تازہ ترینسجاد علی شاکرکالم

کرونافورس یا بلدیاتی نمائندے

انتہائی تلخ حقیقت ہے کہ پاکستانی تاریخ میں کبھی کسی جمہوری حکومت نے بلدیاتی انتخابات نہیں کروائے سوائے بامجبوری پاکستان مسلم لیگ ن کی سابقہ حکومت جس نے عدالتی احکامات کی روشنی میں بلدیاتی انتخابات کروائے،یہ الگ بحث ہے کہ اچھے یا برے بلدیاتی ادارے فوجی ڈکٹیٹروں ہی کے دور میں قائم کیے گئے۔ہمارے ملک میں جمہوریت ابھی تک لولی لنگڑی ہے اور سیاسی مفکرین اس لولی لنگڑی جمہوریت کو آمریت سے بہتر قرار دیتے ہیں۔ بلدیاتی نظام کو جمہوریت کی نرسری کہا جاتا ہے جس ملک کے سیاستدان نرسری ہی کو مفلوج کرکے رکھتے ہوں، اس ملک میں جمہوریت کے فروغ کی امید کیسے کی جاسکتی ہے۔ ہمارے ملک میں جمہوریت کو فروغ دینے اور اسے عوامی بنانے کی کوشش کی جاتی تو آج جمہوریت کی وہ شکل نہ ہوتی جس میں عوام کا حصہ صرف 5 سالوں میں ایک بار اشرافیہ کے حق میں ووٹ ڈالنے تک محدود ہے۔مسلم لیگ ن کے دورحکومت میں عدالتی احکامات،عوامی اور میڈیا کے شدید دباؤ کی وجہ سے بلدیاتی انتخابات تو کروائے گئے پر افسوس کہ صوبہ پنجاب کے منتخب بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات سے محروم رکھا گیا۔ بلدیاتی اداروں کی دنیا بھر میں اہمیت کی دو وجوہات ہیں۔ ایک یہ کہ بلدیاتی ادارے عوام کے مقامی اور علاقائی مسائل حل کرنے کا بہترین ذریعہ ہوتے ہیں، دوسری وجہ یہ ہے کہ بلدیاتی ادارے جمہوریت کی نرسری کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ترقی یافتہ ملکوں میں تو سیاستدانوں کی پہلی تربیت بلدیاتی اداروں ہی میں کی جاتی ہے اور قومی سیاست میں داخل ہونے سے پہلے امیدواروں کو بلدیاتی اداروں میں عملی تربیت حاصل کرنا پڑتی ہے۔بدقسمتی سے ہماری سیاست کبھی عوامی نہیں رہی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہماری جمہوریت بھی عوامی نہ رہی بلکہ اشرافیائی بن کر رہ گئی۔ اختیارات کی تقسیم کا خوف ہی ہماری اشرافیائی جمہوریت پرکسی اشرافیائی جمہوریت میں نہ بلدیاتی انتخابات کروائے گئے نہ بلدیاتی نظام کو پنپنے دیا گیا۔سال 2013 کے انتخابات کے نتیجے میں جو حکومتیں برسر اقتدار آئیں وہ عوام سے مخلص ہوتیں اور عوامی مسائل حل کرنا چاہتیں تو بلدیاتی اداروں کوکام کرنے کی آزادی دیتی اور انھیں مالی اور انتظامی اختیارات دیتی پر حکمران طبقات نہ عوام سے مخلص ہے نہ اختیارات کی تقسیم پر آمادہ ہیں اسی لیے بلدیاتی اداروں کو مالی اور انتظامی اختیارات سے محروم رکھا گیا ہے اور وہ اربوں روپوں کے فنڈز جوعوام کاحق ہوتے ہیں اور بلدیاتی اداروں کے ذریعے نچلی سطح تک منتقل ہوتے ہیں انہیں ہمیشہ وفاقی اورصوبائی نمائندے مل بانٹ کرکھاجاتے ہیں۔گزشتہ حکمرانوں نے توجوکیاسوکیاافسوس موجودہ حکومت پرجس کے سربراہ وزیراعظم عمران خان بلدیاتی اداروں کی مالاجپتے تھکانہیں کرتے تھے انہوں نے منتخب بلدیاتی نمائندوں کی مدت پوری ہونے سے پہلے گھربھیج کراپنی آمرانہ ذہنیت کی عکاسی کی بصورت دیگرآج کروناوائرس کی وباء کامقابلہ کرنے کیلئے جس قدربلدیاتی نمائندے کام کرسکتے ہیں اورکوئی نہیں کرسکتااپنے علاقے سے اکثریتی ووٹ حاصل کرنے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ کس کومددکی فوری ضرورت ہے اورکس کا گزاراچل جائے گاآج بھی لوگ اپنے منتخب بلدیاتی نمائندوں کے دروازے پردستک دے رہے ہیں اوروہ اپنی بساط کے مطابق اُن کے ساتھ تعاون بھی کرتے دیکھائی دیتے ہیں یہ کیسے ممکن ہے کہ عوام میں رہنے والے بلدیاتی نمائندے اپنے ووٹرزاوراہل علاقہ سے نظرچرالیں وزیراعظم عمران حقیقت میں غریب عوام کی مددکرناچاہتے ہیں توکرونافورس بنانے کے ساتھ صوبہ پنجاب کے بلدیاتی نظام کوفوری بحال کریں اورپھردیکھیں کہ کم ترین وسائل میں لاک ڈاؤن کے باوجودغریب لوگوں کی خدمت اورگھرگھرراشن کیسے پہنچتاہے خردبردکے خدشے اپنی جگہ پریہ وقت انتہائی سنجیدہ اورپیچیدہ ہے کروناوباء اورلاک ڈاؤن کے باعث لوگ خوف کے ساتھ بھوک میں مبتلاہیں غریب عوام کے چھوٹے چھوٹے بچے بھوک پیاس سے بلک رہے ہیں یہ وقت سیاست مخالف برائے مخالفت یاسیاست چمکانے کانہیں ہم سب کومل کر فقط اللہ تعالیٰ کی رضاکی خاطرمخلوق کی خدمت کرنی چاہیے

یہ بھی پڑھیے :

What is your opinion on this news?

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker