تازہ ترینڈاکٹر تصور مرزاکالم

کورونا وائرس (Corona viruse) سے ڈرنا کیسا؟

کورونا وائرس (Corona viruse)کی دریافت 1960 کی دہائی میں ہوئی تھی جو سردی کے نزلہ سے متاثر کچھ مریضوں میں خنزیر سے متعدی ہوکر داخل ہوا تھا۔ اس وقت اس وائرس کو ہیومن (انسانی) کرونا وائرس E229 اور OC43 کا نام دیا گیا تھا، اس کے بعد اس وائرس کی اور دوسری قسمیں بھی دریافت ہوئیں۔
کورونا وائرس (Corona viruse) پر بات کرنے سے پہلے عرض کرتا ہوں آج مجھے جہلم پریس کلب (رجسٹرڈ)جانے کا اتفاق ہوا وہاں کافی صحافی دوستوں سے ملاقات ہوئی باتوں باتوں میں اس موزی وائرس کا تزکرہ چھڑگیا۔ پاکستان میں دو مریضوں کی تصدیق ہوگئی ہے۔ اس میں گھبرانے یا پرشان ہونے کی بجائے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
اللہ پاک نے اپنے محبوب محسن انسانیت ﷺ کے صدقہ ہم پر کتنا عظیم احسان کیا ہے۔ دنیا گمراہی اور دوزخ کی طرف لپکتی جا رہی تھی۔ آپ نے جنت اور دوزخ، اچھائی اور برائی سمیت راہ ہدایت دیکھائی۔آج کی جدید تحقیق نے ثابت کر دیا ہے کہ اللہ پاک کی ایسی ایسی مخلوق ہے جس کا انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔ باکل اسی طرح اللہ کے کرم و فضل کے ایسے ایسے خزانے ہے جن کا ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔ زیادہ دور نہیں مائکرو سکوپ کی ایجاد سے قبل) (Microorganism جراثیم جیسا کہ بیکٹیریا اور وائرس وغیرہ کا کہا جاتا تو دنیا حیرت سے دیکھتی۔ اسی طرح پھر سائنس نے آکسیجن، کاربن ڈائی آکسائیڈ سمیت لاتعداد گیسوں اور آنکھوں سے نظر نہ آنے والے جہاں کا تصور تسلیم بھی کروایا اور پھر خدا کی خدائی اور پیارے نبی مصطفیﷺ کی مصطفائی کی تصدیق بھی کروادی۔ بات ہو رہی تھی کرونا وائرس کی تو عرض ہے کہ عالمی ادارہ صحت کے ذریعہ نامزد کردہ nCov-2019 نامی کورونا وائرس کی ایک نئی وبا 31 دسمبر 2019ء سے چین میں عام ہوئی۔ جو آہستہ آہستہ وبائی شکل اختیار کر چکی ہے۔ یہ وائرس اس لیے خطرناک ہے کہ یہ انسان سے انسان کے درمیان میں پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔25 جنوری 2020 ء کو چین کے 13 شہروں [9] میں ایمرجنسی لگا دی گئی ہے جبکہ وائرس کی شناخت یورپ سمیت کئی دوسرے ممالک میں بھی ہو چکی ہے۔کورونا وائرس (Corona viruse)بنیادی طور پر ممالیہ جانوروں اور پرندوں کے نظام تنفس اور انسانوں کے نظام ہضم کو متاثر کرتا ہے۔ اس وائرس کے ذریعہ انسانوں کو ہونے والی بیماریوں کی اس وقت 4 سے پانچ قسمیں ہیں۔ سب سے زیادہ پائی جانے والی قسم ”انسانی کورونا سارس CoV” ہے جو سارس بیماری کا ذریعہ بنتا ہے۔ یہ بالکل منفرد قسم کی بیماری ہے۔ اس سے اوپری اور نچلے دونوں نظام تنفس یکساں متاثر ہوتے ہیں اور بسا اوقات آنت اور معدے کا نمونیا ہو جاتا ہے۔ یہ مانا جاتا ہے کہ کورونا وائرس عام طور پر بالغ افراد کو سردی کے نزلہ کی وجہ سے سب سے زیادہ لاحق ہوتا ہے۔
عام سردی میں ہونے والے نزلہ کی طرح کورونا وائرس کے اثر کا اندازہ لگانا مشکل ہے، کیونکہ وہ ناک وائرس (عام سردی کا نزلہ) کے برعکس ہوتا ہے۔ اسی طرح لیبارٹری میں انسانی کورونا کی تحقیق و نشو و نما بھی مشکل ہے۔ کورونا نمونیا، وائرس نمونیا یا تو براہ راست یا ثانوی جرثومی نمونیا کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ مرغیوں میں متعدی برونکائٹس وائرس (IBV) نہ صرف نظام تنفس میں اثر انداز ہوتے ہیں بلکہ پیشاب کے راستہ کو بھی متاثر کرتے ہیں اور اس کا امکان رہتا ہے کہ یہ وائرس مرغی کے تمام اعضا میں پھیل جائے۔
اسی طرح کورونا وائرس کھیت کے جانوروں اور پالتو جانوروں میں بھی بہت سی بیماریوں کا ذریعہ بنتا ہے، جن میں کچھ خطرناک ہوتی ہیں اور کھیتی کو بھی نقصان پہنچا دیتی ہیں۔
کورونا وائرس (Corona viruse)کا کوئی خاص تصدیق شدہ علاج یا دوا نہیں ہے البتہ چند احتیاطی تدابیر بتائی جاتی ہیں:
کرونا وائرس ایک ڈروپلیٹ انفیکشن ہے،یعنی اس سے متاثرہ شخص اگرکھانسے یا چھینکے اور اسکے منہ سے نکلنے والے ذرے یا بوندیں آپ تک پہنچیں
یا وہ زرے ٹیبل،چئیر، دیوار یاکسی بھی چیز پر پڑیں اور آپکے ہاتھ ان میں سے کسی چیز کو چھو لیں اور پھر وہ ہاتھ اپنے چہرے پر لگایں تو یہ وائرس آپکو متاثر کرسکتا ہے۔
صابون یا پانی سے بار بار ہاتھ دھونا۔گندے ہاتھوں سے ناک، آنکھ اور منھ کو چھونے سے گریز کرنا۔متاثرہ افراد سے براہ راست اور ان کی استعمالی چیزوں سے دور رہنا۔آخر میں گزارش ہے کورونا وائرس (Corona viruse) وائرس ہے موت نہیں۔ کیونکہ موت کی کوئی احتیاط یا علاج نہیں مگر یاد رکھنے والی یہ بات ہے کہ اللہ پاک نے کوئی ایسی بیماری نازل نہیں کی جس کی شفاء نہ اتاری ہو۔ کورونا وائرس (Corona viruse) سمیت ہر وائرس اور جراثیم کے نقصانات سے بچاؤ کے لئے دین اسلام کی ہدایات کے مطابق ”صفائی نصف ایمان“ والہ فارمولہ سمجھنے کے لئے لازمی ہے کہ صفائی نصف صحت ہے کو دل میں بٹھا کر صاف ستھرا رہا جائے پینے والی اشیاء میں پھونکیں نہ ماری جائیں اور اللہ پاک کے پاک کلام کا جو حصہ بھی یاد ہے حتیٰ کہ کلمہ شریف یا بسم اللہ اس ایمان و یقین کے ساتھ پڑھا جائے کہ اللہ کے حکم کے بغیر کوئی چیز کورونا وائرس (Corona viruse)نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اور اگر حمکہ کر بھی چکا ہو تو پھر بھی کورونا وائرس (Corona viruse) کوتباہ و برباد کرنے کی قدرت خالق حقیقی کے پاس ہے۔ اور اے میرے اللہ پیارے آقا ﷺ کے صدقہ کے طفیل امت محمدیہ سمیت مجھ ناچیز کو بھی ہر قسم کی آفت و بلا سے محفوظ رکھ آمین

یہ بھی پڑھیے :

What is your opinion on this news?

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker