شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / کالم : سانچ پاکستانی سیاست میں استحکام کہاں ؟ تحریر : محمد مظہررشید چودھری

کالم : سانچ پاکستانی سیاست میں استحکام کہاں ؟ تحریر : محمد مظہررشید چودھری

پاکستانی سیاست میں استحکام کہاں ؟
تحریر : محمد مظہررشید چودھری

وطن عزیز پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ستر سال میں کہیں بھی استحکام نظر نہیں آتا کبھی صدارتی نظام کبھی نامزد وزیر اعظم یا منتخب وزیر اعظم اور کبھی جمہوریت کبھی ریفرنڈم کے زریعے اقتدار کی رسہ کشی جاری و ساری ہے سال 1951سے 1958تک چھ وزرا اعظم نے عہدہ سنبھالا لیکن ہر ایک کو مختلف وجوہات کی بنا پر مستعفی ہونا پڑا ایسا بھی وقت وطن عزیز کی سیاست میں آیا جب 1971ء میں نور الامین کو وزیر اعظم کے عہدے پر نامزد کیا گیالیکن وہ صرف 13 دن ہی مسند اقتدار کے مزے لے سکے 1956ء کا آئین اور دوسری مرتبہ 1962ء کا آئین، 1972ء میں مشرقی پاکستان میں مخالفین نے سازشیں کیں جس کی وجہ سے وطن عزیز دو لخت ہوگیا ملک ٹوٹنے کی بہت سی وجوہات تھیں ان کا ذکر پھر کبھی سہی ، 1973ء کے آئین کوسب جماعتوں کا متفقہ کہا جاتا ہے جس میں اس وقت کی تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے اپنا اپنا کردار احسن طریقہ سے ادا کیا ،پاکستان کا موجودہ آئین چودہ اگست انیس سو تہتر کو نافذہوا تاہم ابتدائی پانچ برسوں میں اس میں سات ترامیم کی گئیں ذوالفقارعلی بھٹو نے اپنے دور میں آئین میں سات ترامیم کیں محمد خان جونیجو نے دو ترامیم جبکہ میاں نواز شریف نے اپنے پہلے دو ادوار میں پانچ ،جبکہ میر ظفر اللہ خان جمالی نے ایک ترمیم اسمبلی سے منظور کروائی ،بینظیر بھٹو دو مرتبہ اقتدار میں آئیں تاہم ان کے دور میں آئین میں کوئی ترمیم نہ ہوئی،چار حکومتیں (اسمبلیاں ) آئین کی آٹھویں ترمیم کے زریعے اپنی آئینی مدت پوری ہونے سے پہلے ختم کی گئیں پاکستانی آئین میں اٹھارویں ترمیم 8 اپریل 2010 کو قومی اسمبلی نے پاس کی جس کے تحت صدر کے پاس موجود تمام ایگزیکٹو اختیارات پارلیمان کو دے دیے گئے اُس وقت وزیراعظم سید یوسف رضاگیلانی اور صدر آصف علی زرداری تھے یوسف رضا گیلانی کے دور میں آئین میں دو ترامیم اسمبلی نے منظور کیں نواز شریف کے تیسرے دور میں آئین میں ترامیم کا سلسلہ جاری رہا نواز شریف کو سپریم کورٹ سے نااہل ہو جانے کے باعث وزارت عظمی سے مستعفی ہونا پڑا نواز شریف واحد حکمران ہیں جنھیں تین بار جنرل الیکشن میں کامیابی کے بعد وزارت عظمی ملی لیکن ہر بار مختلف مدت میں انہیں وزارت عظمی سے ہاتھ دھونا پڑا اگرہم پاکستان کے وزرائے اعظم پر نظر دوڑائیں تو پتا چلتا ہے کہ لیاقت علی خان کوگورنر جنرل آف پاکستان کی جانب سے 1947 میں پاکستان کا پہلا وزیر اعظم مقرر کیا گیااُنھیں 16اکتوبر1951 میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کے دوران شہید کیا گیا،1951ء میں لیاقت علی خان کے شہیدہونے کے بعد خواجہ ناظم الدین پاکستان کے وزیر اعظم بنے اُنہیں اس عہدے سے اس وقت علیحدہ ہونا پڑا جب ملک غلام محمد نے 17اپریل 1953میں ان کی حکومت تحلیل کردی یہ پاکستان کی سیاست میں پہلے وزیر اعظم تھے جن کی حکومت کو تحلیل کیا گیا ، محمد علی بوگرہ نے بطور وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کی جگہ لی اسکندر مرزا گورنر جنرل نے 12اگست 1955میں ان کی حکومت ختم کردی، چوہدری محمد علی نے 1955ء میں وزارت عظمی کی کرسی سنبھالی انہوں نے 12ستمبر1956میں گورنر جنرل سے اختلافات کے باعث عہدے سے استعفی دے دیا،حسین شہیدسہروردی ایک سال سے کچھ عرصہ زیادہ اس عہدے پر رہے پھر انہوں نے بھی17اکتوبر1957 اسکندر مرزا سے اختلافات کی بنیاد پر اس سے علیحدگی اختیار کی،ابراھیم اسماعیل چندریگراِس عہدے پر دو ماہ رہے پھر اُنھوں نے 16 دسمبر 1957 میں استعفی دے دیا ،فیروز خان نون پاکستان کے ساتویں وزیر اعظم تھے اُنھیں 7اکتوبر1958 میں فوج کے آجانے سے ہٹا دیا گیا،نورالامین کو یحییٰ خان نے آٹھویں وزیر اعظم کے طور پر منتخب کیا، وہ پاکستان کے پہلے اور واحد نائب صدر تھے جو اس عہدے پر7دسمبر 1971ء سے20 دسمبر 1972ء تک رہے اسی دوران پاک بھارت 1971 کی جنگ ہوئی،ذوالفقار علی بھٹو نے14اگست 1973ء کے آئین کی منظوری کے بعد وزیراعظم بنے اُنھوں نے صدارت سے استعفی دیا جس کے تحت ملک کو پارلیمانی ریاست قرار دیا گیا اُنھیں5جولائی 1977ء میں محمد ضیاء الحق کی سرکردگی میں آنے والی فوجی حکومت کے باعث ہٹا دیا گیا،محمد خاں جونیجو پاکستان کے غیر جماعتی انتخابات کے ذریعے 24مارچ 1985 کواِس عہدے پر پہنچے، وہ بغیر کسی سیاسی وابستگی کے یعنی آزاد طور وزیر اعظم بنے لیکن اِس سے قبل وہ پاکستان مسلم لیگ سے وابستہ تھے اُنہیں صدر نے آئین میں آٹھویں ترمیم کے بعد اِس عہدے سے 29مئی 1988 کوبرطرف کر دیا ،بینظیر بھٹو پاکستان اور مسلم دنیا کی پہلی خاتون تھیں جو ایک بڑی جماعت کی سربراہ ہونے کی وجہ سے 2دسمبر1988 کو وزیر اعظم بنیں اُنکی حکومت کو آٹھویں ترمیم استعمال کرتے ہوئے 6اگست1988کو برطرف کر دیا گیا۔ 6اگست1988 کوغلام مصطفیٰ جتوئی کو صدر پاکستان غلام اسحٰق خان نے بطور قائم مقام وزیر اعظم کے منتخب کیاجنکی مدت 6نومبر 1990کو ختم ہوگئی ،نواز شریف یکم نومبر، 1990ء کو پاکستان کے 12 ویں وزیر اعظم منتخب ہوئے جن کی صدر غلام اسحٰق خان نے حکومت18اپریل 1993 میں ختم کی جسے بعد میں عدالت عظمٰی پاکستان نے کالعدم قرار دے کر انہیں اپنے عہدے پربحال کر دیا ۔18اپریل 1993کو بلخ شیر مزاری کوصدر غلام اسحٰق خان نے بطور نگراں وزیر اعظم تعینات کیا،ان کی میعاد اس وقت ختم ہوئی جب سپریم کورٹ آف پاکستان نے صدارتی حکم نامے کو 26مئی 1993کوغلط قرار دے دیا ۔18جولائی1993کونواز شریف نے ایک معاہدے کے تحت استعفی دے دیا جس کے باعث صدر کو بھی اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا۔معین الدین قریشی کو 18جولائی1993 کو نگران وزیر اعظم منتخب کیا گیا جنھوں نے جنرل الیکشن کروانے کے بعد 19اکتوبر1993 کو حکومت چھوڑ دی ۔بینظیر بھٹو دوسری دفعہ 19اکتوبر1993ء میں دوبارہ وزیر اعظم منتخب ہوئیں1995ء میں فوج کے ذریعے انہیں ہٹانے کی کوشش کامیاب نہ ہوسکی صدرفاروق لغاری نے5 نومبر 1996ء میں انہیں عہدے سے علیحدہ کر دیا ۔5نومبر 1996سے 17فروری 1997تک ملک معراج خالد کو نگران وزیر اعظم مقرر کیا گیا ۔نواز شریف 17فروری 1997ء میں بھاری اکثریت سے دوبارہ وزیر اعظم منتخب ہوئے اُنہیں12 اکتوبر 1999ء میں جنرل پرویز مشرف نے عہدے سے ہٹا دیا ۔میرظفر اللہ خان جمالی جنرل پرویز مشرف کے دور میں ہونے والی جنرل الیکشن کے زریعے وزیر اعظم کے عہدہ پر21نومبر2002کو منتخب ہوئے اُنھیں 26جون 2004میں وزارت عظمی کے عہدہ سے الگ کر دیا گیا اور قائم مقام وزیر اعظم چوہدری شجاعت حسین کو مقرر کر دیا گیا جو 30جون2004سے 20اگست2004تک وزیراعظم رہے ۔شوکت عزیز 20اگست2004 سے قومی اسمبلی کی آئینی مدت تک وزیر اعظم رہے وہ اپنے عہدہ سے 16نومبر2007کو علیحدہ ہوگئے ۔نگران وزیر اعظم محمدمیاں سومرو 16نومبر2007 سے25مارچ 2008تک اپنے عہدہ پر رہے ۔یوسف رضا گیلانی 25مارچ 2008ء کو وزیر اعظم منتخب ہوئے اُنہیں توہین عدالت کے مقدمے میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے توہین عدالت ثابت ہونے پر19جون 2012 میں عہدے سے ہٹا دیا۔22جون 2012سے25مارچ 2013کی مدت کے لیے قومی اسمبلی نے راجہ پرویز اشرف کو وزیراعظم منتخب کر لیا ۔میر ہزارخان کھو سو کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے حکومت اور اپوزیشن کی پارلیمانی کمیٹی کے نامزد کرنے پر نگراں وزیر اعظم مقرر کیااُنہوں نے 25 مارچ، 2013ء کو اس عہدے کا حلف اٹھایااور 5جون 2013تک اپنے عہدہ پر رہے ۔ میاں محمد نواز شریف 5 جون 2013ء کو تیسری بار وزیر اعظم منتخب ہوئے آپ نے صدر آصف علی زردار ی سے حلف لیا اور 28 جولائی2017 کو سپریم کورٹ نے پانامہ کرپشن کیس میں نااہل قرار دے دیا۔شاہد خاقان عباسی 29جولائی2017سے وزارت عظمی کے عہدہ پر ہیں ۔قارئین کرام !اَب میں آپ کو ان ادوار کا بتاتا ہوں جس میں فوجی حکومت، مارشل لاء یا ایمرجنسی رہی ،پہلی بار پاکستانی فوج کی اقتدار میں شراکت جنرل ایوب خان کی 1958ء میں ایک پر امن بغاوت کے ذریعے ہوئی اُنہوں نے کنونشن مسلم لیگ کی بنیاد رکھی 27 اکتوبر 1958ء سے 25 مارچ 1969 تک پاکستان کے حکمران رہے آپ کے بعد جنرل یحی خان نے صدارت سنبھالی جو کہ 25 مارچ 1969ء سے 20 دسمبر 1971ء تک حکمرانی کرتے رہے ،جنرل محمد ضیا الحق 4جولائی 1977کو مارشل کے زریعے بر سراقتدار آئے اور 17اگست 1988تک حکمرانی کرتے رہے ،جنرل پرویز مشرف 12 اکتوبر 1999ء کو بطور چیف آف آرمی سٹاف ملک میں فوجی قانون نافذ کرنے کے بعد حکمران بنے اور 20 جون 2001ء کو ایک صدارتی استصوابِ رائے کے ذریعے صدر کا عہدہ حاصل کیا جنرل پرویز مشرف نے 18 اگست 2008ء کو قوم سے اپنے خطاب کے دوران اپنے استعفی کا اعلان کیا،وطن عزیز کی ستر سالہ تاریخ میں تقریباََ 34سال فوجی حکمران برسر اقتدار رہے اور 22وزیر اعظم منتخب ہوئے جن میں سے ذوالفقار علی بھٹو ،بے نظیر بھٹو ،میاں محمد نواز شریف جنرل الیکشن میں مقبول رہنما کے طور پر سامنے آئے ذوالفقار علی بھٹو مرحوم اور میاں محمد نواز شریف اپنی اپنی پارٹی کے لیڈر تو تھے ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ جنرل الیکشنوں میں ان کے نام پر عوام نے نمائندے منتخب کر کے اسمبلیوں میں بھیجے آج بھی وطن عزیز کی سیاست میں ان دونوں کے نام پر ووٹ حاصل کیے جاتے ہیں گزشتہ چند سال میں معروف کرکٹر عمران خان پاکستان کی سیاست میں ہلچل مچا چکے ہیں انکے چاہنے والوں کی کثیر تعداد وطن عزیز میں موجود ہے جو انہیں اگلا وزیر اعظم دیکھنا چاہتے ہیں آنے والے جنرل الیکشن میں کس کو عوام بھاری اکثریت سے منتخب کرتے ہیں اس کا فیصلہ تو جنرل الیکشن 2018کے بعد ہی پتا چلے گا ***

یہ بھی پڑھیں  خواجہ اظہارالحسن کو گرفتار کرنیوالے ایس ایس پی ملیر راؤ انوار معطل