کالممحمد فرحان عباسی

سانحہ ہماری قوم کا

یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ روایت چلی آرہی ہے ہماری اس قوم کی جو بھوک سے تو مر رہی ہے ،جن کے پاس کھانے پینے ،تعلیم صحت ،اور زندگی گزارنے کے کسی بھی قسم کے وسائل نہیں ہیں ،اس قوم کے لئے سانحہ ہے کہ اسے جب کھبی جس نے بھی چاہا اپنے مقاصد کے لئے ٹشو کی طرح استعمال کیا ،اور استعمال کے بعد جب مقاصد حاصل ہو گئے تو تو گندی نالی کے کیڑے کی طرح پھینک دیا،اس قوم کا ایک سانحہ یہ بھی ہے کہ اس نے کبھی بھی اپنے اور اپنے اہل وعیال کے فائدے کے لئے آواز نہیں بلند کی ،غیروں نے اس قوم کے ذریعے اپنے سارے فوائد حاصل کئے مگر ہماری قوم اب تک یہ نا جان سکی کہ اس کا فائدہ کس چیز میں ہے ،شاید یہ اس قوم کے افراد سادہ لوح ہیں مگر یہ بھی جھوٹ ہو گا اگر اس کو سادہ لوح قرار دیں ،کیونکہ اگر یہ سادہ لوح قوم ہوتہ تو اس قوم کے بچے بچے کے ہاتھ میں دودو موبائیل نا ہوتے ،اگر اس قوم کو سادہ لوح مان لیا جائے تو پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ سادہ لوح قومیں تو وہ ہوتی تھیں جن کو تزئین وآرائش کی فکر نہیںہوتی تھی وہ قومیں نمودونمائش کے نام سے ہی واقف نا تھیں تو یہ کیسے مان لیں کہ یہ سادہ لوح قوم ہے حالانکہ سادہ لوح قوم کے لو گ تو اپنے معاشرے کے معماروں کی عزت کرتے تھے وہ ان کو اپنے سروں کا تاج سمجھتے اور سجاتے تھے چلو ایک لمحے کے لئے مان لیا کہ یہ سادہ لوح قوم ہے ،مگر سادہ لوح قوموں کے افراد نے تو کبھی دولت کی خاطر انسانیت کا خون نہیں کیا ،انہوں نے تو کبھی دولت کی ہوس میں اپنے ہی رشتہ داروں سے دوری اختیار نہیں کی تو یہ کس قسم کی سادہ لوح قوم ہے ، میں نہیں مانتا کہ یہ سادہ لوح قوم ہو سکتی ہے ،شائد کوئی بھی میری اس بات سے اتفاق نا کرے مگر میں اس بات سے انکار کرتا ہوں کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں یہ سادہ لوح قوم ہے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ قوم سادہ لوح ہو جسے ناچ گانے سے پیار پیار ہو جو ناچ گانے کو اپنا کلچر اور تہذیب قرار دے ،اور جس قوم کی مائیں بہنیں آدھ ننگیں سڑکوں اور مارکیٹوں میں گھومیںاور اس کو اپنی آزادی تصور کریں ،یہ کسی عظیم سانحے سے کم نہیں کہ ہم اپنے مذہب سے بغاوت کر رہے ہیں اور اس بغاوت کو اپنی کامیابی قرار دے رہے ہیں ،ہمارے مذہب نے تو ہمیں اساتذہ کی تعظیم کا درس دیا ہے اگر ہم یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں تو ہمیں اس عظیم منصب کے تقدس کا خیال کرنا پڑے گا ،اور اس منصب کو سروںکا تاج بنانا ہو گا ،مگر ہمارے ہاں تو گنگا الٹی ہی بہتی جا ریہ ہے یہاں پہلوپہل تو سنا کرتے تھے کہ کالجوں اور سکولوں میں طلبا نے اساتذہ پر تشدد کیا ،مگر اب یہ بات سکولوں اور کالجوں سے نکل کر سیاست میں آن پہنچی ہے ،ہمارے سیاست کے کچھ وفادار اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ہمارے ملک کے معماروں کو سرعام بڑی دلیری سے تھپڑ مار تے ہیں ،اور وہ بھی قانون کے رکھوالوں کی موجودگی میں ،خوف خدا نا سہی قانون کا احترام کرنے سے بھی قاصر نظر آنے والوں نے انتہا اس وقت کر دی جب جرم کے بعد اس پر سینہ سپر دیوار بن گئے اور ایک وزیر موصوف کہنے لگے کہ تھپڑ نہیں مارا گیا بلکہ الٹے ہاتھ سے پش کیا گیا ہے ،جی جناب ذراکوئی عام آدمی اٹھے اور آپ کے منہ پر بھی الٹے ہاتھ سے پش کرے یا آپکی اولاد یا پارٹی کے کسی بھی عہدیدار کے منہ پر پس کرے تو دیکھیں گے کہ یہ پش تھا یا کہ۔؟  اور باقی حدیں اسوقت پار ہو گئیں جب اسی عوام سادہ لوح کہلوانے والی عوام کے کچھ افراد نے اس مجرم جس نے قوم کے معمار کے منہ پر تھپڑ مارا تھا اس کے حق میں مظاہرے کر نے شروع کر دئیے،اور مجرم کو معصوم قرار دینے لگے حالانکہہ اس کو پہلے ہی ہمارے ملک کی عدلیہ مجرم قرار دیکر سزا دے چکی تھی اب یہ فیصلہ کرنا ہر ذیشعور کے لئے آسان ہے کہ یہ ہماری قوم کے لئے کسی بڑے سانحے سے کم ہے کہ نہیں ۔

یہ بھی پڑھیں  ’’ غدار،مکار،عیاربڑے فنکار ہیں جناب‘‘

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker