تازہ ترینکالممحمد صدیق مدنی

پشتون اسلامی رسم ورواج اور ثقافت

Siddiq Madani Columnistپشتون پانچ حروف کا مخفف ہے جس کا مطلب اس طرح سے ہے۔ پ سے پت عزت اور حیا۔ ش سے شکرگزار یا شیگڑہ جس کے معنی ہیں ہمدرد اور خیرخواہ۔ ت سے تورہ جس کے معنی ہیں تلوار جفاکش اور محنتی۔ و سے وفاداریعنی وطن سے محبت کرنے والا۔ ن سے ننگ یعنی ننگ کرنے والا بہادر۔ حقیقت ہے کہ پشتون معاشرے میں یہ سب کچھ ہے مہمان نوازی ، دلیری وطن اور دین سے محبت کرنے والے یہ لوگ دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ تمام پشتون آپس میں بھائی بھائی ہیں جس طرح تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ چونکہ پشتونوں میں وہ ساری خوبیاں موجود ہیں اس لئے تمام پشتونوں نے اسلام کے شروع میں اسلام قبول کیا۔ پشتون معاشر ے پر اسلامی اثرات سے بہت فوائد حاصل ہوئے ہیں جہان صدیوں سے جنگیں ہوتی تھیں اب پشتون آمن اور سکون کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ پشتونوں کے اپنے قوانین ہیں اکرچہ یہ قوانین تحریری شکل میں موجود نہیں ہیں مگر برطانیہ کی قوانین کی طرح اس پر عمل درآمد ضرور ہوتا ہے۔ پشتون معاشرہ برادریوں اور مختلف خاندانوں میں بٹا ہوا ہے جس میں کاکڑ ، اچکزئی ، ابدالی ، خٹک ، خلجی ، ترین ، آفریدی ، وزیر ، محسود ، یوسفزئی ، اور وردگ اور اس طرح اور قبائل ہیں اور پھر یہ قبیلے بھی چھوٹے چھوٹے گروہوں میں تقسیم ہوئے ہیں مثلا اچکزئی میں حمیدزئی اور اس کی شاخین ، غبیزئی ، عشیزئی ، ملیزئی ، پیرعلیزئی ، کاکوزئی اوور عثمان زئی وغیرہ اور اس کی بہت سی شاخیں ہیں۔ اور مزید معلومات کے لئے پشتون قبائل پہ اور بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ پشتون معاشرے میں چادر اور دستار کو بہت اہمیت حاصل ہے ہر پشتون کندھے پر چادر اور کچھ سر پر دستار باندھتے ہیں اکثر بڑے بڑے لیڈر اور قبائلی رہنما سر پر بگڑی باندھتے ہیں جوکہ اسلامی روایات کے عین مطابق ہیں پشتون لوگ بچوں کو اسلامی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم بھی دیتے ہیں اور بچوں کو پشتو کی تعلیم بھی دی جاتی ہیں تاکہ یہ بچے اپنی زبان پشتو لکھ بھی سکے اور پڑھ بھی سکے۔ تاہم شہروں میں اب حالات اب بدل گئے ہیں ریڈیو ، ٹی وی ، ڈش ، کیبل اور انٹرنیٹ نے بھی نئی نسل پر دوررس اثرات ڈالے ہیں اور یوں شہروں میں معاشرتی نظام بین الاقوامی سطح پر ایک ہو رہا ہے جس میں پینٹ شرٹ اور ٹائی کا استعمال عام ہو رہا ہے اگرچہ بعض لوگ ٹائی کو پسند نہیں کرتے تاہم پینٹ شرٹ یعنی پتلون اور قمیز کا استعمال شہروں میں عام ہورہا ہے۔خاص کر کالج کے لڑکے اس کو پسندگی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں مگر اکثر شلوار قمیض استعمال کرتے ہیں جبکہ واسکٹ کا استعمال بھی عام ہے۔ نفیس کپڑوں کے ساتھ اس رنگ میں واسکٹ بھی ہی اچھا اور دیدہ زیب لگتا ہے۔ اسی طرح اکثرمبلغ حضرات پگڑی استعمال کرتے ہیں اس طرح پشتون لوگ افغان جنگ کی وجہ سے یورپ ، عرب ممالک اور امریکہ پہنچ گئے ہیں جو اپنے ساتھ ثقافتی روایات بھی لے گئے ہیں اس لئے مغرب کے لوگ بھی اب شلوار قمیض کو پسند کرتے ہیں خاص کر عورتیں اس لباس کو بہت پسند کرتیں ہیں یوں پشتون معاشرے کے اثرات باقی اقوام پر بھی ہونے لگے ہیں پشتون بہت جفا کش ہیں اس لئے عرب اقوام کی ترقی میں ان کا بڑا ہاتھ ہے۔ بلکہ امریکہ اور یورپ وغیرہ میں بھی بہترین خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ کروڑوں پشتون دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں اس لئے اب تو دنیا ان کی ملنساری محبت اور نیک سیرتی سے واقف ہوگئی ہے اور مہمان نوازی میں بھی بہت آگے ہیں سیاسی اور قبائلی اعتبار سے پشتونوں میں جرگہ سسٹم ہے اور جرگہ کے ذریعے اپنے لیڈر کو منتخب کرتے ہیں جو ایک مشاورت ہے جو اسلامی روایات اور حکم کے عین مطابق ہے۔پشتونوں میں آپس میں پیار اور محبت بہت زیادہ ہے جس کی وجہ دینداری اور اعلیٰ اوصاف ہیں جس طرح قْرآن مجید میں ارشاد ہیں کہ ترجمہ :۔ لوگو ! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا پھر تمھاری قومیں اور قبیلے بنائے تاکہ ایک دوسرے کی شناخت کرسکو تم میں سے سب سے زیادہ با عزت اور فضلت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے۔ تقویٰ کا مادہ پشتونوں میں بدبہ پایا جاتا ہے پشتونوں میں شادیاں بڑے سادے انداز میں ہوتی ہیں شادیوں میں فوک گانے گائے جاتے ہیں مٹھایاں بھی نکاح کے دوران تقسیم کی جاتی ہیں۔ ولیمہ میں اب چاول ، مرغی کا استعمال اب عام ہے۔ جبکہ قبائل میں روٹی اور سالن کا رواج عام ہے۔ سب برادری کے لوگ کھانا ایک ساتھ کھاتے ہیں اسلامی روایات کے مطابق اکھٹاکھانے میں برکت ہوتی ہے اس سے آپس میں پیار اور محبت بڑھتی ہے۔ پشتونوں میں مہمان نوازی کا یہ عالم ہے کہ جگہ جگہ محلوں میں یا قبائل میں حجرے بنے ہوئے ہیں۔ جہاں سب اکٹھے ہو کر سیاسی ، ادبی اور عملی مباحثے کرتے ہیں۔ شہروں میں حجرے کی جگہ بیٹھک بن گئے ہیں تاہم حجروں کی اپنی اہمیت سے چمن ، قلعہ عبداللہ ، گلستان اور پشین کے مختلف علاقوں میں اب بھی حجرے قائم اور دائم ہیں۔ پشتونوں میں ایک اور رسم بھی ہے جیسے ننواتی کہتے ہے یہ بھی ایک اچھی رسم ہے جس میں دو فرقوں کے درمیان راضی نامہ کیا جاتا ہے اور ایک پھتر رکھ دیا جاتا ہے اس میں کچھ رقم دوسرے مظلوم کو دی جاتی ہے اور یوں ننواتی کے ذریعے پھر سے راضی ہو جاتے ہیں۔ جبکہ ایسے مسائل عدلیہ کے ذریعے سالوں میں بھی حل نہیں ہوسکتے عموما اس میں چار بڑے شریک ہوتے ہیں اور گاوں اور علاقے کے لوگ ان کی زبان پع لبیک کہتے ہیں اس طرح بدرگہ بھی ایک اچھی رسم ہے جو حفاظتی دستے کی شکل میں مہمان کی حفاظت کرتے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker