا نہیں کر سکتے کیوں کہ ہم مہذب نہیں ہیں۔جبکہ مہذب لوگ بڑے حساس ہوتے ہیں۔ اپنے اُوپر ہونے والے ظلم اور ذیادتی کے خلاف آواز نہ اُٹھانا بے حسی ہوتی ہے؟؟؟۔۔۔ یا۔۔۔ مجبوری ؟؟؟

یہ بھی پڑھیں  یکم مئی !مزدوروں سے یکجہتی کا عالمی دن
error: Content is Protected!!