تازہ ترینعمر خان جوزویکالم

کروناوائرس۔۔اللہ ہی بچائے گ

عمرخان جوزوی

کہتے ہیں حکومتی انوارات۔۔برکات اورکرامات کی وجہ سے کروناکی پہلی لہرکے دوران ملک کے اندرکچھ زیادہ نقصان نہیں ہواجبکہ حقائق اس سے مختلف بلکہ حدسے بھی زیادہ مختلف ہیں۔۔محض اللہ کافضل اورکرم اگرنہ ہوتاتوآپ یقین کریں۔۔اب کی بارکروناسے جونقصان ہورہاہے کروناکی پہلی لہرکے دوران اس سے بھی کہیں زیادہ ڈبل اورٹرپل ہوتا۔وہ تورحیم وکریم رب کاکوئی خاص فضل وکرم تھاکہ اس عظیم رب نے ہماری غلطیوں۔۔کوتاہیوں۔۔نافرمانیوں اورہٹ دھرمیوں کے باوجودہمیں بڑی تباہی۔۔آزمائش اورامتحان سے بچایا۔۔ورنہ اپنی تباہی کے لئے سامان تیارکرنے میں توہم نے کوئی کسرباقی نہیں چھوڑی تھی۔۔کروناکی پہلی لہرکے دوران جب دنیانے اپنے گھراوردرکروناپربندکردیئے تھے۔۔ریکارڈاٹھاکردیکھیں۔۔حکومتی کرامات۔۔برکات اورانوارات کی وجہ سے ہم پاک ایران وافغان بارڈرزسمیت شہرشہر۔۔گلی اورمحلوں تک ہرجگہ ہاتھ ودامن پھیلائے کروناکوویلکم کرتے رہے۔۔کیاکروناکی پہلی لہرکے دوران حکومتی سرپرستی میں سرحدپارسے کرونازدہ لوگوں کو قافلوں اورٹولیوں کی صورت میں ملک کے اندرنہیں پھیلایاگیا۔۔؟تعلیمی اداروں اورمساجدومدارس کوبندکرنے کے علاوہ حکمرانوں کاکوئی ایساکام اوراقدام بتائیں جوانہوں نے کروناکی روک تھام کے لئے اٹھایاہو۔۔ماناکہ کروناکی پہلی لہرکے دوران تعلیمی ادارے۔۔مساجدومدارس حکمرانوں کے احکامات پربندہوئے لیکن کیاتعلیمی اداروں۔۔مساجدومدارس کے علاوہ کروناایس اوپیزپرکہیں کوئی عمل ہوا۔۔؟مساجدمیں تونمازیوں کے درمیان فاصلے ناپے گئے لیکن کیاکسی حکومتی وزیراورمشیرنے اس وقت کبھی بازاروں اورمارکیٹوں میں،،انسانوں کے جم کٹے،،کاکبھی کوئی نوٹس لیا۔۔؟نمازیوں کو تین اورچھ فٹ فاصلہ اختیارکرنے کادرس دینے والے وزیراورمشیربازاروں اورمارکیٹوں میں کروناایس اوپیزکی خلاف ورزیوں اوررش پراس طرح خاموش رہے کہ جیسے یہ نہ کچھ سنتے ہوں۔۔نہ دیکھتے ہوں اورنہ ہی ان کوکچھ نظرآتاہو۔۔ہم نے تولاک ڈاؤن کے دوران بھی حکومتی کرامات۔۔برکات اورانوارات کی وجہ سے جگہ جگہ کروناایس اوپیزکے پرخچوں کوہوامیں اڑاتے دیکھا۔۔ہم پہلے بھی کہتے رہے ہیں اوراب بھی کہتے ہیں کہ کروناکی پہلی لہرکے دوران ہم محض اللہ کے فضل وکرم۔۔بزرگوں کی دعاؤں اوردین کی برکت سے محفوظ رہے اوراب بھی کہتے ہیں کہ اگراللہ کاکرم نہ ہوتاتوہم بھی اوروں کی طرح آج اپنی تباہی اوربربادی پرآنسوبہاتے۔۔حکومت اورہماری اپنی نااہلی۔۔بے حسی اورہٹ دھرمی کے باوجود کروناکی پہلی لہرکے دوران اس خطہ ارض کوپروردگارعالم نے جس طرح بڑی تباہی سے بچایاوہ بلاکسی شک وشبہ کے قدرت کاکوئی بہت ہی بڑاکوئی فضل اورکرم تھاورنہ کروناکوپکڑپکڑکرگلے سے لگانے والے ہمارے جیسے سرکش واقعی کبھی اس قابل نہ تھے۔۔کروناکی پہلی لہرکے دوران حکومت نے جتنی بے حسی اورلاپرواہی کامظاہرہ کیااس سے زیادہ بے حسی اورلاپرواہی ہم نے بھی برتی۔۔اوروہی سلسلہ کروناکی دوسری تیزلہرکے دوران آج بھی جاری وساری ہے۔۔کروناوائرس اٹلی،امریکہ،ایران،بھارت اوردیگرممالک میں تباہی پھیلانے کے بعداب ہمارے لئے بھی ایک ڈراؤناخواب بنتاجارہاہے۔۔اس موذی اورخطرناک وائرس سے اب تک اس ملک کے اندردرجنوں اورسینکڑوں نہیں ہزاروں افراداپنی زندگیوں سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں اورلاکھوں اس کے نشانے پرہیں۔۔کروناکے ہاتھوں روزپچاس سے ستراوراسی تک جنازے نکلنے کے باوجودان پڑھ۔۔جاہل اورپیدائشی سرکش کیا۔۔؟اعلیٰ تعلیم یافتہ اورخودکوباشعورسمجھنے والے ماڈرن ذات بھی اس موذی مرض اوروائرس کوسیرس اورسنجیدہ نہیں لے رہے۔۔کروناجس طرح اس ملک کے اندرپنجے گاڑھ رہاہے اورقیمتی انسانی جانوں کوبھوکے شیرکی طرح نگل رہاہے۔۔حالات کاتقاضاتویہ تھاکہ ہرکوئی اس عذاب سے خوف کھاکرلرزتے جسم اورکانپتے ہاتھوں کے ساتھ اپنے رحیم وکریم رب سے رجوع کرتا۔۔مگریہاں تومعاملہ ہی الٹ ہے۔۔2005کے قیامت خیززلزلے کے بعدجس طرح اکثرزلزلہ متاثرین دنیاکی محبت میں پاگل ہوگئے تھے اسی طرح آج ہماری اکثریت بھی دنیاکی محبت میں کہیں گم ہوگئی ہیں۔۔سروں پرکرونااورموت کے منڈلاتے بادلوں کے باوجودکسی کورب کاکوئی خوف ہے اورنہ ہی آخرت کی کوئی فکر۔۔حکمرانوں سے لیکرریڑھی بانوں اورچھابڑی فروشوں تک ہرشخص دنیاکی مستی اوراپنی ہستی میں اس طرح گم ہے کہ اسے اپنے اوراپنے مفادکے سواکچھ دکھائی نہیں دے رہا۔۔حکمرانوں کواپنی کرسی اورسیاستدانوں کواپنی سیاست کی پڑی ہوئی ہے۔۔ڈاکٹرز۔۔انجینئرز۔۔ٹیچرز۔۔صنعتکار۔۔سرمایہ داراورتاجردوسروں کولوٹنے کی تدبیریں اورترکیبیں سوچ رہے ہیں۔۔کروناسے کوئی مرتاہے تومرے پرہمیں کوئی نقصان نہ ہویہی سوچ اورفکرلئے ہرشخص بلاکسی خوف وخطردوڑتااورملک وقوم پرچڑھتاجارہاہے۔۔کروناکی خطرناک لہرکے باوجودملک میں کہیں جلسے ہیں۔۔کہیں جلوس ہیں۔۔کہیں احتجاج ہے۔۔کہیں مظاہرے ہیں۔۔کہیں دھرنے ہیں اورکہیں بھرنے۔۔لیکن کروناوباء میں انسان اورانسانیت بچانے کی فکرکسی کونہیں۔۔اس مشکل اورنازک حالات میں بھی کیاحکمران۔۔؟کیاسیاستدان۔۔؟کیاحکومت۔۔؟کیااپوزیشن۔۔؟کیاڈاکٹرز۔۔؟کیاٹیچرز۔۔؟کیاسرمایہ دار۔۔؟کیاصنعتکار۔۔؟اورکیاتاجر۔۔؟سب ڈبل ڈبل گیم کھیل رہے ہیں۔۔کروناایس اوپیزپرعملدرآمداورہماری احتیاط کاتویہ عالم ہے کہ بازاروں اورمارکیٹوں میں رش دیکھ کرانسانوں اورحیوانوں میں تمیزکرنابھی مشکل ہوجاتاہے۔۔وہ توہمیں پتہ ہے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے مگرافسوس اورپریشانی کی بات یہ ہے کہ یہ بھوت اب صرف نیچے نہیں بلکہ ہائی لیول پربھی ہیں۔۔یہ نیچے والے تولاتوں سے مان جائیں گے یاڈنڈے کودیکھنے پرٹھیک ہوجائیں گے لیکن ان اوپروالوں کاکیاہوگا۔۔؟انہیں لات کون مارے گا۔۔؟یہاں توہرشاخ پربھوت بیٹھاہے۔۔ملک میں کروناکی تباہ کاریاں دیکھیں اورادھرحکومت واپوزیشن والوں کے کارنامے۔۔ہمارے یہ عوام یاتوحدسے کچھ زیادہ ہی سادہ ہیں یاپھرکمال درجے کے بیوقوف۔۔کہ دیکھنے۔۔سننے اوربولنے کی صلاحیت اورطاقت رکھنے کے باوجودان بھوتوں کے ہرآوازپرآمین کہتے جارہے ہیں۔۔یہ حکومت اوراپوزیشن والے دونوں اس وقت اپنی سیاست کے لئے عوام کودلیہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔۔حق اورسچ یہ ہے کہ نہ حکومت کوعوام کی کوئی فکرہے اورنہ ہی اپوزیشن کوعوام کاکوئی خیال۔۔کروناسے پہلے بھی ہمیں صرف اورصرف اللہ نے بچایااوراب بھی ہماراایمان وعقیدہ ہے کہ وہی خدااس باربھی ہمیں اس کروناسے بچائیں گے۔۔بچت والی بات اگرحکومت یااپوزیشن کے ہاتھ میں ہوتی تواب تک ہمارانام ونشان بھی نہ ہوتا۔۔کیونکہ اقتدارکے یہ بھوکے توسترسال سے ویسے بھی لوگوں کومارنے کے بہانے ڈھونڈرہے ہیں۔۔۔

یہ بھی پڑھیں  معیاری کام فنکار کو زندہ رکھتاہے : بابرہ شریف

یہ بھی پڑھیے :

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker