اطہر مسعودوانیتازہ ترینکالم

ریاستی بیوروکریٹس سے وزیر اعظم آزاد کشمیر کی زیادتی

وزیر اعظم آزاد کشمیر چودھری عبدالمجید نے بلوچ کے الیکشن میں عوامی شکست سے بوکھلا کر آزاد کشمیر کے چیف سیکرٹری اور انسپکٹر جنرل پولیس کو واپس اسلام آباد روانہ کرنے کا حکم نامہ جاری کیا۔شاید وزیر اعظم آزاد کشمیر کا یہ خیال ہو کہ اس اقدام سے بلوچ کے الیکشن میں عوامی شکست سے پیدا ہونے والی صورتحال کے علاوہ پیپلز پارٹی حکومت کی عوام میں تیزی سے گرتی ہوئی ساکھ کو بھی سہارا دیا جاسکے گا۔لیکن وزیر اعظم چودھری عبدالمجید چیف سیکرٹری اور آئی جی پی کی برطرفی کے احکامات جاری کرتے ہوئے یہ بھول گئے کہ یہ کسی برادری کا فیصلہ نہیں بلکہ چیف ایگزیکٹیو کا فیصلہ ہے، جو آئین،قانون اور ضابطوں کا پابند ہوتا ہے۔ وزیر اعظم نے اپنی سیاسی ساکھ کو سہارا دینے کے لئے قانون اور ضابطوں کو نظر انداز کرتے ہوئے نہ صرف یہ کہ چیف سیکرٹری اور آئی جی پی کی برطرفی کا حکم نامہ جاری کیا بلکہ دو ریاستی افسران کو ان کی جگہ ان کے عہدوں پر فائز کرنے کا حکم نامہ بھی جاری کر دیا۔لیکن وزیر اعظم آزاد کشمیر کے ان حکم ناموں کے سرکاری نوٹیفیکیشن جاری نہ ہوسکے کیونکہ سیکرٹری سروسز چودھری منیر وزیر اعظم آزاد کشمیر کی طرف سے چیف سیکرٹری اور آئی جی پی کی برطرفی کے حکم نامے کو قانون اور ضابطوں کے منافی سمجھتے تھے اور ساتھ ہی سیکرٹری قانون ادریس تبسم نے بھی وزیر اعظم چودھری عبدالمجید کی خوا ہش کے برعکس قانونی رائے دی۔ وزیر اعظم چودھری عبدالمجید نے پہلے سیکرٹری سروسز چودھری منیر کو ’او ایس ڈی‘ کر دیا اور اس کے بعد اب سیکرٹری قانون ادریس تبسم کو بھی ’او ایس ڈی‘ کیا گیا ہے۔
وزیر اعظم چودھری عبدالمجید کے ان جذباتی اور آئین و قانون سے ماوراء احکامات اور وفاق کے متعین کردہ چیف سیکرٹری اور آئی جی پی پر اس کا کوئی اثر نہ ہونے سے آزاد کشمیر میں ایک سنگین حکومتی و سرکاری بحران پیدا ہو گیا۔ وزیر اعظم چودھری عبدالمجید نے یہ احکامات بھی جاری کئے کہ کوئی محکمہ کوئی فائل چیف سیکرٹری یا آئی جی پی کو ارسال نہ کرے۔اس صورتحال میں ہر کوئی سمجھتا تھا کہ وزیر اعظم چودھری عبدالمجید اس طرح کا انداز اپناتے ہوئے اپنی حکومت کے خاتمے کی راہ خود ہی ہموار کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم چودھری عبدالمجید کے اس غیر مناسب انداز سے آزاد کشمیر حکومت ایک مذاق بن گئی ۔ وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف نے وزیر اعظم آزاد کشمیر چودھری عبدالمجید،وزیر امور کشمیر چودھری برجیس طاہر اور مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر راجہ فاروق حیدر خان سے ملاقات کرتے ہوئے آزادکشمیر حکومت کو مزید تماشہ بننے سے روکا اور معاملات کو آئین و قانون کے روشنی میں طے کرنے کی تلقین کی۔
وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کی طرف سے آزاد کشمیر کی پیپلز پارٹی حکومت کی عزت ایک بار پھر بچانے کی کوشش کے بعد توقع تھی کہ وزیر اعظم چودھری عبدالمجید اپنی غلطیوں کا احساس اور مداوا کریں گے لیکن وہ وزیر اعظم پاکستان کی طرف سے اپنی حکومت کے حق میں محفوظ راستہ فراہم کئے جانے کے باوجود ’’اپنے سینگ جھاڑیوں میں پھنسانے‘‘ کو ہی کامیاب سیاست سمجھ بیٹھے ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان سے ملاقات کے بعد سیکرٹری قانون ادریس تبسم کو بھی سیکرٹری سروسز چودھری منیر کی طرح قانون و ضابطے کی پابندی کی پاداش میں’او ایس ڈی‘ کر دیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ آئندہ چند ہی ماہ میں چیف سیکرٹری اور آئی جی پی بھی تبدیل ہو جائیں گے۔لیکن اس سے اگلی بات وہ عوام کو بتانے سے قاصر ہیں کہ آزاد کشمیر میں نیا چیف سیکرٹری اور نیا آئی جی پی آنے کے دوران ہی وزیر اعظم چودھری عبدالمجید حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک دوبارہ آ سکتی ہے کہ اب وفاق کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ آزاد کشمیر میں عدم اعتماد کا معاملہ آزاد کشمیر اسمبلی کے ارکان کا صوابدیدی اختیار ہے،وفاقی حکومت اس میں مداخلت نہیں کرے گی۔
حقیقت حال یہ ہے کہ وزیر اعظم چودھری عبدالمجید کو پسند ہو یا نہ ہو لیکن چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس بدستور اپنے عہدوں پر فائز ہیں ۔وزیر اعظم آزاد کشمیر ان کے خلاف کوئی سرکاری کاروائی کرنے سے تو قاصر ہیں لیکن وہ اپنا ناجائز غصہ آزاد کشمیر کے ان بیورو کریٹس پر نکال رہے ہیں جنہوں نے وزیر اعظم آزاد کشمیر کو آئین ، قانون اور ضابطوں کے مطابق رائے دی اور وزیر اعظم آزاد کشمیر کے ناجائز احکامات پر عملدر آمد سے انکار کیا۔اگر آزاد کشمیر میں اسی طرح بیوروکریٹس کو ناجائز طور پر قانون،ضابطوں کی پابندی کے ’’ جرم‘‘ میں انتقامی کاروائیوں کا نشانہ بنایا جا تا رہا اور اس صورتحال کا سخت نوٹس نہ لیا گیا تو آزاد کشمیر کی بیوروکریسی میں ایسی ’’ جی حضوری‘‘ کو فروغ ملے گا کہ جس سے آزاد کشمیر کی بیوروکریسی کے لئے عزت و احترام ختم ہو کر رہ جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں  شاخِ نازک پہ آشیانہ

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker