تازہ ترینکالممحمد مظہر رشید

دیپالپور کا تاریخی پس منظر

قارئین کرام میرا آج کا کالم ایف ایم 92کے پروگرام” آپکی آواز” میں میری اور سید ندیم جعفری کے درمیان تحصیل دیپالپور کے حوالہ سے ہونے والی گفتگو ہے میرے جیسے ناقص علم سے اس تاریخی شہراور وہاں صدیوں سے بسنے والوں کے بہت سے پہلوؤں پر بات نہیں ہو سکی جس کے لیے پیشگی معذرت کا خواہاں ہوں ۔اب پیش خدمت ہے پروگرام میں ہونے والی گفتگو،تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو ملتان شہر کے بعد دیپالپور تاریخی اور پرانا شہر ہے کیونکہ تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو ملتان کے بعد دیپالپور کا نام تاریخی اعتبار سے سر فہرست آتا ہے اگر انگریز دور حکومت کی تاریخ دیکھی جائے تو ساہیوال جسے پہلے منٹگمری کہا جا تا تھا کو بہت اہمیت حاصل تھی اسی طرح دیپالپور کو انگریز دور حکومت میں منٹگمری کے بعد خاصی اہمیت حاصل ہوئی اوکاڑہ شہر سے 25کلومیٹر کی مسافت پر موجود یہ قدیم شہر سری چند نے آباد کیا شروع میں اسے سری چند کے نام کی مناسبت سے سری نگرکہا جانے لگا لیکن سری چند کی وفات کے بعد اس کے بیٹے "ہر سنگھ” نے علاقے کے گرد فصیل تعمیر کروائی جس کے بعد شہر کا نام سری نگر سے دیپالپور ہو گیا ایک اورجگہ تاریخی کتب سے پتا چلتا ہے کہ راجہ "سالواہن ” کا بیٹا” دیپا” تھا جس کی وجہ سے اس شہر کا نام دیپالپور پڑ گیا اگر اس پس منظر کو دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ شاید اس ہی کے نام پر دیپالپور کا نام رکھاگیا راجہ دیپا کے نام سے منسوب ہو کر دیپالپورنام ہو گیا ہو گا کیونکہ اُس نے اس شہر کو از سر نو تعمیر کرایا تھادیپالپور میں اگر مختلف اقوام کا ذکر کیا جائے تو1810تک یہ نکئی خاندان کی جاگیر تھا نکئی سے لینے کے بعد کنورکھڑک سنگھ اور 1828میں سردارجوند سنگھ موکل کیجاگیر میں شامل ہوگیا1840میں اس کی موت واقع ہوئی اس کی بے شمار جائیداد تھی اس کی وفات کے بعد اس کا بیٹا بیلا سنگھ برسراقتدار آیاجب انگریزوں کی پنجاب آمد ہوئی تو آہستہ آہستہ انہوں نے پنجاب کے ہر شہر پر قبضہ شروع کیا تو دیپالپور بھی اسی طرح انگریز حکومت کے پاس چلا گیا عمارتوں کا ذکر کیا جائے تو انگریز دور سے ہزاروں سال قدیم بلڈنگز کے نشان یہاں موجود ہیں اس میں لالو جسراج کا مندر،شاہ جہاں کے دور کی وزیر خان خاناں کی تعمیر کردہ مسجد،امام شاہ اور محمود شاہ نامی بزرگان دین کے مزارات اور دیگر معروف بزرگان دین کے مزارات بھی موجود ہیں مارکیٹس کے حوالے سے بھی دیپالپور شہر بہت اہمیت کا حامل ہے تین دروازوں پر مشتمل بازار جس میں ٹھٹھیاری دروازہ،ملتانی دروازہ،شمالی دروازہ شامل ہے شہر ان تین دروازوں کے درمیان آبادہے 1919میں یہ شہر ساہیوال(منٹگمری) کی تحصیل تھا لیکن موجودہ دور میں اوکاڑہ کی سب سے بڑی تحصیل کا درجہ رکھتا ہے اس میں چار ٹاؤن اور پچپن یونین کونسل شامل ہیں تحصیل دیپالپور سیاسی لحاظ سے بھی بہت قدیم اور معروف شہر ہے یہاں سے دو ایم این اے جن میں میاں معین خان وٹو اور راؤ اجمل خان شامل ہیں اسی طرح تین ایم پی ایز ہیں جن میں سید افتخار حسین چھچھر،ملک علی عباس کھوکھر،میاں خرم جہانگیر وٹو شامل ہیں دیپالپور کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ یہاں کے سیاسی سپوت میاں منظور وٹو وزیراعلیٰ پنجاب رہ چکے ہیں جبکہ یہاں کی سیاسی تاریخ میں میاں یسین خاں وٹو کا نام بھی قابل ذکر ہے بزرگان دین میں حضرت بہاؤالحق قلندر اسلام کی تبلیغ کے لیے یہاں آئے مسجداور حجرہ کی تعمیر بھی کروائی،ان کے پوتے حضرت شاہ مقیم نے ان کے مشن کو جاری رکھا کہا جاتا ہے کہ شہنشاہ اکبر اپنے بیٹے سلیم کے ہمراہ تقریباً1578میں حضرت بابا فرید الدین گنج شکر کو خراج عقیدت پہنچانے بھی یہاں ہی سے گزرے اور یہاں پر پڑاؤ بھی کیا دیپالپور کی لوک داستانوں میں مرزا صاحباں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ صاحباں نے مرزا کے لیے یہاں دعا کی اور اس کی دعا قبول بھی ہوئی۔دیپالپور چاول کی کاشت کے لحاظ سے بہت مشہور شہر ہے پورے پنجاب میں ریت کی سب سے بڑی کھیپ دیپالپور سے ہی در آمد ہوتی ہے ۔فیروز شاہ تغلق کے دور میں دیپالپور شہر میں ترقی دیکھنے کو ملی جس میں مساجد اور دریائے ستلج سے ایک نہر شامل ہے جو کہ شہر سے ملحقہ قصبات کو سیراب کرتی تھی پچیس فٹ اونچی24 ہوا داردیواریں تعمیر کروائیں جو کہ کسی قلعہ کا منظر پیش کرتی تھیں دیپالپور کے پاس سے دریائے بیاس بہتا تھا جو کہ اب نا پید ہو چکا ہے دیپالپور کی تاریخ میں سکندر اعظم کا ذکر بھی ہوتا ہے دور جدید میں دیپالپور میں سکول ،ہسپتال،بڑے بڑے کارخانے ،پریس کلب بچوں کی تفریح کے لیے باغات موجود ہیںیہاں کے لوگ ملنسار اور محنتی ہیں زندگی کے تمام شعبہ جات میں دیپالپور کے رہنے والوں نے اپنا بھر پور حصہ ڈالا ہوا ہے یہاں کے معروف ڈاکٹرز،وکلاء ،صحافیوں،مذہبی رہنماؤں،تاجروں ،ایجوکیشنسٹ ،اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والوں نے دیپالپور کا نام روشن کر رکھا ہے*

یہ بھی پڑھیں  کوئٹہ : پاکستان کوسٹ گارڈز کی کارروائی،71افراد گرفتار

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker