تازہ ترینصابرمغلکالم

کمبنگ آپریشن

sabir mughalگذشتہ دنوں صوبہ خیبر پختونخواہ میں موجود ملٹری کے حوالے سے پاکستان کے اہم ترین شہر کوہاٹ میں ریجمنٹل سگنل سینٹر میں میجر جنرل سہیل احمد زیدی کو سگنل انچیف کے بیجز لگا کر انہیں کور آف سگنل کے کرنل کمانڈنٹ کی مکمل ذمہ داریاں سونپ دی گئیں بیجز لگانے کی اس پر وقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف آف آ رمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے ۔ضرب عضب ۔میں سگنل کور کے غیر معمولی کردار کو قابل ستائش قراردیتے ہوئے دہشت گردوں کو شکست دینے اورانہیں پناہ گاہوں سے نکالنے ،سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور سویلینز کی طرف سے دی گئی قربانیوں کو قابل تعریف قرار دیا،جب یہ خطاب جاری تھا تب پانامہ لیکس کی وجہ سے ۔لندن گٹھ جوڑ ۔اور طبی چیک اپ کے بعد وزیر اعظم میاں نواز شریف کا طیارہ بھی وطن واپسی کے لئے فضا میں اڑان بھر چکا تھا ،اس موقع پرجنرل راحیل شریف نے ملک بھر میںCombing Operation کے آغازکا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اب پاکستان بھر میں دہشت گردوں کے کسی سہولت کار کو نہیں چھوڑا جائے گا،کرپشن کی لعنت کے خاتمے تک دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ سے ملک میں پائدار امن اور استحکام نہیں لایا جا سکتا ہے ،دائمی امن کا خواب کبھی پورانہیں ہو گا ،بلا تقریق احتساب سے ہی آئندہ نسلوں کا مستقبل بہتر ہو سکتا ہے،انہوں نے دو ٹوک بات کرتے ہوئے کہا کہ ۔ احتساب سب کا ہونا چاہئے فوج کرپشن کے خلاف ہر کوشش کا بھرپور ساتھ دے گی ،بلا تفریق احتساب پاکستان کی سا لمیت،بقا اور خوشحالی کے لئے بنیادی ضرورت ہے،کرپشن کا خاتمہ اور امن و امان لازم و ملزوم ہیں،Combingلفظ Comb (کنگھی) سے ماخوذ ہے ماہرین کے مطابق کسی بھی مرد و عورت کے سر میں جوئیں ہوسکتی ہیں جنہیں نکالنے کے لئے کنگھی کا استعمال کیا جاتاہے مگر ضروری نہیں خو ن چوسنے والی یہ جوئیں ایک دم نکالی جا سکیں ان سے چھٹکارا حاصل کرنے ، ان کا قلع قمع کرنے کے لئے بہت محنت کرنا پڑتی ہے،انہیں ڈھونڈھ ڈھونڈ کر مارنا پڑتا ہے ،یہ کسی بھی انسانی سر کے پورے حصے میں کہیں بھی پائی جا سکتی ہیں، یہی مثال ملک بھر میں پھیلے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کی ہے جو ملک کے کونے کونے میں جوؤں کی طرح ہم پر ہمہ وقت کاری ضرب لگانے کے لے پھیلے ہوئے ہیں ،ان کی پروردہ شخصیات بظاہر بہت محب وطن ،مخلص اور جذبہ حب الوطنی سے معمور نظر آتی ہیں مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ یہ۔کردار (Facilitators) ہی تمام تر دہشت گردی کا بنیادی کردار ہیں،کرپشن اور لوٹ مار ہوتی ہی تبھی ہے جب کسی کے اوپر نیچے گندے اور گھناؤنے کرادار وں کی فراوانی ہو اور یہ بھی قانون فطرت ہے کہ۔کرپشن کے پیسے سے کبھی کسی بہتر کام کی توقع کی ہی نہیں جا سکتی اور نہ ایسا ممکن ہے اور پاکستان میں بدقسمتی سے ایسا نظام وضع کر دیا گیا ہے کہ دولت کی بڑھوتی صرف دولت گروں کے پاس ہی ممکن ہے یہ دولت گر یا تو کرپشن کی گنگا میں نہا کر دولت کا انبار لگاتے ہیں یا کسی ملک دشمن طاقت کا ہمنوا بن کر ،ان کے مذموم مقاصد کی تکمیل کے ذریعے، جنرل راحیل شریف نے ان کے مکمل خاتمہ کے لئے ملک بھر میں آپریشن ضرب عضب کے بعد کمبنگ آپریشن کے آغاز کا اعلان کر دیا ہے ان کا یہ اعلان پوری قوم کی ترجمانی اور ان کے جذبات کی عکاسی ہے، ، کمبنگ آپریشن ماضی قدیم میں Combinedکے نام سے جاری ہوئے اور آج تک جاری ہیں،پہلے ان کو۔ ایمر جنسی مینجمنٹ ۔کا نام دیا گیا جس کے مطابق قومی سطح کے دفاع پر یا کسی پر یلغار کی صورت میں کسی بھی مصلحت کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے تمام سروسز اور وسائل بروئے کار لا کر فوری کاروائی کی جائے گی تا کہ کسی بڑے نقصان سے ملک و قوم کو محفوظ رکھا جا سکے،یہ تصور Sea Peopleکو ڈھونڈنے کے لئے بھی استعمال ہوا،زمانہ قدیم میں Mediterianian Basinکے علاقہ میں رہاش پذیر Carthaginiansمذہب کے لوگوں نے یہ تھیوری اپنائی اور اپنی سلطنت کو وسعت دینے کے لئے Combinedآپریشن کو ترجیح دی ،،اس زمانہ میں پہلی مرتبہ زمینی فوج اور نیوی کو کسی بھی آپریشن کے لئے یکجا کیا گیا،سکندر اعظم بھی اس حوالے سے کسی سے کم نہ رہے،Combinedآپریشن کے کمانڈر Hanni Balجو تاریخ میں آج بھی دنیا کے چند بہترین فوجی کمانڈرز میں سے ایک تھا،پیونک وار جس میں پہلی مرتبہ جنگی ہاتھیوں کا بھی استعمال کیا گیا،اس میں کمانڈر ۔ہینی۔کو شاندار کامیابی حاصل ہوئی اور اس نے جنوب مغربی یورپ میں IberiaسےPyreneesتک اور ALPSکے پہاڑی سلسلہ سے شمالی اٹلی تک کا علاقہ فتح کر لیا، رومن نے اس طرح برطانیہ کو فتح کیا جیسے برطانیہ کے ایسٹ انڈیا کی آڑ میں بر صغیر پر اپنا تسلط قائم کر لیا تھا،تمام صلیبی جنگوں اور Russian Civil Warمیں بھی یہی جنگی حکمت عملی اپنائی گئی تھی،دنیا کی پہلی جنگ عظیم میں اس کا تجربہ کیا گیا اور دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکی ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ مشترکہ فوجی منصوبے پر کام شروع کر دیا اور بالآخر1980میں ۔NATO۔کا قیام عمل میں آیا،آج دنیا کے مختلف ممالک کے دوران کثیر القومی اتحادی حکمت عملی) (Multinational Coalition Strategyاپنا رکھی ہے،اگرچہ نمایاں طور پر کمبائنڈ آپریشن کو دن بہ دن وسعت دی گئی ۔جنگ کریمیا(Crimean War)اس کی پہلی مثال ہے جو اس جنگی حکمت عملی کا برا راست حصہ تھی،جنگ کریمیا مارچ 1854سے فروری1856تک جزیرہ نما کریمیا میں لڑی گئی جس میں ایک طرف روس اور دوسری طرف فرانس،برطانیہ،سلطنت سارڈینیا اورسلطنت عثمانیہ کی متحدہ فوج تھی ،بیشتر جنگ جزیرہ نما کریمیا میں لڑی گئی تاہم کئی معرکے ترکی اور بحیرہ بالٹک کے خطوں میں بھی ہوئے ،اس جنگ میں پہلی بار بحری اور زمینی اجزا کے ساتھ ساتھ طیارے استعمال کئے گے تھے، اسی جنگ کو پہلی جدید جنگ(First Modern War ) بھی کہا جاتا ہے جس کے دوران جنگی انداز میں ایسی تکنیکی تبدیلیاں واقع ہوئیں جنہوں سے مستقل کی جنگوں پر انتہائی اثرات پڑے،اس جنگ کا خاتمہ معاہدہ پیرس اور اتحادیوں کی فتح کے ساتھ ہوا،یہ جنگ اس علاقہ میں روسی اثرو رسوخ کے لئے تباہ کن ثابت ہوئی،مشترکہ آپریشن کے ارتقاء کی بڑی وجہ یورپی سلطنتوں کی توسیع بنی اسی دوران نو آبادیاتی کالونیوں پر قبضہ جمانے کے لئے ایسا کیا گیا تھا،کمبائنڈ آپریشن کا تصور مختلف فوجی تنظیم،قومی خدمت ،مختلف جنگی اور غیر جنگی فوجی آپریشن کی کامیابی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے،یہ شارٹ ٹرم اورLong ٹرم بھی ہو سکتے ہیں،اس کی سب بڑی اہمیت اور خوبی یہ ہے کہ ۔وہ ایک ہی اصول اور طریقوں کو آپس میں Shareکرتے ہیں ایک دوسرے کے انفراسٹرکچر اورBasisکو استعمال کرنا ہے،یہ تمام صلاحیتیں یکجا ہو کر جلد کامیابی ،منزل کے حصول ،امن و امان اور معاشی سکیل کو بڑھاتی ہیں، موجودہ حالات اس بات کا تقاضا کرتے تھے کہ پاکستان میں کمبنگ آپریشن ہونا چاہئے ،یہ تو سادہ سی بات ہے معمولی سا بھی Criminalموجودہ حالات کے مطابق چلتا ہے اگر ایک جگہ حالات اس کے لئے سازگار نہ ہوں تو دوسری جگہ کا رخ وہ لازمی رکھے گا،پاکستان میں ضرب عضب سے پہلے کراچی آپریشن کا آغاز کیا جا چکا تھا بڑی حد تک بلوچستان میں بھی ملک دشمن عناصر کو کچلا جا رہا تھا،خیبر پختونخواہ اور فاٹا میں تو ضرب عضب ۔صرف پنجاب ہی ایسا صوبہ تھا جہاں فورسز کی جانب سے کسی آپریشن کے لئے ان کے ہاتھ بندھے تھے،درجنوں بار پنجاب حکومت باالخصوص رانا ثنا عاللہ صوبائی وزیر قانون اس بات کو دہرا چکے تھے کہ نہیں پنجاب میں ۔سب اچھا۔ہے،حالانکہ ملک بھر میں پھیلے ناسور اور درندوں نے پنجاب کو اپنا مسکن بنا لیا،گلشن اقبال لاہور میں قیامت صغریٰ پربا ہونے کے بعد فوج نے اپنے طور پر پنجاب میں جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی کے لئے آپریشن کا آغاز کردیا،اسی صوبہ سے گرفتار ہونے والے دہشت گردوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے ،یہاں انہیں کس نے پناہ دی ؟کون ان کا محافظ تھا؟پانامہ لیکس جیسی لعنت کے منظرعام پر آنے ،کرپشن پر جنرل راحیل شریف کے بیان اور عملی اقدام اٹھانے اور اسی دوران ۔کمبنگ آپریشن۔کا اعلان درباریوں کے سر پر ہتھوڑا بن کر گرا ہے،کوئی اقتداری یا ان کا حواری نہیں کہہ رہا کہ یہ سب اثاثے بنے کیسے؟پیسہ کیسے باہر گیا ؟ ٹیکس کتنا دیا؟تحقیقات کی جائیں کہ اصل لٹیرے اور ذمہ داران کون ہیں؟ ان کی صرف ایک ۔رٹ ۔ہے جمہوریت کو خطرہ ہے،ملک کو لوٹ لینا ،قرضے پہ قرضہ لینا،اس کی معیشت کو برباد کر دینا ،برآمدات میں خطرناک شرح تک کمی، کہاں کی حب الوطنی اور ترقی ہے؟(حکومت ورلڈ بینک سے مزید 50کروڑ ڈالر قرضہ لینے جا رہی ہے )یہاں احتساب کے نام پر ہمیشہ قوم کوبیوقف بنایا گیا،یہ مکار لوگ ہیں جو ہمیشہ سے ہی مکاریاں کرتے آ رہے ہیں،کراچی میں گرفتار شہنشاہ کرپشن ڈاکٹرعاصم پر ابھی تک ۔فرد جرم عائد نہیں ہو سکی،صرف پٹرولیم کی NROکیا تھا؟NROزدہ کون تھے؟کمبنگ آپریشن معاشی اور بارودی دہشت گردی کرنے والی جوؤں اور جونکوں کی موت کا پروانہ ہے،یہ ساری قوم ،یہ پسی قوم،یہ بے بس قوم ،یہ سڑکوں پر خون بہانے والی قوم،یہ خالی پیٹ سونے والی قوم چیف آف آرمی سٹاف کے Combing Oprationکی منتظر ہے اس سے کئی ۔معتبر۔مگر مکروہ چہرے بے نقاب ہوں گے،

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker