تازہ ترینصابرمغلکالم

کرونا،گند م چور اور سیاسی بازی گریاں

خبر ہے کہ نیب کی جانب سے انکشاف کے مطابق،سکھر،لاڑکانہ،بے نظیر آباد (نواب شاہ) اور سکھر ڈویژن کے 9اضلاع میں 5ارب 35کروڑ،50لاکھ روپے مالیت کی ایک لاکھ 64ہزار797میٹرک ٹن گندم غائب کی گئی،ان اضلاع سے کراچی بھجوائی گئی 75کروڑ 56لاکھ 80ہزار روپے مالیت کی 22ہزار میٹرک ٹن سرکاری گندم وہاں پہنچی ہی نہیں سندھ میں یہ تینوں ڈویژن گندم کی پیداوار مین اہم تصور کئے جاتے ہیں اور وہیں گندم چوری کی لٹ مچی ہوئی ہے چند دن پہلے نیب سکھر نے سابق صوبائی وزیر خوراک، پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو کو طلب کرتے ہوئے چار گھنٹے تک تفتیش کی تھی، نیب نے15ارب،85کروڑ روپے مالیت کی سرکاری گندم سرکاری گندم میں خوردبرد اور چوری کے لئے 9مختلف انکوائریاں شروع کی تھیں،جوڈیشنل مجسٹریٹ کی نگرانی میں سرکاری گوداموں پر چھاپے مارییہ انکشاف اس دوران ہوا،ان گندم چوروں میں محکمہ خوراک سندھ کے افسران اور دیگر ملزمان نے پلی بارگین کے ذریعے 2ارب،11کروڑ 20لاکھ روپے واپس کئے،سکھر اور خیر پور سے تعلق رکھے والے محکمہ فوڈ افسران اور فلور ملزمالکان کے خلاف ادھار پر لی گئی گند م کی رقم 6ماہ میں واپس نہ کرنے پر انکوائری کا آغاز ہوا توتب فلور ملز مالکان نے ہڑپ شدہ گندم کی رقم 8ارب 12کروڑ روپے واپس کی،اس کے علاوہ سندھ نے گذشتہ سیزن میں بالکل نہیں کی ہدف ان کا10لاکھ ٹن جبکہ پنجاب نے 33لاکھ 15ہزار ٹن خریدی کی حالانکہ یہ ہدف بھی 40لاکھ ٹن تھا،پاسکو نے ملک بھر میں 40فیصد گندم کی خریداری کی ہی نہیں حیرت انگیز بات یہ کہ پاسکو اور وزارت خوراک نے قومی اقتصادی رابطہ کمیٹی کو یہ بتایا کہ انہوں نے خریداری کا ٹارگٹ پورا کر لیا ہے وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ جو پاسکو کی براہ راست نگرانی کرتی ہے نے بھی حکومت کو بتایا کہ گندم کے ذخیرے کی صورتحال مناسب ہے لہٰذا گندم برآمد کی اجزات دی جائے،یہ بات بھی سامنے آئی کہ سرکاری طور پر گندم خریداری میں دانستہ چند دن تاخیر کی گئی،وفاقی وزیر مراد سعید نے انکشاف کیا کہ سندھ میں گندم آٹا چوروں سے حکومت10ارب روپے ریکوری کر چکی وہاں 16کروڑ24لاکھ سے زائد گندم کی بوریاں غائب ہوئیں،یہ ایک ایسی رپورٹ ہے جس پر جتنا بھی ماتم کیا جائے کم ہے گندم آٹا بحران کی یہی بنیادی وجہ تھی،گورنس کی شاہکاری دیکھیں گندم کٹائی کے اس سیزن کے دوران ہی پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں آٹے بحران نے سر اٹھا بھی لیا ہے وہاں آٹا نایاب اور مہنگا بھی ہو چکا ہے،چیرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے گندم خوردبرد میں 4ریفرنس دائر کرنے کی منطوری دینے کے ڈائریکٹر جنرل نیب سکھر کو ہدایت کی ہے کہ دو کیسز کی تحقیقات کرتے ہوئے بد عنوان عناصر سے سرکاری فنڈز برآمدکئے جائیں،یہ تحقیقات گندم چوری کے دو کیسز کی تحقیقات انٹی کرپشن سندھ اسٹیبلشمنٹ کر رہا تھانیب نے کچھ دن قبل اعلان کیا تھا کہ وہ ملک بھر میں آٹے اورچینی کے حالیہ بحران اورقیمتوں میں اضافے کی بھی تحقیقات کرے گا جس میں حکمران جماعت کے جہانگیر ترین اور وفاقی وزیر خسروبختیار کے خاندان کے لوگ مبینہ طورملوث ہیں، سندھ میں غذائی قلت کا نیا بحران تیار دیکھو یہ کورونا سے کتنا خوفناک ہوتا ہے،ابھی سے آٹے کی قیمت محو پروازہے نہ جانے کہاں تک پہنچتی ہے،سندھ میں کئی سال سے تھرپاکر میں غذائی قلت سے روزانہ کی بنیاد پر اموات کا سلسلہ جاری ہے،گندم بحران ملک بھر میں رہا،گندم آٹا اور چینی کے بدترین مافیاز بے نقاب ہوئے مگر سندھ میں تو بھٹو کے وارث کی حکومت طویل عرصہ سے ہے،روٹی کپڑا مکان کا نعرہ گندم چوری اور غذائی قلت میں دفن ہی نہیں ہوا بلکہ انسانوں پر بھی قہر بن کر انہیں بھی لے دوبا،آئی پی پیز کے ذریعیملک کو کنگال اور عوام کو بدحال کر دیا گیا مگر اس انتہائی نازک اور بہت قومی خزانے پربہت بڑے ڈاکے پر الگ سے بات ہو گی،تاہم انہی دنوں 18ویں ترمیم جس نے چند خاندانوں کواقتدار کے حوالے سے بہت تحفظ اورجلا بخشی مگروفاق کو کمزورکر کے رکھ دیاگیا،اب اس ترمیم میں تبدیلی کی بازگشت پر نئی سیاسی دکانداری کھل چکی ہے،کورونا جیسی وباء،ملک میں لاک ڈاؤن،معیشت کی بد حالی،بھوک سے نڈھال عوام کی کسی کو کچھ فکر نہیں،عوام کو بے وفوق بنانے کے لئے کبھی بلاول،کبھی سعید غنی،کبھی کوئی اور اسی طرح مسلم لیگ (ن)کے شہبازشریف،شاہدخاقان عباسی سمیت ایک دوسرے کے خلاف طعنوں اور نا اہلی کے گلے پھاڑ پھاڑ کے طعنہ زنی میں مصروف ہیں ایک ایک گھنٹے کی پریس کانفرنسیں روزانہ کا معمول بن چکی ہیں جس کے دوران عوامی ہمدردی کا کچھ تڑکا لگا دیا جاتا ہے،حالانکہ حقائق اس کے بر عکس ہیں،یہ سبھی اپنے اپنے مطالبات کی گٹھڑیاں اور چھابڑیاں اٹھائے پھر رہے ہیں،مگر لگتا نہیں کہ ان کے خواب پورے ہوں گے،گندم چوری کا یہ بہت بڑاسکینڈل نہ صرف منظرعام پرآیا بلکہ متعدد ذمہ داران اربوں روپے پلی بارگین کے تحت واپس بھی کر چکے ہیں،کیابلاول بھٹو زرداری،ان کی صوبائی حکومت سے تعلق رکھنے والے کسی ایک وزیر یا پارٹی نمائندے نے اس حرام زدگی،عوام دشمنی پر زبان تک کھولی؟نہ ہی اس گندم کی لوٹ مارپر کسی اور پارٹی کے نمائندے کی آواززبان سے نکلی،در حقیقت جہاں مفادات وابتہ ہوں وہاں سبھی ایک اور سبھی کی آواز بند،سبھی گونگے،بہرے،اندھے،کانے،لولے،لنگڑے اپاہج اورِِ فالج زدہ ہو جاتے ہیں،گندم چوری کے لعنت کردار کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے طویل پریس کانفرنس کی جس میں گندم چوری کا ذکر تک نہیں بلکہ وہ سیاسی دکانداری چمکاتے ہوئے فرماتے ہیں وباء کی سنگین صورتحال میں وفاقی حکومت کے دوہرے رویے کے باعث ملک میں انتشار پھیل رہا ہے اور متاثرین کی تعداد میں بڑے پیمانے پر اضافے کا خدشہ ہے،وفاقی کے عدم تعاون کی وجہ سے صوبے اس مہلک وباء کے خلاف انتہائی مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں،بلاول بھٹو کو چاہئیے تھا کہ بھٹو اور بے نظیر کے شہر لاڑکانہ سے بھی چوری ہونے والی گندم کو نشان عبرت بنانے کا اعلان کرتے،جہانگیر ترین اور دیگر شوگر مافیاز کے خلاف کاروائی کا بہت شور ہے ضرور کریں،بلکہ ساتھ انہیں بھی لٹکائیں جنہوں نے عرصہ دراز صے قومی معیشت کو ڈگڈگیوں سے تگنی کا ناچ نچا رکھا ہے،عجب تماشہ ہے اپوزیشن اور حکومت کرونا کے خلاف نبرد آزما ہیں یا آپس میں دست و گریبان اور وہ اپنے سیاسی مفادات کی غرض سے،ان کی ذاتی، مفاد پرستانہ اور سیاسی جنگ کی وجہ سے کرونا وائرس کے خون آ شام پنجے روانہ کی بنیاد پر قوم کو مزید جکڑنے میں مصروف ہیں۔مگر ان میں خوف خدا نہیں ذرا بھی۔

یہ بھی پڑھیں  سرائے مغل:لڑکی سے ناجائز تعلقات،مسلح افراد نےاندھا دھند فائرنگ کرکے نوجوان کوقتل کردیا

یہ بھی پڑھیے :

What is your opinion on this news?

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker