ساحر قریشیکالم

مشرف گھر کب آؤ گے!

لاکھوں کروڑوں لوگ ایک آس کی پیاس لیے بے چینی سے تمہاری راہ دیکھ رہے ہیں، انہوں نے ہوائی اڈے سے دارالسلطنت تک ایک لمبی قطار بنا رکھی ہے کہ تمہارا فقیدالمثال استقبال کرسکیں۔ نوجوان سب سے آگے اور مستعد ہیں، بزرگ بھی تمہاری راہ تک رہے ہیں اور بچوں کا بھی ایک جم غفیر ہے۔ ان کے ہاتھوں میں ہار ہیں، لبوں پر والہانہ پن ہے اور آنکھوں میں امید کے چراغ جل رہے ہیں۔ خدا کی قسم ایسا استقبال آج تک کسی کا نہیں ہوا ہوگا۔ پرویزمشرف تم گھرکب آو¿ گے! دیکھو یہ قوم کس طرح تمہاری منتظر ہے۔استقبالیوں میں سب سے آگے جواں سال حسان اپنی دادی کے ساتھ کھڑا چچا جان سے خوش گپیوں میں مصروف ہے اور اس کی دادی کی پشت پر جامعہ حفصہ اور جامعہ فریدیہ کے آٹھ سو طلبہ و طالبات پھولے نہیں سما رہے۔ دائیں سمت پر کشمیر کے ایک لاکھ بیس ہزار کفن پوش اور بائیں سمت پر افغانستان اور قبائلی علاقوں کے ایک لاکھ مرد و زن ہیں۔ ضعیف اکبر بگٹی بھی نظر آرہے ہیں اور چھ ماہ کا سلیمان بھی، شہید بے نظیر بھی ہیں اور درجنوں مقتول علماءکرام بھی۔ یہی نہیں، لاہور سے علامہ اقبال بھی آئے ہوئے ہیں اور کراچی سے قائداعظم و قائد ملت بھی۔ پرویزمشرف! تمہاری شخصیت اور کردار میں ایسا کیا خاص ہے جو عدم کے یہ مسافر بھی اپنی اپنی گوشہ نشینی چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور منتظر ِفردا ہیں!سنا ہے ابھی وہ ہزاروں لوگ جو تم نے لاپتا کردیئے تھے، ان کے اہل خانہ بھی تمہارا پوچھتے ہوئے آئیں گے، اور وہ ہزاروں اسیرانِ ملت بھی جو گوانتاناموبے اور بگرام ایئربیس کے زندانوں میں پابند ِسلاسل ہیں، تمہارے منطقی انجام کی خصوصی دعائیں کریں گے۔ تمہارے ہجر میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان بھی سخت اضطرابی کیفیت میں ایک گلدستہ لیے اپنے لان کا چکر لگا رہے ہیں، ڈاکٹر شازیہ بھی امریکا سے خصوصی طور پر ایک تحفہ لے کر تمہارے لیے آرہی ہیں، اور چیف جسٹس آف پاکستان بھی اپنے دو برسوں کی خوش گوار یادوں کا سرمایہ تمہارے قدموں میں بچھانے کے لیے بے چین ہیں۔ لیکن پرویزمشرف تم گھر کب آو¿ گے!تم نے نو برس تک پورے جاہ وجلال کے ساتھ اس قوم کی تقدیر پر اکیلے راج کیا۔ ایسا راج کہ بات زبان سے نکلے اور عمل پذیر ہوجائے۔ کون سا اختیار تھا جو ہاتھ میں نہیں تھا؟ کون سی طاقت تھی جو ساتھ نہیں تھی؟ کون سے وسائل تھے جو بروئے کار نہ لائے جاسکتے تھے؟ لیکن بے حیائی کے سیلاب، فکری انحطاط کے طوفان اور کشت و خون کی برسات کے علاوہ تمہارے اور کون سے کارنامے ہیں جو تم گنوا? گئے!تم نے اور تمہارے حواریوں نے اقتصادی اور معاشی ترقی کے بڑے بڑے بت کھڑے کیے لیکن وہ چند ٹھوکروں سے گر کر پاش پاش ہوگئے۔ آج پھر تم اس ملک کو اندھیرے سے روشنی کی طرف لانے کی بات کررہے ہو، لیکن جب تمہارے نام کا سکہ چلتا تھا تو تم نے اس ضمن میں کیا کیا تھا! کیا یہ بتانا پسند کرو گے کہ تم نے کتنے ڈیم بنوائے تھے، کتنے بجلی گھر لگوائے تھے، کتنے موٹر وے اور ہوائی اڈے بنوائے تھے اور کتنی صنعتیں لگوائی تھیں۔ کیا تم نے شہد کی نہریں جاری کردی تھیں؟ کیا تم نے اسٹیل مل کو منافع بخش بنادیا تھا؟ کیا تم نے کرپشن کا خاتمہ کردیا تھا؟ نہیں تو تم نے کیا کیا، سوائے اس قوم کو پیچھے کی سمت لے جانے کی!تم نے تو اس ملک کو بھارت اور بنگلہ دیش سے بھی بیس سال پیچھے کردیا ہے۔کیا تعلیم کے شعبے میں جس رفتار سے ان دو ممالک نے پچھلی ایک دہائی میں ترقی کی، اس کا نصف بھی یہ قوم دیکھ سکی؟ کیا آئی ٹی، توانائی اور ٹیکسٹائل کے شعبوں میں ان کا کسی سطح پر مقابلہ کیا جاسکا؟ یا علاج معالجہ اور صحت کی سہولیات میں ہی ان کو زیر کیا جاسکا؟تم نے نو سال روشن خیالی اور جدت پسندی کے راگ الاپے لیکن سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں کوئی ایک بھی ایسا کارنامہ ہے جسے تم اپنی چھاتی پر سجا سکو؟ تم نے نو سال خوشحالی کے بلند آہنگ نعرے لگائے، لیکن متوسط طبقے کو سوائے لیز پر لی گئی گاڑیوں اور مکانات (جن کے سود بھرنے سے اب وہ قاصر ہیں) کے کیا ملا! کیا افراط ِزر کی شرح میں مجموعی طور پر سو گنا اضافہ نہیں ہوا؟ کیا غریب غریب تر اور امیر امیر تر نہیں ہوگیا؟ کیا بے روزگاروں اور خط ِغربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ نہیں ہوا؟ کیا غیر ملکی قرضوں میں تین گنا اور ملکی قرضوں میں دو گنا اضافہ نہیں ہوا؟کیا ٹیکسٹائل کی صنعت برباد نہیں ہوگئی؟ کیا پی آئی اے خسارے میں نہیں چلا گیا؟ کیا تم نے قومی اداروں کو کوڑیوں کے دام من پسند افراد کو فروخت نہیں کردیا؟ کیا اسٹاک ایکسچینج کی کساد بازاری میں بڑی مچھلیوں نے چھوٹی مچھلیوں کا زندگی بھر کا سرمایہ ہڑپ نہیں کرلیا؟ کیا برادر اسلامی ملک کو تاراج کرنے کے لیے جو امداد ملی اس میں بڑے پیمانے پر کرپشن اور بدانتظامی نہیں ہوئی؟ اور 8 اکتوبر2005ءکے زلزلے میں ملکی و غیر ملکی جو امداد ملی اسے مالِ مفت دلِ بے رحم کی عملی صورت نہیں بنایا گیا؟بے غیرتی اور منافقت کی اعلیٰ مثال دینی ہو، تکبر اور گھمنڈ کے بت کھڑے کرنے ہوں، دین فروشی اور عہد شکنی کا پیمانہ دکھانا ہو تو اس اکیسویں صدی میں تم سے بڑا عبداللہ بن ابی کون ہے! یاد کرو تم چور دروازے سے اقتدار میں آئے اور منتخب وزیراعظم کو پاپندِ سلاسل کیا، عدلیہ پر شب خون مارا اور ایک ہی وار میں اسے ضمیر فروشوں سے بھردیا۔ سودی بینکاری پر پابندی سے متعلق وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ آیا تو اللہ سے کھلی جنگ چھیڑ دی، ریفر

یڈم کا ناٹک رچاکر صدر بنے اور پارلیمنٹ کو اپنے کھیت کی مولی میں تبدیل کردیا، قوم سے وردی اتارنے کا عہد کیا لیکن عہد شکنی کی مثال بن گئے، محسنِ پاکستان کو اپنے اقتدار کی سولی پر چڑھاکر بے آبرو کیا، سینکڑوں مسلمانوں کو امریکا کے ہاتھوں فروخت کرکے کمالِ ڈھٹائی سے اپنی کتاب میں اعتراف ِجرم کیا، شوکت عزیز جیسے عالمی اداروں کے چاکروں کو ملکی معیشت تباہ کرنے کا ٹھیکہ دیا، تمام مکاتب ِفکر کی سخت مخالفت کے باوجود حدود اللہ میں ترامیم کی جسارت کی، قبائلی علاقوں میں امریکا سے ڈرون حملے کرواکر محب وطن پاکستانیوں کو افواج پاکستان کے سامنے لاکھڑا کیا، بلوچستان میں ایک بزرگ سیاست دان کو قتل کرواکر بلوچوں میں محرومی کے جذبات راسخ کردئےے، بھارت سے دوستی کے نام پر کشمیریوں کی آرزﺅں کا سودا کیا، لال مسجد میںسینکڑوں معصوم طلبہ و طالبات کے خون کی ہولی کھیلی اور عدلیہ نے سر اٹھایا تو اسے بری طرح کچلنے کے لیے آخری حد تک گئے۔ پرویزمشرف! تمہارے کون کون سے جرائم بیان کروں، بس اتنا مت بھولنا کہ تم نے ہمارا سکون لوٹا ہے، لیکن اب کی بار تمہارے لیے اقتدار کی کرسی نہیں پھانسی کا پھندا ہے۔تمہارا معاملہ تو یہ ہے کہ رسّی جل گئی لیکن بل ختم نہیں ہوئے۔ وہی اکڑ، وہی بدمعاشی اور وہی خود پر ناز۔ آج بھی خود کو خدا سمجھتے ہو، آج بھی خود کو عقلِ کل مانتے ہو، اور آج بھی اپنے مخالفین کو گمراہ کہتے ہو۔ بلوچستان اور فاٹا میں شورش اور ملک بھر میں سیاسی عدم استحکام کیا تمہارا رچایا ہوا نہیں ہے؟ اور معیشت کی یہ ڈوبتی کشتی اور مہنگائی کی یہ آگ کیا تمہاری لگائی ہوئی نہیں؟ اور کیا یہ موجودہ انتہاپسندی اور دہشت گردی تمہارے دور کی ایجاد نہیں؟ آج تم این آر او پر معافی مانگ رہے ہو لیکن اس کے نتیجے میں جو چور اچکے حکمران ہوئے اس کا حساب کون دے گا۔ جو سرمایہ دارانہ معاشی پالیسی تمہارا ایک حواری بناکر گیا ہے اور جس کا مزا اس ملک کے عوام آج تک چکھ رہے ہیں اس کا جواب کون دے گا! تمہیں ملک سے رفوچکر ہونے پر کس نے مجبور کیا تھا اور آج تم گھر واپسی کی بات کررہے ہو تو کس نے روکا ہے! سنتے ہو لاکھوں کروڑوں لوگ ایک آس کی پیاس لیے شدید بے چینی سے تمہاری راہ دیکھ رہے ہیں، انہوں نے ہوائی اڈے سے دارالسلطنت تک ایک لمبی قطار بنا رکھی ہے کہ تمہارا فقیدالمثال استقبال کرسکیں۔ نوجوان سب سے آگے اور مستعد ہیں، بزرگ بھی تمہاری راہ تک رہے ہیں اور بچوں کا بھی ایک جم غفیر ہے۔ ان کے ہاتھوں میں ہار ہیں، لبوں پر والہانہ پن ہے اور آنکھوں میں امید کے چراغ جل رہے ہیں۔ خدا کی قسم ایسا استقبال آج تک کسی کا نہیں ہوا ہوگا، پرویزمشرف تم گھرکب آو گے، دیکھو یہ قوم کس طرح تمہاری منتظر ہے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker