تازہ ترینکالم

ویلیوایڈڈٹیکسٹائل سیکٹر،ایک بڑا چیلنج

پاکستان ایک زرعی ملک ہے اورگندم،کپاس اور چاول اس کی اہم پیدوار ہیں۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ٹیکسٹائل کی صنعت کوریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔پاکستان کپاس کی پیدوار میں دنیا کا چوتھا بڑاملک ہے اور ٹیکسٹائل کی مصنوعات میں ایشیاء کاآٹھواں بڑا ایکسپورٹر ہے۔ٹیکسٹائل انڈسٹری کا ہماری جی ڈی پی میں حصہ 8.5فیصدہے اور مینوفیکچرنگ سیکٹر کے 38فیصدافراد کا روزگاراسی سے وابستہ ہے۔پچھلے چندسالوں سے کپاس کی برآمدت میں کافی اضافہ ہوا ہے لیکن ہماری ویلیوایڈڈٹیکسٹائل مصنوعات بری طرح سے متاثر ہوئی ہیں جس کی اہم وجہ بجلی اور گیس کی بدترین لوڈشیڈنگ ہے۔گزشتہ برس بھی کپاس کی سرپلس پیدوارہوئی اور کپاس کی برآمدات میں 77.82فیصد اضافہ ہوااس کے برعکس ہماری ویلیوایڈڈٹیکسٹائل مصنوعات میں پیڈوئیرمیں19.11فیصد اورنٹ ویئر میں 22.2فیصد اورریڈی میڈگارمنٹس کی برآمدات میں 25.45فیصدکمی واقع ہوئی ہے۔اس سال امریکہ،انڈیا اور چائنہ میں بھی کپاس کی سرپلس پیدوارہوئی جس کی وجہ سے کپاس کی قیمت کم ہوگئی ۔اگرپاکستان اپنی سرپلس کپاس کی پیدوارکواستعمال کرکے ویلیوایڈڈ مصنوعات بناکرایکسپورٹ کرتاتواس سے کہیں زیادہ زرمبادلہ کماتا جو کہ خام کپاس کی ایکسپورٹ سے حاصل کیا۔
جرمنی کی Heimtexilنمائش جوکہ ٹیکسٹائل مصنوعات کے لحاظ سے دنیا کی ایک بڑی نمائش ہے اس میں پاکستان کی برآمدات کا والیوم 60فیصدکم ہوا ہے گزشتہ پانچ برسوں میں40 فیصدٹیکسٹائل انڈسٹری اورتقریبا200000پاورلومزبنگلہ دیش میں منتقل ہوئیں جس کی وجہ سے تقریبا 60,000مزدوراپنی نوکریوں سے ہاتھ دھوبیٹھے اور تقریبا 200000خاندان متاثر ہوئے۔بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ اورامن وامان کی خراب صورتحال کے پیش نظرپاکستانی ایکسپورٹربروقت آرڈرکوپورانہیں کرپائے جس کی وجہ سے غیرملکی خریدارپاکستانی برآمدات کو خریدنے میں کتراتے ہیں ۔اس صورتحال کا ہمارے پڑوسی ممالک بھارت ،چین اور بنگلہ دیش پورا،پورافائدہ اٹھا رہے ہیں ۔
پاکستان کے ویلیوایڈڈٹیکسٹائل سیکٹرزکی تباہی کی سب سے بڑی وجہ بجلی اور گیس کی بدترین لوڈشیڈنگ ہی ہے جس کے ہماری معیشت پربہت گہرے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔علاوہ ازیں امن وامان کی خراب صورتحال اورپیدواری قیمت میں اضافہ کی وجہ سے 40فیصد ٹیکسٹائل انڈسٹری بنگلہ دیش منتقل ہوچکی ہے۔بنگلہ دیش میں بجلی پاکستان کی نسبت 350فیصدسستی ہے اور پاکستان کی نسبت منافع کی شرح بھی 30فیصدزیادہ ہے۔اس کے علاوہ بنگلہ دیش میں لیبر بھی بہت سستی ہے جس کی وجہ سے وہاں سرمایہ کاری بڑھ گئی ہے۔بنگلہ دیش کی حکومت پاکستانی ٹیکسٹائل پرڈیوسرزکوایکسپورٹ پراسیسنگ زون میں خاص ایریا کے دس سال کیلئے ٹیکس کی چھوٹ اور بغیرٹیرف کے یورپی مارکیٹ میں رسائی دے رہی ہے۔بنگلہ دیش میں امن وامان کی صورتحال پاکستان سے خاصی بہترہے جس کی وجہ سے نقصانات کے امکانات بھی بہت کم ہیں ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ گورنمنٹ ایسی پالیسی بنائے جس سے ہماری ٹیکسٹائل انڈسٹری جو کہ ہماری معیشت کا اہم حصہ ہے کو تقویت ملے ۔بجلی اور گیس کے بحران پر جلدازجلدقابو پایا جائے تاکہ ہماری معیشت کوفروغ ملے۔اس کے علاوہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کوفروٖغ دینے کیلئے ٹیکس فری زون ،رعایتی نرخوں پر بجلی فراہم کی جائے اور بین الاقوامی مارکیٹ تک رسائی حاصل کرنے کیلئے لائحہ عمل تیارکیا جائے تاکہ ہماری معیشت مستحکم ہواورہماری صنعت کوفروغ ملے اورہماراملک ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہوسکے۔                   note

یہ بھی پڑھیں  بھائی پھیرو:حکمران دہشت گردوں پرکنٹرول کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں ،رانا امتیاز

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker