انور عباس انورتازہ ترینکالم

احساس اور احترام کا فقدان

anwar abasاّج ہم دعوے کرتے تھکتے نہیں کہ ہم ترقی کی معراج پر ہیں۔ہمارا شمار تعلیم یافتہ معاشروں میں ہو رہا ہے۔ لیکن اگر دیکھا جائے تو در اصل میں ہم اخلاقیات کے حوالے سے پستی کی انتہائی گہرائیوں کو چھو رہے ہیں۔نہ بڑوں کا ادب ہم میں رہا ہے اور نہ ہی بزرگوں کا احترام ہمارے دلوں کے کسی کونے کھدروں میں اپنی موجودگی کا پتہ دیتا ہے ۔پہلے زمانے میں دور دراز کے دیہاتوں میں باراتیں گھوڑوں پر سوار ہو کر جایا کرتی تھیں۔ اور وہاں دو دو دن قیام کیا کرتی تھیں ۔باراتیوں کے گھوڑوں اہل دیہات کے کھیتوں میں کھلے عام گھوم پھر کر چارہ کھایا کرتے اور اپنا پیٹ پھرتے تھے۔ہر ایک کے چہرے پر مسکراہٹ ہوتی تھی۔اور کبھی کسی کے ہاں کوئی مر جاتا تو پورے گاؤں میں کسی گھر میں چولہا نہیں جلتا تھا۔۔۔ روٹی نہیں پکتی تھی ایسے لگتا تھا جیسے پورے گاؤں میں مر گ ہوئی ہے ۔ لیکن آج ساتھ والے گھر میں جواں سال مرگ ہوئی تھی ہے اور پڑوسیوں کے گھر کھانے پکانے کے علاوہ موج مستیاں ہو رہی ہوتی ہیں۔آج کے ترقی یافتہ اور تعلیمی لحاظ سے اعلے درجے پر فائز ہونے کے باوجود ہمارے دل اپنے کسی دوسرے ضرورت مند مسلمان بھائی کے لیے نہیں دھڑکتے۔
یہ باتیں مجھے کل اسوقت یاد آئیں جب میں شرقپور شریف سے لاہور جا رہا تھا۔ہماری گاڑی میں انارکلی سٹاپ سے ایک بزرگ سوار ہوے جن کی عمر پچھتراسی برس ہوگی کنڈیکٹر نے ان سے کرایہ طلب کیا تو انہوں نے کہا کہ ان کے پاس کارڈ ہے اور کارڈ کنڈیکٹر کو دکھایا بھی لیکن نوجوان اور باریش کنڈیکر نے کارڈ تسلیم کرنے سے انکار کیا اور۵ بزرگ سے کرایہ دینے کا مطالبہ کیا اور ساتھ ہی کچھ نازیبا قسم کے الفاظ بھی کہے۔جوا ب میں ان بزرگوں نے کہا کہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔تب کنڈیکر کی بدزبان کو بریک لگی۔میں نے اس بزرگ سے کارڈ دیکھنے کی فرمائش کی تو انہوں نے کارڈ میرے حوالے کر دیا۔کارڈ لاہور ٹرانسپوٹ اتھارٹی کا جاری کردہ تھا۔کارڈ نمبر دو ہزار گیارہ ایس سی دو سو پندرہ پر بزرگوں کا نام چودہری بشیر احمد درج تھا۔ یہ حکومتی پالیسی کے عین مطابق ہے جس کے تحت ساٹھ سال سے زائد عمر کے حامل بزرگوں کو مفت سفری سہولیات فراہم کرنے کا کہا گیا ہے۔لیکن افسوس ہائے صد افسوس ہے کہ منہ زور بس کنڈیکٹر حکومت کی پالیسی کٰ سرعام دھجیاں بکھیر رہا تھانہ جانے روزانہ کتنے بزرگوں کو بے عزت کیا جاتا ہوگا ؟۔
پچھلے ہفتے ہمارے نواحی گاؤں بھوئیوال میں ایک میٹرک کے نوجوان بائیس سالہ توصیف کو کچھ درندہ صفت افراد نے پیسوں کے لالچ میں اغوا کیا اور اسکی رہائی کے بدلے چھ لاکھ روپے تاوان مانگا۔اسکے غریب باپ نے اپنے لخت جگر کی جان بچانے کے لیے پولیس کے ساتھ ساتھ کسی کو بھی اطلاع نہ کی۔اور تاوان کی رقم جمع کرنے میں لگا رہا بتایا جاتا ہے کہ کچھ رقم اغوا کاروں کو دے بھی گئی تھی لیکن اسکے باوجود درندوں نے توصیف کو قتل کرکے اسکی لاش کہیں دور ویرانے میں پھینک دی۔مقتول کے ساتھی طلباء نے بھرپور احتجاج کیا۔مین جڑانوالہ روڈ بلاک کرکے دھرنا دیاجو کئی گھنٹے تک جاری رہا۔دھرنے اور بھرپور احتجاج کے باعث تھانہ شرقپور شریف نے ایک ملزم کو گرفتار تو کر لیا لیکن ملزم سے اسکے باقی ساتھیوں کے نام اگلوانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔احتجاج کے اگلے روز صبح سات بجے میسج ملا کہ دس بجے خادم اعلی پنجاب مقتول توصیف کے گھر موضع بھوئیوال اظہار یکجہتی کے لیے پہنچ رہے ہیں۔ضلع شیخوپورہ کی تمام انتظامیہ کو وخت پڑ گیا۔سکیورٹی والوں نے سارے گاؤں کو اپنے حصار میں لے لیا۔ہیلی پیڈ بھی تیار کرلیا گیا۔مقتول طالب علم کے دوست احباب اور والدین خادم اعلی کی آمد کی خبر پاکر پر امید ہو گے کہ اب انہیں انصاف مل جائے گا ۔ خادم اعلی کی بھوئیوال آ مدکی اطلاع پر مسلم لیگی متوالوں اور الیکشن میں مسلم لیگ کے ٹکٹ کے خوائش مند وں نے خادم اعلی پنجاب کی آنکھ کا تارا بننے کے لیے پورے سوگوار گاؤں خیر مقدمی بینروں اور خوبصورت فلیکسوں سے دلہن کی طرح سجا دیا تھا۔لیکن کسی ایک متوالے نے سوگوار خاندان سے اظہار ہمدردی کے لیے ایک بینر اور فلیکس نگانا پسند نہیں کیا تھا۔اس سے بڑھ کر اور کیا ستم ظریفی اور بے حسی ہوگی کہ خادم اعلی پنجاب نے قبل از دوپہر اپنا دورہ منسوخ کردیا۔اور مقتول طالب علم کے والدین ، عزیز و اقارب دوست بیلی یار خادم اعلی کی راہ تکتے رہ گے۔یہ تو کوئی طریقہ نہیں ہے سوگوار خاندان سے اظہار ہمدردی کرنے کا بلکہ اسے لوگ مقتول خاندان کے زخموں پر نمک پاشی قرار دیں گے۔اس واقعہ کے چند روز بعد پولیس نے تین ملزمان کو ایک پولیس مقابلے میں پار کر دیا ہے۔
بے حسی کا ایک اور نادر نمونہ بھی لائق تحسین ہے۔میرے آبائی شہر شرقپور شریف کے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کی تعمیر کو مکمل ہوئے کئی مہینے بیت چکے ہیں۔تمام عملے کی تقرریاں بھی عمل میں لائی جا چکی ہیں۔دو تین بار خادم اعلی پنجاب ہسپتال کے افتتاح کے لیے وقت دیکر نہیں پہنچ پائے۔اس حوالے سے مختلف خبریں اور افواہیں گردش کر رہی ہیں۔لیکن حقیقت کیا ہے اور شرقپور شریف کے تحصیل ہیڈکواٹر ہسپتال کے افتتاح کے لیے نہ پہنچ پانے کے حوالے سے خادم اعلی کی کیا مجبوریاں ہیں۔یہ خادم اعلی ہی بہتر جانتے اور بتا سکتے ہیں۔میرے خیال میں خادم اعلی پنجاب کی شائد ایک مجبوری یہ بھی ہوکہ وہ اپنی تمام تر صلاحیتوں اور توجہ ایشیا کے سب سے بڑے میٹرو بس منصوبے کی ریکارڈ ٹائم میں تکمیل اور افتتاح پر مرکوز رکھنا چاہتے تھے۔خادم اعلی کی راہ دیکھتے ہسپتال کا عملہ روزانہ آتا ہے حاضری لگاتا ہے اور گھر چلا جاتا ہے۔اب الحمد للہ خادم اعلی میٹرو بس سے فارغ ہو گے ہیں اور شرقپور شریف کے عوام کو پر امید رہنا چاہئے کہ اب انہیں خادم اعلی کی زیارت کا شرف بھی حاصل ہو جائے گا انشاء اللہnote

یہ بھی پڑھیں  پتوکی:پیپلزپارٹی اوراتحادی لوٹوں کو آئندہ انتخابات میں شکست دیں گے،رانا اسحاق

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker