پروفیسر رفعت مظہرتازہ ترینکالم

کوروناکا کیا رونا

یوں تو ہم گھر سے کبھی کبھار ہی نکلا کرتے ہیں لیکن اب حجاب کی صورت میں ”فیس ماسک“ بھی مسلط ہوگیا۔ باہر نکلو تو ماسک لگا کر نہیں تو گھر بیٹھے رہو اِس لیے ہم نے باہر نکلنے پر ”خود ساختہ“ پابندی لگا رکھی ہے۔ ویسے بھی کورونا نے نصف صدی یا اُس سے پہلے پیدا ہونے والوں کی ”دُڑکیاں“ لگائی ہوئی ہیں اور ”ٹُٹ پَینا“ الیکٹرانک میڈیا بھی ہمہ وقت بابے بابیوں کو ”یرکاتا“ رہتا ہے۔ ہمارے خانِ اعظم جو قوم کو ہر وقت رٹاتے رہتے تھے کہ ”گھبرانا نہیں“اب یوٹرن لیتے ہوئے ہر دوسرے دن ٹی وی پر کورونا کا ذکر چھیڑتے ہوئے کہتے رہتے ہیں کہ یہ وائرس ضرور پھیلے گا اور اگر پھیل گیا تو پاکستان کے پاس امریکہ، برطانیہ کی طرح اتنے وسائل نہیں کہ وہ اِسے سنبھال سکے اِس لیے ”ساڈے تے نہ رہنا“۔ ہم تو خانِ اعظم کی ہر بات پر آنکھیں بند کرکے عمل کرتے ہیں لیکن ایک مشورہ بھی دیتے چلیں کہ وہ خود بھی اپنے آپ کو کورونا سے بچائیں کیونکہ اُن کا شمار بھی ”بابوں“ میں ہوتا ہے۔
جب سے ہم نے باہر نکلنے پر خودساختہ پابندی لگائی ہے ہر وقت باہر بھاگنے کو جی چاہتا ہے لیکن کراچی میں بیٹھی ڈاکٹر بیٹی کے خوف سے باہر بھی نہیں جا سکتے، وہ دن میں کم از کم تین بار تو ضرور پوچھتی ہے کہ کہاں ہیں۔ اگر جھوٹ بولیں تو گھر میں جگہ جگہ لگے کیمرے پول کھول دیتے ہیں اِس لیے احتیاط لازم۔ کل طبیعت کچھ خراب تھی تو بیٹی نے ”نیب“ کا روپ دھار کر سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔ میرے میاں ساتھ بیٹھے سب کچھ سُن رہے تھے، تَپ کر بولے ”تمہاری ماں تو گیراج تک بھی نکلنے نہیں دیتی، گھر میں کسی کا آنا جانا نہیں، اِس کے باوجود ہاتھ دھو دھو کر ”پھاوے“ ہو گئے ہیں۔ کیا کورونا نے چھت پھاڑ کر حملہ آور ہو جانا ہے“۔ میاں کی کڑوی کسیلی باتیں سُن کر ہماری ہنسی چھوٹ گئی۔ دراصل آجکل کورونا سے سب سے زیادہ تنگ میرے میاں ہی ہیں۔ وہ گھر میں سارا دن اِدھر اُدھر گھومتے ہوئے جانے کیا کیا بُڑبڑاتے رہتے ہیں۔ آپس کی بات ہے ہمیں کورونا کا کم از کم اتنا فائدہ تو ضرور ہوا کہ میاں ہر روز کچن میں آکر پوچھتے ہیں ”مجھے کام بتاؤ، میں کیا کروں“۔ وہ میاں جنہیں سائیڈ ٹیبل پر پڑا پانی کا گلاس اُٹھانے کے لیے بھی کسی کی ضرورت پڑتی تھی، اب ”سُگھڑ خواتین“ کی طرح امورِ خانہ داری سیکھنے کی ناکام کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ ایک دن کہنے لگے کہ فی الحال تو فلائیٹس بند ہیں لیکن جوں ہی موقع ملتا ہے، امریکہ چلے جائیں گے۔ یہی بات جب ہم نے اپنی ”امریکن بیٹی“ کو بتائی تو وہ کہنے لگی ”خبردار جو اِدھر کا رُخ بھی کیا تو“۔ کچھ دیر تو ہم سکتے کی کیفیت میں رہے کہ کیا زمانہ آگیا ہے کہ اپنا خون بھی آنکھیں پھیر رہا ہے لیکن ساتھ ہی بیٹی نے وضاہت کرتے ہوئے کہا ”ماما! پاکستان میں تو شاید پھر بھی اِس وبا سے نبٹنے کے لیے کچھ نہ کچھ ہو رہا ہوگا لیکن امریکہ میں صرف ”انتظار“ کیا جا رہا ہے۔ اب ہم بیٹی کو یہ تو بتا نہیں سکتے تھے کہ پاکستان میں بھی ہمارے ساتھ یوں ”ہَتھ“ ہو رہا ہے کہ دعوے بلند بانگ، عمل مفقود۔
ہم اُسے کیا بتاتے کہ کورونا کا کیا روناکہ اس وائرس نے ایک نا ایک دن ختم ہو ہی جانا ہے لیکن ہم پر تو گزشتہ چھ عشروں سے چھوٹے بڑے اتنے ”کورونے“ مسلط ہو چکے کہ اب بقول چا چا غالب
رنج سے خُوگر ہوا انسان تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پہ کہ آساں ہو گئیں
پاکستان میں ”کورونوں“ کی تاریخ دُہرانا عبث کہ ہر چھوٹا بڑا اِس سے واقف۔ اِس لیے دَورِ حاضر کے کورونوں کی بات کرتے ہیں۔ خانِ اعظم نے جب شیروانی نہیں پہنی تھی تب وہ کہا کرتے تھے کہ اگر اُنہیں موقع ملا تو وہ مختصرترین کابینہ رکھیں گے جو 16,17 وزراء سے زیادہ نہیں ہو گی لیکن اب صورتِ حال یہ کہ ”وَڈے“ وزیر کے ساتھ چھوٹا وزیر اور ایک مشیربھی۔ اِن سب کے اوپر ”مہا وزیر“ جسے وزیرِاعظم کہتے ہیں۔ یوں خانِ اعظم وزیروں، مشیروں کی ہاف سینچری مکمل کر چکے لیکن کارکردگی کا یہ عالم کہ”صاحب نے کھایا پیا کچھ نہیں، گلاس توڑا، بارہ آنے“۔ اِس فوج ظفر موج کی کارکردگی کو دیکھ کر ہی محترم چیف جسٹس آف پاکستان نے فرمایا کہ لگتا ہے وزیرِاعظم ”ویہلے“ ہیں۔ چیف جسٹس صاحب کی خدمت میں بصد ادب گزارش ہے کہ ہمارے وزیرِاعظم ”ویہلے“ ہرگز نہیں البتہ ”اور بھی غم ہیں زمانے میں سیاست کے سوا“۔
جہاں تک ہمیں علم ہے خانِ اعظم چین کی بانسری بجانے والے ”نیرو“ ہرگز نہیں۔ اُنہوں نے اپنے ٹارگٹس مقرر کر رکھے ہیں جن کی بجاآوری کے لیے وہ ہمہ وقت مستعد رہتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ پاکستان ایک غریب ملک ہے اور صرف ”بھیک“ مانگ کر ہی ملکی معیشت کو سہارا دیا جا سکتا ہے۔ اِس معاملے میں اُن کا کوئی ثانی نہیں۔ بڑے بڑے بھکاری بھی اُنہیں اپنا گرو مانتے ہیں کہ اُن کا طریقہئ واردات سب سے انوکھا اور الگ ہوتا ہے۔ وہ خود بھی اقرار کر چکے کہ اُن کے پاس پیسے اکٹھے کرنے کا 30 سالہ تجربہ ہے۔ جب سے ”میڈم کورونا“ پاکستان میں جلوہ گر ہوئی ہے، خانِ اعظم نے بھی کمر کس لی۔ بھائی وجاہت مسعود نے اپنے کالم میں یہ لکھ کر دریا کو کوزے میں بند کر دیا ”ہمیں تو کورونا میں بھی روٹیاں نظر آتی ہیں“۔ ویسے تو ہمیں بھائی وجاہت مسعود کے کالموں کی کبھی ”کَکھ“ سمجھ نہیں آئی لیکن اُن کا یہ ایک جملہ پڑھ کر ہم عش عش کر اُٹھے۔
خانِ اعظم اوورسیزپاکستانیوں سے بھی مدد کی اپیلیں کر رہے ہیں حالانکہ اِن اوورسیز پاکستانیوں کی کسمپرسی کا یہ عالم ہے کہ صرف متحدہ عرب امارات میں ہزاروں پاکستانی بے روزگار ہوچکے۔ متحدہ عرب امارات اُنہیں قبول کرنے کو تیار نہیں اور پاکستان میں اُن کی واپسی کے محض منصوبے۔ تقریباََ پوری دنیا میں اوورسیز پاکستانیوں کی یہی حالت ہے۔ ایسے میں جب خود اُنہیں جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں، اُن سے مدد مانگنا بھلا کہاں تک مناسب ہے۔ ویسے بھی یہ حکمرانوں کا فرض ہے کہ وہ بھیک مانگنے کی بجائے اپنے وسائل سے عوام کی مدد کریں۔ خانِ اعظم شاید یہ سمجھتے ہوں گے کہ اگر میڈم کورونا کے جلوہئ حسن کی تاب نہ لا کر10,12 ہزار بندے راہی ِ عدم کو لبّیک کہہ بھی دیں تو 22 کروڑ کے ایٹمی پاکستان کو کچھ فرق نہیں پڑنے والاکیونکہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ”بیلی“ ہیں جوکہتے ہیں کہ 33 کروڑ آبادی والے امریکہ میں 2 لاکھ انسانوں کو میڈم کورونا کی بھینٹ چڑھا دیا جائے تو سودا مہنگا نہیں۔اِس لحاظ سے 22 کروڑ والے پاکستان میں 10,12 ہزار اموات آٹے میں نمک کے برابر۔ شاید اِسی لیے اُنہوں نے اب ”نام نہاد“ لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا ہے جو لاک ڈاؤن سے زیادہ ”مذاق ڈاؤن“ ہے۔ یہ ایسا لاک ڈاؤن جس میں پبلک ڈیلنگ کا ہر شعبہ کھُلا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ کورونا سے بچاؤ کے لیے تمام تر حفاظتی انتظامات کیے جائیں لیکن ایسا ہونا ناممکن۔ جب مکمل لاک ڈاؤن تھا تب بھی منچلے باہر نکلنے سے باز نہیں آتے تھے۔ یہ الگ بات کہ پولیس اُنہیں ”گیدڑ کُٹ“ بھی لگاتی تھی اور مرغے بھی بناتی تھی لیکن وہ منچلا ہی کیا جو باز آجائے۔ اب جب کہ سب کچھ کھُل گیا تو اِن منچلوں کو قابوکون کرے گا؟۔ الیکٹرانک میڈیا کے مطابق اب پورے پاکستان کے بازاروں کی رونقیں بحال ہو چکیں۔ وہی چہل پہل جو لاک ڈاؤن سے پہلے تھی، لوٹ آئی۔ جہاں تک سماجی فاصلے وغیرہ کا تعلق ہے، فی الحال تو کہیں نظر نہیں آتا۔ اب کورونا کے لیے راہیں کھلی ہیں، جس کو جی چاہے، اپنا شکار بنائے۔
خانِ اعظم کے چہیتے سائیں بزدار نے کہا ہے کہ مالک مکان کرایہ داروں سے مارچ اور اپریل کا کرایہ نہ لیں۔ اگر کوئی مالک مکان تنگ کرے تو حکومت کو آگاہ کیا جائے۔ شاید بزدار صاحب کو کبھی کرائے کے گھر میں رہنے کا اتفاق نہیں ہوا ورنہ وہ ضرورجانتے کہ مالک مکان ہمیشہ ایک ماہ کا کرایہ ایڈوانس لیتے ہیں۔ بزدار صاحب نے ماہِ اپریل میں یہ حکم نامہ اُس وقت جاری کیا جب کرایہ دار مارچ اپریل کا کرایہ ادا کر چکے تھے۔ اِسی لیے کہا جا سکتا ہے کہ ”بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے“۔ ویسے ہم ایسے کئی مکان مالکان کو جانتے ہیں جن کی روزی روٹی کا ذریعہ محض مکان یا دُکان کا کرایہ ہے۔ اگر وہ کرایہ وصول نہیں کریں گے تو کھائیں گے کہاں سے؟۔ اگر سائیں بزدار کے دل میں کرایہ داروں کی محبت کا اُبال آ ہی گیا ہے تو پھر وہ شوگر مافیا کو دی جانے والی اربوں روپے کی سبسڈی واپس لے کر کرایہ داروں میں تقسیم کر دیں۔ ہم اُنہیں یقین دلاتے ہیں کہ ایسا کرنے سے اُن کی جے جے کار ہو جائے گی۔
بزدار حکومت کا 6 صفحات پر مشتمل حکم نامہ بھی بڑی خاصے کی شے ہے۔ اِس حکم نامے کے مطابق درزی تواپنی دُکان کھول سکتا ہے لیکن کپڑے اور سوئی دھاگے کی دُکانیں کھولنے کی اجازت نہیں۔ پلمبر کو دُکان کھولنے کی اجازت ہے لیکن سینیٹری کی دُکانیں بند رہیں گی۔ الیکٹریشن اپنی دُکان کھول سکتا ہے لیکن الیکٹرانکس کی دُکانیں نہیں کھل سکتیں۔ تعمیراتی کام کی اجازت ہے لیکن سینیٹری اور ہارڈویئر کی دُکانیں بند رہیں گی۔ مکینک اپنی ورکشاپ پر کام کر سکتا ہے مگر سپیئرپارٹس کی کوئی دُکان نہیں کھل سکتی۔ شاید سائیں بزدار کے پاس کوئی ایسی ”گیدڑ سنگھی“ ہو جو درزی، پلمبر، الیکٹریشن اور مکینک وغیرہ لوازمات کے بغیر بھی روزی روٹی کما سکیں۔ ہمارے خیال میں تو جب تک ساری متعلقہ دُکانیں نہ کھلیں، کسی کام کا بھی جاری ہونا ناممکن۔ شاید کسی ایسی ہی صورتِ حال کو دیکھ کر شاعر نے کہا ہوگا
یہ راز تو کوئی راز نہیں، سب اہلِ گلستاں جانتے ہیں
ہر شاخ پہ اُلو بیٹھا ہے، انجامِ گلستاں کیا ہو گا

یہ بھی پڑھیں  فلموں کی ہدایت کاری کرنامیرے بس کی بات نہیں، اکشے کمار

یہ بھی پڑھیے :

What is your opinion on this news?

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker