تازہ ترینکالممحمد مظہر رشید

کالم : سانچ اوکاں سے اوکاڑہ تک کا سفر تحریر محمد مظہر رشید چوہدری اوکاڑہ

کالم : سانچ
اوکاں سے اوکاڑہ تک کا سفر
تحریر محمد مظہررشید چوہدری اوکاڑہ
چند روز پیشتر ایف ایم 92&90کے پروگرام آپکی آواز میں سید ندیم مقصودجعفری کے ساتھ تحصیل اوکاڑہ کے تاریخی پس منظر اور موجودہ صورتحال کے حوالہ سے گفتگو ہوئی جو کہ قارئین کی خدمت میں پیش ہے ۔اوکاڑہ شہر کا نام اوکاں (جنگلی پیڑ) سے منسوب ہے دریائے روای سے تقریباً100کلومیٹر دور واقع یہ شہر 1913تک بنجرعلاقہ تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ علاقے میں تبدیلی آنا شروع ہوئی 1925میں ریلوے لائن بچھائی گئی یوں اوکاڑہ شہر کو لاہور اور کراچی سے ملادیاگیا1913میں ٹاؤن کمیٹی اور 1930میں میونسپل کمیٹی کا درجہ دیا گیا1936میں برلا گروپ آف انڈسٹری کے قیام کے ساتھ ہی اوکاڑہ میں صنعتی انقلاب برپا ہوا دور دراز سے لوگ ذریعہ معاش کی تلاش میں یہاں آکر آباد ہوئے 1942میں اوکاڑہ میں پوسٹ آفس،گورنمنٹ سکولز،ٹیلی فون ایکسچینج،پاور ہاؤس اور پارک کی بنیاد رکھی گئی تقسیم ہند سے پہلے اوکاڑہ میں ہندوؤں کی کثیر تعداد تھی جو 1947میں تقسیم کے وقت انڈیا ہجرت کرگئی اور جو مسلمان یہاں آئے انہیں زمینیں الاٹ کی گئیں یوں اوکاڑہ کی شہری آبادی میں اضافہ ہوناشروع ہوا1967میں اوکاڑہ میں فوجی چھاؤنی کا قیام عمل میں آیا 1982میں اوکاڑہ کو ضلع کا درجہ دے دیا گیا یوں اوکاڑہ شروع میں دو تحصیلوں دیپالپور اور اوکاڑہ پر مشتمل تھا اوکاڑہ شہر میں برلا گروپ آف انڈسٹری کے بعد اب معاشی ترقی کے لیے اسی طرح کی انڈسٹری کی مزیدضرورت تھی چنانچہ بابافرید شوگر مل کا قیام عمل میں آیایوں اوکاڑہ ایک بار پھر معاشی ترقی کی راہ پر گامزان ہوا لیکن 1988میں کچھ عرصہ کے لیے شوگر مل بند ہونے سے معاشی ترقی کی رفتار میں جو اضافہ ہوا تھا اس کو شدید نقصان پہنچا اوکاڑہ میں نعمت بناسپتی کے ڈائریکٹر چوہدری ارشد اقبال نے صنعتی ترقی میں اپنا ایک خاص حصہ ڈال رکھا ہے دریائی اعتبار سے اوکاڑہ میں تین دریا ہیں مشرق میں دریائے ستلج،مغرب میں دریائے بیاس اور راوی ہیں دریائے بیاس اب بلکل نا پید ہو چکا ہے جبکہ ستلج میں سال کا بیشتر حصہ خشک رہتا ہے لیکن اگست ستمبر میں بارشوں اور انڈیا کی جانب سے پانی چھوڑنے کی وجہ سے طغیانی آجاتی ہے اوکاڑہ تحصیل زراعت اور صنعت کے حوالے سے اپنی مثال آپ ہے زراعت کے شعبہ میں مکئی،چاول،گندم،کپاس،آلو کی کاشت کے حوالے سے بہت مشہور ہے1982اوکاڑہ ضلع بننے سے پہلے ساہیوال(منٹگمری) کے ساتھ ملحقہ تھا لیکن آبادی کے تناسب اور زرعی اعتبار سے اسے الگ ضلع کا درجہ دے دیا گیا ضلع اوکاڑہ اب تین تحصیلوں پر مشتمل ہے دیپالپور،رینالہ خورد اور اوکاڑہ۔تحصیل اوکاڑہ میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان پنجابی ہے جبکہ اردو ،سندھی،سرائیکی،ہندکو اور جانگلی زبان جوکہ دریائے راوی کے مقیم لوگوں کی روایتی زبان ہے بولی جاتی ہیں اوکاڑہ رقبہ کے لحاظ سے چار ہزار تین سوستتر مربع کلومیٹر وسیع علاقہ ہے 1998کی مردم شماری کے مطابق ضلع کی آبادی22لاکھ32ہزار 992تھی لیکن حالیہ اپریل 2017 کی مردم شماری کے مطابق امید کی جا سکتی ہے کہ آبادی 32لاکھ سے تجاوز کر جائے گی تحصیل اوکاڑہ تعلیمی لحاظ سے بہت آگے ہے اور جب اوکاڑہ لاہور بورڈ کے ساتھ منسلک تھا تو یہ تاثر عام تھا کہ اوکاڑہ کے طالب علموں کی پوزیشن کے بغیر رزلٹ نامکمل ہے اسی طرح ساہیوال بورڈ بنتے ہی اوکاڑہ پھر صف اول پر اپنی پوزیشن برقرار رکھے ہوئے ہے اور میٹرک ،انٹر کے امتحانات میں ہر سال ہزاروں بچے جہاں A+گریڈ حاصل کرتے ہیں وہیں پوزیشن ہولڈرز اوکاڑہ شہر سے ہی ہوتے ہیں اوکاڑہ شہر میں بے شمار تعلیمی ادارے اپنی مثال آپ ہیں لیکن اگر اوکاڑہ میں گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج کا نام سرفہرست نہ رکھا جائے تو زیادتی ہو گی گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج اوکاڑہ کے پرنسپل ظفر علی ٹیپو نے کالج کو ایک نئی پہچان اور مقام دیاہے کالج کے ہر بلاک کے ساتھ منسلک گراؤنڈ میں رنگ برنگے پھول اور خوبصورت کیاریاں دیکھنے والے کو کسی خوبصورت پارک کا منظر پیش کرتی نظر آتی ہیں تعلیمی میدان میں کالج نے چند سال میں اپنا ایک الگ مقام پیدا کر رکھا ہے یہ سب کچھ پرنسپل ظفر علی ٹیپو اور انکے اسٹاف کی کاوشوں کا ثمر ہے کہ بی اے 2016کے سالانہ امتحانات میں کالج ہذا کے طالبعلم نے پنجاب یونیورسٹی میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے نہ صرف اپنے خاندان اور کالج بلکہ اوکاڑہ شہر کا نام بھی روشن کیا اسی طرح اوکاڑہ شہر میں صفہ ایجوکیشن کمپلیکس،ڈسٹرکٹ پبلک سکول و کالج ، فیلکن پبلک سکول ،سکالرز پبلک سکول ،احمد جلال کڈز کیمپس ،گورنمنٹ ایم سی ہائی سکول،گورنمنٹ کالج برائے خواتین ساؤتھ سٹی ،گورنمنٹ کالج برائے خواتین سٹی ،ایجوکیشن یونیورسٹی کیمپس ،گورنمنٹ اسلامیہ ہائی سکول سٹی کیمپس،گورنمنٹ اسلامیہ ہائی سکول نیوکیمپس ،گورنمنٹ سی ایم آر ہائی سکول کے علاوہ اوکاڑہ شہر میں انٹرنیشنل اور نیشنل سکولز کی فرنچائز بھی قابل ذکر ہیں اوکاڑہ شہر کاروباری لحاظ سے بھی بہت مشہور شہر ہے اوکاڑہ میں بلند بالا عمارتوں کی تعمیرمیں گزشتہ دس برس میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے کاروباری لحاظ سے شہر کے وسط میں واقع گولچوک اور اس سے ملحقہ بازار قابل ذکر ہیں گولچوک میں واقع جامع مسجد عثمانیہ تاریخی اعتبار سے اپنی ایک الگ پہچان رکھتی ہے اسی طرح جامع مسجد غوثیہ ،جامع مسجد محمدیہ ،مرکزی امام بارگاہ ایوان حسین اور دیگرخوبصورت مساجد وامام بارگاہ بھی شہر میں موجود ہیں اوکاڑہ شہر میں مولانا غلام علی ؒ اوکاڑوی معروف مذہبی وروحانی پیشوا کا مزار بھی موجود ہے اس کے علاوہ کرماں والا میں سید محمد اسماعیل شاہ بخاری ؒ المعروف کرماں والے کا سالانہ عرس ہر سال عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے اوکاڑہ شہر میں دیگر معروف مزارات بھی موجود ہیں جہاں عقیدت مند سارا سال حاضری دیتے رہتے ہیں
سیاسی اعتبار سے اوکاڑہ بہت اہمیت کا حامل ہے یہاں کی تین تحصیلوں رینالہ خورد،دیپالپور اور اوکاڑہ سے دس ایم پی ایز اور پانچ ایم این ایز ہیں لیکن اگر تحصیل اوکاڑہ کی بات کی جائے تو یہاں سے چوہدری ریاض الحق اور ندیم عباس ربیرہ جبکہ ایم پی ایز میں میاں محمد منیر صوبائی پارلیمانی سیکرٹری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ،میاں یاور زمان صوبائی وزیر جنگلات اور مسعود شفقت ربیرہ ہیں جوکہ اوکاڑہ کی معروف سیاسی خاندان اور چوہدری شفقت عباس ربیرہ سابق ایم این اے کے بیٹے ہیں مسعود شفقت ربیرہ نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز شاندار طریقے سے کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر ایم پی اے منتخب ہو ئے راؤ سکندر اقبال (مرحوم )جو کہ اوکاڑہ کی موجودہ ترقی خاص طور پر سڑکوں ،انڈر پاسز ،پارکس ،سکولوں، کالجزکی تعمیرکروانے میں اپنی ایک الگ پہچان رکھتے تھے آپ وزیر دفاع کے عہدے پرجنرل مشرف کے دور میں رہے ،اس سے پہلے پیپلز پارٹی کے مختلف ادوار میں بھی ایم این اے منتخب ہو کر وزیر رہے ،میاں محمد زمان سابق وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی اسی طرح رانا اکرام ربانی اور اشرف خان سوہنا بھی ممبر اسمبلی اور وزیر رہ چکے ہیں مولانا محمد لکھوی کے بیٹے مولانا معین الدین لکھوی جو کہ ممبر قومی اسمبلی بھی رہ چکے ہیں اس کے ساتھ ان کو یہ اعزاز میں بھی حاصل ہے کہ انہیں ستارہ امتیاز سے بھی نوازا جا چکا ہے معروف صحافی آفتاب اقبال،جنید احمد، ظفر اقبال اور سلمان غنی بھی اوکاڑہ شہر کے سپوت ہیں اوکاڑہ شہر آلو،ٹماٹر،مکئی،چاول،جوار کی کاشت میں بہت اہمیت کا حامل شہر ہے بلوچ قبیلے رند کا سردار میر چاکر اعظم رند 1518میں اوکاڑہ کے شہر ستگھرہ میں آیا اور یہاں ہی اس نے اپنا مسکن بنایا کہا جاتا ہے کہ شیر شاہ سوری اور مغل بادشاہ ہمایوں نے میر چاکر کو جنگ جیتنے کے بعد1556میں ایک وسیع زمین بطور تحفے میں دی تھی میر چاکر کی وفات 1565میں ہوئی ان کا مقبرہ آج بھی ستگھرہ میں موجود ہے اسی طرح احمد خان کھرل جوکہ رنجیت سنگھ کے بعد پہلاشخص تھا جس نے انگریزوں کا پنجاب میں داخلہ روکا اس کا تعلق بھی اوکاڑہ کے قصبے جھامرے سے تھااوکاڑہ کے اس سپوت کو 21ستمبر1857کو شہید کیا گیاتحصیل اوکاڑہ میں بعض معروف چکوک ہیں جنکی اپنی ایک الگ تاریخ ہے یہاں پر گوگیرہ اور اس سے ملحقہ علاقوں کا ذکر بھی ضروری ہے گوگیرہ کو انگریز دور حکومت میں صدر مقام کی حثیت حاصل تھی یہ علاقہ وطن عزیز کی آزادی کے بعد مسلسل نظر انداز ہوتا آیا ہے گزشتہ چند سالوں میں یہاں کے ایم این اے چوہدری ندیم عباس ربیرہ اور انکے چھوٹے بھائی غلام رضا ربیرہ سابقہ ٹکٹ ہولڈر مسلم لیگ ن نے کئی ایک ترقیاتی کاموں کا بیڑہ اٹھارکھا ہے گوگیرہ میں قائم سکولز ،کالج ،ہسپتال کی ترقی کے لیے کثیر رقم رکھی جا چکی ہے جس سے ایک بار پھر یہ امید پیدا ہو چلی ہے کہ گوگیرہ ایک بار پھر اپنی کھوئی ہوئی عظمت کو بحال کر لے گا اوکاڑہ میں ملٹری ڈیری فیکٹری بھی موجود ہے جہاں سے پاکستان بھر میں فوج کو دودھ اور دودھ سے تیار اشیاء کی ترسیل ہوتی ہے اوکاڑہ کینٹ میں فوجی چھاؤنی ہے اوکاڑہ کینٹ اور اڈا گیمبرتاریخی اعتبار سے بھی اپنی ایک الگ پہچان رکھتے ہیں جسکی تفصیل کے لیے ایک الگ پروگرام کیا جا سکتا ہے اسکے علاوہ شہر اوکاڑہ کے معروف ڈاکٹرز ،وکلاء ،صحافیوں، انجینئرز،فوج پولیس میں موجود افسران ،کاروباری حضرات نے اوکاڑہ کا نام روشن کیا ہوا ہے* اوکاڑہ لاہور سے تقریباً 120کلومیٹر کی دوری پر واقع خوبصورت اور سرسبزوشاداب علاقہ ہے اسی لیے اوکاڑہ کو منی لاہور کا درجہ بھی دیا جاتا ہے پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو شہید اپنے دور حکومت میں اوکاڑہ شہر کو منی لاڑکانہ کا درجہ بھی دے چکے ہیں لیکن 2013کے انتخابات اور 2016 کے ضمنی انتخابات میں میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کوئی خاص کامیابی حاصل نہ کر سکے بلکہ بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑابحرحال 2018کے انتخابات کے لیے امیدواروں کے حوصلے بلند ہیں یہاں کپاس،مکئی،گندم اور جوار کی کاشت بہت مشہور ہے سیلہ چاول،آلو مکئی نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک برآمد بھی کیے جاتے ہیں اوکاڑہ کو آلو اور چاول کی کاشت کی وجہ سے پاکستان بھرمیں شہرت حاصل ہے ۔اوکاڑہ میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان پنجابی ہے جبکہ دوسرے نمبر پر ہریانوی زبان جسے رانگڑی کہا جاتا ہے پنجابی زبان بولنے والوں کا بڑا حصہ جانگلی زبان کے لہجہ کو استعمال کرتے ہیں دراصل لفظ "جانگلی” جنگل کی زبان ہر گزہرگز نہیں ہے یہ زبان دریائے راوی کے کنارے بسنے والے لوگوں کی مادری زبان ہونے کے ساتھ ساتھ ٹوبہ ٹیک سنگھ کے رہنے والے لوگوں کی زبان ہے اور قلیل مقدار میں ساہیوال ،چینوٹ اور ضلع فیصل آباد میں بھی بولی جاتی ہے جانگلی زبان کو رچنوی زبان بھی کہا جاتا ہے جانگلی زبان کی تفصیل اس لیے ضروری ہے کیونکہ کچھ لوگ اس کے بارے تفصیلاً نہیں جانتے جانگلی زبان کو سرائیکی زبان بھی کہا جاتا ہے یہ ایک میٹھی بولی ہے اسی زبان کے ذریعے سچل سر مست،بابا بلھے شاہ،بابا فرید الدین گنج شکر،بابا گرونانک،شاہ حسین لہوری اور میاں محمد بخش نے تبلیغ کا ذریعہ بنایا بابا گرو نانک کی سوانح حیات کو بعد میں دوآبی زبان میں تبدیل کیا گیا پاکستان کے واحد نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام کا تعلق بھی جانگلی(رانگڑی) قبیلے سے ہی تھاپنجاب بھر کی طرح اوکاڑہ میں بھی ذات برادری کو بہت اہمیت دی جاتی ہے اوکاڑہ شہر میں موجودہ سیاست ،کاروبار،پریس کلب،غلہ منڈی،سبزی منڈی اور کئی اداروں کے سربراہان اور صدور و سیکرٹری جنرل آرائیں برادری سے تعلق رکھتے ہیں جن کا مختصر ذکر کیا جائے توجو نام سامنے آتے ہیں ان میں اوکاڑہ پریس کلب کے تا حیات چیئرمین منیر چوہدری، اوکاڑہ سٹی پریس کلب رجسٹرڈ کے صدر محمد مظہر رشید چوہدری،اوکاڑہ پریس کلب کے سابق صدر چوہدری ظفراورموجودہ گروپس کے صدور میں سے ایک چوہدری عتیق الرحمان، مرکزی انجمن تاجران کے صدر حاجی چوہدری سلیم صادق ،سبزی منڈی کے صدر چوہدری محمد اشرف،غلہ منڈی کے صدر چوہدری حبیب الحق، اوکاڑہ شہر کی ہر دل عزیز شخصیت ایم این اے چوہدری ریاض الحق جج اور اوکاڑہ شہر کے سدا بہار ایم پی ایز میاں یاور زمان ،میاں محمد منیر کو بھی آرائیں برادری کی وجہ سے انتخابات میں کامیابی حاصل ہوتی ہے، چیئرمین بلدیہ اوکاڑہ چوہدری اظہر ،بانی اوکاڑہ چیمبر آف کامرس و بانی نعمت گروپ آف انڈسٹری چوہدری ارشد اقبال کا تعلق بھی آرائیں برادری سے ہے اس کے علاوہ اوکاڑہ شہر میں دیگر ذاتوں کے لوگ بھی بڑی کثیر تعداد میں آباد ہیں جن میں راؤ ،سید،بھٹی،مغل،شیخ،کھرل،راجپوت اور وٹو اور دیگر شامل ہیں اوکاڑہ کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو اس زمین نے بھی وطن کی خاطر اپنے سپوت قربان کیے ہیں کرنل شیر خان کے بارے میں ہے کہ آپ سندھ رجمنٹ سے تعلق رکھتے تھے اور اوکاڑہ کینٹ میں آپکی پہلی پوسٹنگ ہوئی جو محاظ کارگل میں دشمن کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے انکو نشان حیدر سے نوازا گیا ۔مذہبی لحاظ سے اوکاڑہ میں بے شمار مساجد ،امام بارگاہ جبکہ اقلیتوں کے لیے چرچ قائم ہیں ۔اوکاڑہ سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر حضرت کرماں والا موجود ہے حضرت کرماں والا نے اپنی زندگی دین اسلام کی تبلیغ کے لیے وقف کی پیر سید صمصام شاہ بخاری سابق ایم این اے بھی انہی کی آل سے ہیں اسی طرح دیگر بزرگان دین جن میں سید قدرت اللہ شاہ ، صوفی منظور احمد صابری محلہ غازی آباد،حضرت خواجہ محمد دین شاہ ملنگی چشتی محلہ علی پور موجودہ سجادہ نشین خواجہ اظہار الحق ہیں معروف مذہبی سکالر مولانا کوکب اوکاڑوی ،مولانااشرف اکاڑوی،مولانا فضل الرحمان اوکاڑوی،مولانا ظفر قمر لکھوی کا تعلق بھی اوکاڑہ شہر سے ہے ۔ اگر 21اگست1996کی تاریخ دیکھی جائے تو اوکاڑہ کو نیا اوکاڑہ بنانے والے تعمیر شہر راؤ سکندر اقبال کا ذکر آتا ہے راؤ سکندر اقبال پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر ایم این اے کامیاب ہوئے انہی کے دور میں اوکاڑہ شہر میں بے نظیر روڈ، سکندر روڈ ،علامہ اقبال روڈ ،پیپلزانڈر پاسز، یونیورسٹی آف ایجوکیشن اور کیڈٹ کالج منظور اور تعمیر ہوئے ، پنجاب کا سب سے بڑا بائی پاس "اوکاڑہ بائی پاس” یہاں ہے بائی پاس سے دیہاتوں کو بھی لنک روڈ زکے ساتھ ملایا گیا ہے اور اس کا سہرا بھی راؤ سکندر اقبال مرحوم کے سر جاتا ہے ملٹری ڈیری فارم پنجاب کا سب سے بڑا ڈیری فارم اوکاڑہ میں موجود ہے جو کہ افواج پاکستان کو دودھ،گھی اور مکھن سپلائی کرتا ہے اور اس سے سینکڑوں لوگوں کوروزگار میسر ہے اوکاڑہ کے صحافتی شعبہ پر نظر دوڑائی جائے تو بے شمار بڑے بڑے نام سامنے آتے ہیں جن میں مرزا بشیر احمد(مرحوم) ہفت روزہ پاک پنجاب،غازی عطاء محمد(مرحوم) روزنامہ مشرق،شیخ فقیر محمد(مرحوم)نوائے وقت ،میاں محمد صدیق(مرحوم)،کامریڈ عبدالسلام(مرحوم)، خادم مصطفی (مرحوم)المعروف ڈاکٹر شورہ کے نام سے مشہور تھے اور انہی کے نام سے اوکاڑہ کا معروف محلہ شورہ کوٹھی ہے،احمد مصطفی (مرحوم) جن کی صحافتی خدمات کے عوض ایک علاقے کا نام مصطفی پارک رکھ دیا گیا ضیا ء نور ،سرور مجاہد(مرحوم ) بھی دبنگ صحافیوں میں شمار ہوتے تھے موجودہ دور میں اوکاڑہ سے صحافت کا بڑا نام منیر چوہدری اور انکے ہم عصر شہباز ساجد،ظفر اقبال ( ایڈووکیٹ )کالم نویس و نقاد،راؤ فضل ،اسلم پراچہ،عابد حسین مغل قابل ذکر ہیں وکلاء میں قابل ذکر راؤ کنور سعیدمرحوم ،فیض کاہلوں مرحوم ،چوہدری عبدالرشید گوگیروی مرحوم ،چوہدری رشید گجر مرحوم ،چوہدری شکور سلیمی مرحوم ،چوہدری اکرام الحق مرحوم (جنھوں نے اپنی ساری زندگی آرائیں دھڑے کی نمائندگی وسربراہی کی )موجودہ دور میں محمدشفیق بھنڈارہ ایڈووکیٹ کسی تعارف کے محتاج نہیں جنکا گروپ ہر سال ضلع کچہری کے انتخابات میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے اسکے علاوہ اختر حسین بھٹی ایڈووکیٹ ،مقبول حسین شاکر ایڈووکیٹ ،چوہدری ریاض الحق ایڈووکیٹ ،چوہدری اسلم جاوید ایڈووکیٹ قابل ذکر ناموں میں سے ہیں خواتین وکلاء کی اگرچہ اس وقت کثیر تعداد ضلع کچہری میں وکالت کے شعبہ سے منسلک ہے لیکن جو مقام خواتین وکلاء میں مس صائمہ رشید ایڈووکیٹ ،مس عظمی جمیل ایڈووکیٹ ،مس الفت جبین ایڈووکیٹ کو حاصل ہوا وہ ابھی تک کسی اور کے حصہ میں نہیں آیا مس صائمہ رشید ایڈووکیٹ نے بارہا ڈسٹرکٹ بار کے سالانہ انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابیاں سمیٹی ہیں اسکے علاوہ انکو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ ڈسٹرکٹ گورنمنٹ میں بطور سوشل ورکر دس سے زائد کمیٹیوں کی ممبر ہیں تحصیل اوکاڑہ کی معروف این جی اوز میں ادارہ فلاح انسانیت ،پیشنٹ ویلفیئر سوسائٹی ،اوکاڑہ ویلفیئر کونسل ،موومنٹ اگینسٹ ڈرگ ابیوز ) ماڈا)،ادارہ شعور قابل ذکر ہیں نعت خوانی میں حاجی سلیم نیازی،پروفیسر امین انجم کا نام کسی تعارف کا محتاج نہ ہے موجودہ دور میں اوکاڑہ شہر سے تعلق رکھنے والے معروف ریڈیو ٹی وی کمپیئر پروفیسر ریاض خان اور شاعر کالم نویس احتشام جمیل شامی بھی اوکاڑہ کی پہچان ہیں شعراء کرام میں چند معروف کا ذکر کرتا جاؤں جن میں مسعود اوکاڑوی ،احمد جلیل ،احمد ساقی ،کاشف مجید،حیدر علی ساحر ،شبانہ زیدی،رفیق کاشمیری ،قمر حجازی ،فضل احمد خسرو،سخن ور نجمی ،ڈاکٹر نثار احمد ،غزالہ جلیل راؤ شامل ہیں اوکاڑہ کے معروف آرٹسٹ اصغر مغل کے فن پارے دنیا بھر میں کسی تعارف کے محتاج نہیں آپ نے اپنے فن کی بدولت بہت نمایاں مقام حاصل کر رکھا ہے ایک وقت تھا جب فلم تفریح کا بڑا زریعہ سمجھی جاتی تھیں اس دور میں شہر میں چند بڑے سینماگھربھی موجود تھے جن میں وینس سینما ،صنم سینما ،گلستان سینما ،محفل سینما ،پیلس سینما ،محبوب سینما شامل تھے ڈش ،کیبل کا دورکے آنے سے سینما گھر ختم کر کے ہالز میں تبدیل ہو رہے ہیں 1990کے بعد اوکاڑہ کی ضلع کچہری ڈسٹرکٹ کمپلیکس کے قیام کے بعد وہاں منتقل ہوچکی ہے اسی طرح ڈسٹرکٹ کمپلیکس میں قائم آرٹس کونسل (الحمرا ہال )کے قیام سے ادبی ،سماجی ،تفریحی ،مذہبی پروگراموں کا سلسلہ یہاں سارا سال جاری رہتا ہے اوکاڑہ میں مٹھائی کے حوالہ سے ایک بڑا نام دہلی سویٹس کا آتا ہے جبکہ حمید سویٹس ،رمضان سویٹس ،زمیندار سویٹس ،طفیل سویٹس ،نواز سویٹس ،اوکے سویٹس اور چند دیگر بھی قابل ذکر ہیں اوکاڑہ میں جناح اسٹیڈیم ،تحصیل اسٹیڈیم ،فٹ بال اسٹیڈیم، صفدر شہید پارک ،جناح پارک ،فیملی پارک ،لیڈیز پارک کے علاوہ چند پرائیویٹ بڑے پارکس بھی موجود ہیں ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال ،ساؤتھ سٹی ہسپتال کے علاوہ سوشل سیکورٹی کے زیر انتظام چلنے والا کلثوم ہسپتال بھی موجود ہیں لاتعدادپرائیویٹ ہسپتال بھی اوکاڑہ میں قائم ہو چکے ہیں جن میں لاہور اور دیگر شہروں کے معروف ڈاکٹر حضرات ہفتہ وار وزٹ کرتے ہیں اوکاڑہ پویس لائن کا نام طیب سعید شہید پولیس لائن معروف وکیل راؤ کنور سعیدمرحوم کے بیٹے ایس پی طیب سعید شہید کے نام پر رکھا گیا تھا مختصر یہ کہ اوکاڑہ کے لوگ ملنسار ،مہمان نوازاور محنتی ہیں*

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button