امتیاز علی شاکرتازہ ترینکالم

کپتان کی مقبولیت میں کمی کی وجہ(2)

سیاست میں آنے سے پہلے عمران کرکٹ اور شوکت خانم کی وجہ سے جانے جاتے تھے اور لوگوں کے دلوں میں خاصہ مقام رکھتے تھے ۔ 30اکتوبر 2011کے بعد عوام کے ساتھ ساتھ میں خود بہت امیدیں وابستہ کربیٹھا تھا جن کا اپنی تحریر میں بھرپور اظہار بھی کیا تھا۔آج میں اپنی اسی تحریر کا کچھ حصہ آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں ۔میں نے لکا تھا کہ۔’’آخر کار پاکستان میں تبدیلی کے آثار نظر آنے شروع ہو ہی گئے اور اس تبدیلی کا سہرا پاکستانی میڈیا کے سر ہے جس نے بے بہا مشکلات کے باوجود عوام کولمحہ بہ لمحہ باخبر رکھااگر آج بھی پاکستان میں صرف سرکاری tvچینل ہی چل رہا ہوتا تو کبھی بھی عوام عمران خان کے جلسے کو براہ راست نہ دیکھ پاتے اورپریس میڈیا بھی اس موقع پر پیچھے نہیں رہا اخبارات نے بھی اس جلسے کو خصوصی اشاعت میں جگہ دے کر ثابت کردیا کے پاکستان کے حکمران تو کسی کی غلامی کر سکتے ہیں ۔لیکن صحافت کو کوئی بھی غلام نہیں بنا سکتا ۔اب کہنے والے جو مرضی کہتے رہیں لیکن سچ تو یہی ہے کہ 30اکتوبر کومینار پاکستان اور پھر کراچی میں مزارقائدکے بڑے میدان میں لاکھوں لوگ موجود تھے اب کوئی کہتا ہے ق لیگ اور پیپلزپارٹی نے عمران خان کے جلسے میں اپنے کارکنوں کو شامل کیااور کوئی کہتا ہے ایجنسیوں نے عمران خان کاجلسہ کامیاب کرنے کے لیے مدد کی بہر حال عمران خان کا 30اکتوبر کا مینار پاکستان میں ہونے والا سیاسی جلسہ کامیاب ہو ا۔جس میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ شامل ہوئے وہ چاہے لاہور سے نکلے یا کسی دوسرے شہر سے آئے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتاعمران خان کی اس قدر مقبولیت سے اس وقت پاکستان کی سب سیاسی پارٹیاں اندرونی طور پر بہت پریشان ہیں ۔بظاہر تو حکمران جماعت یعنی پیپلز پارٹی بہت خوش نظر آتی ہے لیکن عمران خان کی عوامی مقبولیت نے پیپلز پارٹی کو اندرونی طور پر ہلا کر رکھ دیا ہے اور اب خاص طور پر پنجاب میں پیپلز پارٹی کو دو پارٹیوں کا سامنا کرنا پڑے گاجو ن لیگ کو جمہوری انداز میں اپنی باری کا انتظار کرنے کا کہہ رہے تھے عوام کی بڑی تعداد نے عمران خاں کے جلسے میں شامل ہو کر ان کو آئینہ دیکھا دیا ہے اور اب عوام نے سیاسی میچ کو جیتنے کے لیے گیند عمران خاں کے ہا تھ میں تھما دی ہے اور اپنی ٹیم میں کس کو کھلانا ہے اس کا بھی پورا اختیار ان کے پاس ہے۔ اب عمران خاں کویہ میچ جیتنے کے لیے مخالف کھلاڑیوں کو جلد آؤٹ کرنے اور اچھی بیٹنگ کے ساتھ ساتھ اپنی ٹیم یعنی تحریک انصاف میں شامل کرپٹ اور نا اہل کھلاڑیوں کو بھی رن آؤٹ کرتے رہنا ہوگا کیونکہ جب اپنے ہی کھلاڑی کرپٹ اور نااہل ہونگے تو نہ صرف ٹیم میچ ہار جاتی ہے بلکہ جگ ہنسائی بھی بہت ہوتی ہے۔ پھر اس بار میچ بھی کچھ مختلف ہے یہ میچ آپ کو پاکستانی قوم کی قسمت بدلنے کیلئے کھیلنا ہے جو پچھلے65برس سے ہر میچ ہارتی آئی ہے اور سیاست دان ہر میچ جیتتے آئے ہیں ساری زندگی کی ہار نے پاکستانی قوم
کو بہت کمزور کردیا ہے مجھے امید نہ تھی کے اب عمران خاں کے جلسے میں اتنے لوگ آئیں گے لیکن شاید اللہ تعالیٰ کو یہی منظور ہے جو پزیرائی اہل لاہور نے عمران کو دی ہے اس کی امید مجھے تو کیا شاید عمران کو خود بھی نہ تھی۔ عوام نے تو اپنا فرض ادا کر دیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کے اب وہ کس طرح اپنا فرض ادا کرتے ہیں ۔اب ان کے کندھوں پر پاکستان کے 20کروڑ عوام کی فلاح بہبود کی ذمہ داری عائد ہو چکی ہے۔یہ کام بہت مشکل تو ہے مگر ناممکن نہیں ۔پاکستان کے مسائل چوکو چھکو سے حل ہوتے نظر نہیں آتے ان کے حل کے لیے ایک لمبی باری کھیلانا ہو گی اب عمران خان دشمن کے بونسروں سے کس طرح بچتے ہیںیہ وقت ہی بتائے گا ۔عمران خاں نے جلسہ تو کامیاب کر لیا مگر اب ان کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں کیونکہ پہلے وہ سیاست میں ون مین شو چلا رہے تھے ۔جیسے کے کچھ دن پہلے فخر پاکستان جناب عزت مآب ڈاکٹرعبدالقدیرخاں بھی اپنے ایک بیان میں کہہ چکے ہیں کے عمران نواز ۔زرداری پہ تنقید کی بجائے ملک کو مشکلات سے نکالنے کے لیے اپنی پالیسی کا علان کریں ڈاکٹر عبدالقدیر نے یہ بھی کہا کے عمران خان کی سیاست ابھی تک ون مین شو ہے ۔میرے خیال میں اب عمران کا ون مین شو ختم ہو کر تحریک انصاف کی صورت اختیار کر گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی عمران کی ذمہ داریاں بھی بڑھ گئی ہیں کیونکہ اب ان کو پورے پاکستان میں اپنے مضبوط امیدوار کھڑے کرنے ہوں گے جو بہت ہی مشکل کام ہو گا کیونکہ اگر عمران ان لوگوں کو سامنے لائیں گے جن کو عوام پہلے کئی مرتبہ آزما ء چکی ہے یا انھیں کے چاچے بابے لائیں گے جو کبھی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ میں شامل ہو کر ملک کو لوٹ چکے ہیں تو عوامی حلقوں میں تحریک انصاف کی مقبولیت عارضی ہوگی‘‘اور آخر کار وہی ہوا جس کا ڈرتھاکپتان کی مقبولیت کودیکھ کر بہت سے فصلی بٹیرے ،چوری کھانے والے طوطے ،جن کو میں سیاسی فرشتے کہہ چکا ہوں ۔کپتان کے گرد جمع ہوگئے اور آج جبکہ میچ ابھی شروع نہیں ہوا وہی فرشتے جو اپنی اپنی جماعتوں اور قائدین بڑے بڑے کرپشن اور نااہلی کے الزامات لگا کر تحریک انصاف میں شامل ہوئے تھے ۔آج ان فرشتوں کی نظر میں وہی جماعتیں اور قائدین دودھ دھلے ہوگئے ہیں اور وہ پھر سے واپسی کے لئے پر تول رہے ہیں ۔کپتان اب کچھ بھی کہے تحریک انصاف نقصان تو بہت ہوا ،ان لالچی اور کرپٹ لوگوں کے آنے جانے سے۔

یہ بھی پڑھیں  ٹیکسلا:سنگجانی کے قریب مسافر وین الٹنے سے تین افراد ہلاک سات زخمی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker