تازہ ترینصابرمغلکالم

کورونا،سفاکیت،معاشرت اورگورنس

کورونا جیسی موذی وباء آج کل ہر تحریر کا لازمی حصہ بن چکی ہے،اس حوالے سے کئی طرح کی نیوز،میڈیا ٹاک،سوشل میڈیا پر نئی نئی کہانیاں اور تبصرے ہر چیز سے مبرا ہو کر اپنی اپنی دھن میں لگے ہیں،بعض اوقات اس حد تک سنسی پھیلانے کا عمل شرمناک حد تک جاری ہے،اس وباء نے جہاں پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا وہیں پاکستان متاثرہ ممالک کی فہرست میں 8نمبر پر پہنچ چکا ہے،وزیر اعظم کے اقدامات،گورنس،ہماری معاشرت،سیاسی قوتوں کا کردار،ہر ایک نہیں اکثریتی مسیحاؤں کی سفاکیت،مافیاز کی کمینگی،سب کچھ واضح ہو گیا،سمجھ سے باہر ہے ہم کیسی قوم ہیں؟نچلے لیول سے لے کر اوپر تک انتہائی بھیانک،سرانڈ اور تعفن زدہ بدبودار کردار سامنے آئے ہیں، خود غرضی اور لوٹ ماراور کرپشن کا بازار گرم ہو گیا، ان دنوں وباء سے ہٹ سے بیماریوں اور اموات کا سلسلہ حیرت انگیز تک کم ضرور ہوا،ہمارے اپنے شہر میں روزنہ کی کسی نہ کسی کی نماز جنازہ کا اعلان ہوتا لگتا تھا جیسے موت کے فرشتے نے یہاں دیرے ڈال رکھے ہیں مگر اب ایسا نہیں ہے یہی بات سمجھ سے بالاتر ہے؟،حکومتی اقدامات کا پہلے جائزہ لیا جائے تو عمران خان نے لاک داؤن کے ساتھ ساتھ مستحق خاندانوں کی مدد کے لئے 12ہزار فی کس امداد کی دی،نہ جانے وہ کیا Criteriaبنایا گیا کہ کئی مستحق خاندان رہ گئے اور کئی غیر مستحق لے گئے،ٹائیگر فورس بنانا وزیر اعظم کا ایک احسن اقدام تھا مگر وہ بھی اپنوں کی مہربانیوں سے خالصتاً سیاسی شکل اختیار کر گیا،بتایا یہ گیا تھا کہ اس میں 30سالہ عمر کے قریب صحت مند نوجوانوں کو شامل کیا جائے گا مگر یہاں بھی کمپیوٹر سافٹ ویر کو PTIکی کمان دے دی گئی جس نے جوان اور صحت مند عام پاکستانیوں کی بجائے 60سال سے اوپر کے بھی پی ٹی آئی ورکروں کو Acceptکیا،خدمت کے جذبہ سے سرشار Applyکرنے والے نوجوان شامل نہ ہو سکے،لاک ڈاؤن کی بات کی جائے تویہ لاک ڈاؤن مذاق بن کر رہ گیا،جہاں ایک طرف پولیس فورس کے افسران اور اہلکاران جان پر کھیل کر اپنی ذمہ داریاں نبھانے مصروف رہے اور ہیں وہیں رشوت ستانی عروج کو چھونے لگی،جس نے پسیے دیئے اس کا کاروبار جاری،نہ ڈبل سواری کا مسئلہ،نہ کہیں ٹریولنگ کا مسئلہ،موٹر ویز سمیت تمام شاہراؤں پرکاریں من مرضی کے کرائے لے کر سواریاں کو منزل تک پہنچانے کا فیرضہ انجام دے رہی ہیں حالانکہ کار میں بھی صرف ایک بندے کو سفر کرنے کی اجازت تھی اور ہے،لاک ڈاؤن میں حالیہ نرمی سے قبل الراقم نے اوکاڑہ کی معروف ترین شاہراہ پر دیکھا ایک بڑے بڑے شاپنگ مال میں سر عام مرد،عورتین بچوں سمیت داخل ہو رہے تھے یہ سلسلہ کئی دن سے جاری تھا پھر نہ جانے کیسے انتظامیہ کو ہوش آیا اور اسے سیل کر دیا،سیل کرنے کے عمل کی ویڈیو دیکھی توکئی منٹ تک درجنوں افرادوہاں سے نکالے گئے،کسی گاؤں،قصبہ میں تو مان سکتے ہیں انتظامیہ کو خبر نہ ہوئی مگر وہاں بارے یقین کرنا تو دور کی بات سوچنا بھی احمقانہ بات ہے،ایک حکومتی اکابرین کی جانب سے بے شعور عوام پر اتنی توقعات باندھ لینا کہ وہ خود ہی لاک ڈاؤن کی پاسداری کریں گے بیڈ گورنس کے زمرے میں آتا ہے،تاریخ گواہ ہے کہ جب تک کسی حکمران نے قانون کی عملداری کو یقینی نہ بنایا تب تک کچھ بھی درست نہ ہو سکاالٹاوہ مشکلات اور مصیبتیں کھڑی ہوئیں جنہوں نے حکمرانی کو ہی تنکوں کی طرح بہا لیا، گورنس بہتر نہ ہونے پرانتظامی عہدوں پر براجمان بیوروکریسی بھی محض فوٹو سیشن یا فلیگ مارچ تک محدود رہی، امدادی رقم اور بے روزگار ہونے والی یہ وہی عوام تھی جو لاک ڈاؤن کھلنے پر یوں شاپنگ کے لئے پہنچی جیسے کوئی بھوکا روٹی پر جھپٹتا ہے، انصاف کا خون تو اس وقت ہوا جب کئی افراد نے اس دوران بے روزگاری، فاقہ کشی اور مایوسی کے عالم میں اپنے ہاتھوں موت کو گلے گا لیایہ نظام اور گورنس کے منہ پر تمانچہ تھا،مگر ہماری پالیسیاں چند ایسے ہاتھوں مین رہتی ہیں جنہیں حقیقت کا دراک نہیں محض اپنے باس کی خوشنودی اعداد و شمار سے حاصل کرنا ہوتی ہے،انہی دنوں ہماری معاشرت بھی ننگی ہو گئی جب ظالم اور مظلوم آمنے سامنے ہو گئے،ایک طرف مافیاز،مسیحاؤں کے نام میں بھیڑئے،گھٹیا ترین انتظامیہ اور دوسری جانب اسی وباء کے ہاتھوں اپنی مسیحائی،ڈیوٹی اور لوگوں کو بچانے کی کوشش میں جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے،ڈر اور خوف کی ایسی فضاکو ڈرامائی شکل دی گئی کہ لوگ ہسپتالوں میں جانا چھوڑ گئے کیونکہ جو بھی گیا وہ کورونا کا مریض قرار اور اس کی ڈیڈ باڈی بھی ورثاء تک کو نہ ملی،سرکاری طور پر بنائے گئے قرانطیہ مراکز کسی بد تر جیلوں سے کم نہیں حالانکہ حکومتی عہدیدار اور انتظامی افسران کے دوروں کی تصاویر روزانہ کی بنیاد پر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی زینت بنتی ہیں،ایک دوست کو گذشتہ دنوں بخار کی علامت ہوئی اس نے ایک بہت بڑے سرکاری ہسپتال میں تعینات اپنے بھانجے ڈاکٹر کو کال کر کے ہسپتال پہنچے کا بتایا تب اس کے بھانجے نے چیخ کر کہااگر آپ ہسپتال تک پہنچ چکے ہیں تو خدارا فوری واپس نکل جائیں، گھر ہیں تو میں ڈیوٹی بعد گھر آکر چیک کر لوں گا یہ بات سن کر یقین ہوا کہ سوشل میڈیا پر لوگوں کی ایسی دہائی حقیقت پر مبنی ہے،ایک دوست اپنے عزیز جو دل کا مریض تھا کو لے کر لاہور گیا جہاں اس کی موت واقع ہو گئی ہسپتال انتظامیہ نے اسے کورونا کا مریض قرار دیتے ہوئے Dead Body دینے سے انکار کر دیا مگر وہ کسی حد تک بااثر اور تعلقات رکھنے والا تھا تبھی میت لینے میں کامیاب رہا،لاہور ہی میں ایک ایس ایچ او کو کال آتی ہے کہ اگر کوئی60سالہ شخص جو چاہے کسی بھی مرض میں مبتلاء ہے کا پتہ کریں اور ہسپتال پہنچائیں،جس شخص بارے کوئی کال کر دی جائے اس کی خیر نہیں اس کے ساتھ وہ سلوک کیا جاتا ہے جن کا مہذب معاشروں اور اسلامی تعلیمات میں تصور تک نہیں ہے،یہ بات کسی عمران خان تک بھی جا پہنچی جنہوں نیشنل ہیلتھ ٹاسک فورس کے اجلاس میں ایسے واقعات کی رپورٹ پر کہا،یہ طرز عمل ناقابل برداشت ہے جوخوف کا موجب بن رہا ہے،وزیر اعظم تک سب اچھا ہے کی رپورٹ اورسب رکاوٹوں کے باوجود یہ خبر کیسے پہنچ گئی سب حیران تھے،پتہ چلا کہ یہ ان کے معاون خصوصی نے بتایامگر تاحال کچھ نہیں ہو سکا،وزیر اعظم کو یہ شاید نہیں پتا چلا کہ یہ سفاکانہ طرزعمل خوف کا نہیں موت کا موجب بن رہا ہے،بندہ تندرست ہوتا ہے پرائیویٹ لیبارٹریوں کی جانب دھکیل دیا جاتا ہے،سرکاری لیابرٹریوں کا برا حال ہے،سندھ اور پنجاب کی چند لیبارٹریوں کی تو چاندی ہو گئی ہے،پہلی بات تو یہ ہے کہ جو ہتھے چڑھ گیا وہ واپس نہیں لوٹا،دوسری بات یہ ٹیسٹ ہی اس قدر تکلیف دہ ہے جو بندے کی جان نکال لیتا ہے،اسٹک ناک میں ڈال کر اندر سے کچھ مواد لیا جاتا ہے،حال ہی میں سندھ کے دو ایم پی ایز پی پی پی کے رانا ہمیر سنگھ اور جی ڈی پی راشد شاہ نے تھرپاکر اور دوسرے نے ضلعی انتظامیہ کی موجودگی میں،سرکاری لیبارٹریز نے انہیں مریض جبکہ بعد میں لئے گئے ٹیسٹوں میں صحت مند قرار(وہ ٹیسٹ پرائیویٹ لیبارٹریوں میں لئے گئے تھے)ایسے واقعات پاکستان بھر میں ان گنت ہیں،کسی میں کچھ خوف خدا نہیں،جس کو جہاں اور جیسے موقع مل رہا ہے اس نے کوئی کسر نہیں چھوڑی،پاکستان میں کورونا کے حالات کسی داستان،کسی ڈارامے یا کسی فلم کی مانند ہیں حقیقت کو اس سے کوسوں دور دکھیل دیا گیا ہے،ہم معاشرتی لحاظ سے گراوٹ،تنزلی شکار ہی نہیں بلکہ اس لحاط سے ہم کسی گہرے گڑھے میں دفن ہو چکے ہیں،ہم بہت مستھق،غریب،یتیم،مسکین،نادار ہیں مگر انہی القابات کا ٹوکرا سر پر اٹھا کر سب سے زیادہ اسی طبقے کے دشمن بھی ہیں جو ہم سے مماثلت رکھتا ہے،جن کی وجہ سے ہم گرواٹ کی اس نہج پر پہنچے وہ ہمارے آ قا و مالک،رہبر و رہنما،قومی پالیسی ساز،اقتدار ان کا،اختیا ان کاان کا جب د ل چاہے ہمیں ڈفلی پر کسی بندر یا ریچھ کی طرح نچاکر راحت حاصل کریں،ہماری آسوں،امیدوں کے محور و مرکز ہمارے لیڈران،معزز رہنماؤں نے کورونا صورتحال سے نبٹنے کے لئے پارلیمنٹ کا اجلاس شروع کرایا،مگر پارلیمنٹ کی دیواریں اور چھٹ تک وہی روایتی بازگشت ہی پہنچ رہی ہے جو عرصہ دراز سے جاری ہے،اس اجلاس پر قوم کے کروڑوں روپے لٹ جائیں گے مگر عوام کی بہتری کی کوئی پالیسی نہیں بنے گی،سب تقریریں دیکھ لیں ہر کوئی ایک دوسرے پر تنقید کے سوا کچھ نہیں کر رہا،یہ نہیں کیا،وہ کیوں کیا،مگر کوئی حل نہیں پیش کریں گے کیونکہ عوام کے مسائل حل ہو گئے توپیچھے رہ کیا جائے گا،شایداسی لئے عوام کی بات کرنا گناہ سمجھا جاتا ہے اور پارسا لوگ گناہ نہیں کرتے،عمران خان کی سوچ کو بہترین کہا جا سکتا ہے ان کا ویژن بھی شاندار ہو گا مگر یہ سب ان کے ارد گرد ٹولے کا نہیں ہے جو ماضی کی طرح اب بھی بہتری تو آنے ہی نہیں دیں گے،یہاں سماجی آسودگی سے ان کے مفادات کو براہ راست زد پہنچتی ہے اسی وہ ہمارا بہت خیال رکھتے ہوئے،ہمیں پسماندگی کا زیور پہنا کر ہمیں غرب اور افلاس کی دلہنیا بنائے رکھتے ہیں جس میں ان کا کوئی ثانی نہیں،یہاں ہم کورونا سے بر سر پیکار ہر اس شخص کو سلام پیش کرتے ہیں جس نے اپنی جان کو ہتھیلی کر رکھ لیا یا جو شہادت کا رتبہ پا گئے،اسی موقع پر ان کرداروں پر لعنت بھیجتے ہیں جو بلاواسطہ یا بلا واسطہ قتل عام میں ملوث ہیں،چیف جسٹس گلزار احمد نے ٹھیک کہا تھا ہم میں انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں صرف گوشت کو ٹکڑا ہیں،

یہ بھی پڑھیں  ضلع چنیوٹ کے ہزاروں بچوں کا تعلیمی مستقبل تاریک کرنے کا منصوبہ بے نقاب

یہ بھی پڑھیے :

What is your opinion on this news?

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker