تازہ ترینکالم

کارپوریٹ سیکٹر اور جذبہ خدمت خلق

حالیہ وبا کرونا COVID-19میں پوری دنیاسمیت پاکستان بھی ایک بحرانی کیفیت سے گزر رہا ہے ایک طرف موت کا رقص اور دوسری جانب معیشت تباہ و برباد جس کے باعث کروڑوں افراد بے روزگارہونے کے باعث اپنی بنیاد ضروریات زندگی کے لئے انتہادرجہ پریشان اور تکلیف میں ہیں،ایسی وبائیں خد کریم کی جانب سے انسانوں کے اعمال کی بدولت کرہ ارض پر اترتی ہیں،ایسی قدرتی آفات کے دوران انسانی فطرت کی آزمائش بھی ہوتی ہے کہ کون اس کے بندوں کے ساتھ بھلائی اور بہتری کرتا ہے ایسے کڑے اور کھٹن حالات میں آزمائش پر کس حد تک پورا اترتے ہیں ایسے وقت اس قدرتی امتحان پر وہی پورا اترتے ہیں جن کی جبلت میں خوف خدا اور انسانی ہمدردی کا جذبہ بلندیوں پر ہو،اس ناگہانی آفت کے دوران جہان ایک طرف بے بس لوگوں کی خدمت میں حکومت اور نجی ادارے اور مخیر حضرات پیش پیش ہیں وہیں کئی ایسے کردار بھی سامنے آئے ہیں اس عذاب الہٰی کے باوجود استغفار کرنے،اس کے بندوں کی مدد اور ان کے کام آنے کی بجائے مادیت اور خود غرضی کو ترجیح دے رہے ہیں،الراقم کو بھی ایسی ہی انسانی ہمدردی کے کچھ مظاہر دیکھنے میں آئے جسے قارئین تک پہنچانا ضروری سمجھا، بلاشبہ حکومتی و نجی ادارے اپنی اپنی بساط کے مطابق عوامی مسائل کو حل کرنے میں کوشاں ہیں،الراقم اوکاڑہ میں اپنی پیشہ وارانہ سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ علاقے کی مختلف سماجی و فلاحی اداروں کی سرگرمیوں اور زراعت سے براہ راست منسلک ہے،چند ماہ قبل اپنے آبائی علاقہ میں معروف کاروباری گروپ المعیز گروپ کے زیر انتظام چلنے والی بابا فرید شوگر ملز کی نئی انتظامیہ کی فیلڈٹیم کو کاشت کیلئے کاشتکاروں کے پاس مشاورت کے سلسلے میں مسلسل مصروف دیکھا تو ان سے ملاقات کی کیونکہ الراقم خود گنے کی کاشت کرتا ہے ان سے سیر حاصل گفتگو اور ان کے پروفیشنل ازم سے بہت متاثر ہوا، کین مینجمنٹ کی ہدایات کے عین مطابق 03مربع ایکٹر پر ملز کی وساطت سے جدید اقسام کا گنا کاشت کیا اور جدید مشینر ی سے بھر پور استفادہ بھی کیا،حالیہ فروری کاشت کے دوران کھاد اور زرعی ادویات کے حصول کیلئے ملز میں جانے کا اتفاق ہوا تو ایک حیران کن نظارہ دیکھا کہ کرونا وبا کے باعث مستحق و ناداراوربے روزگار ہونے والے خاندانوں کیلئے فوڈ پیکج پر مشتمل راشن وسیع پیمانے پرنواحی مقامات پر بھیجنے کے لئے گاڑیوں پر لوڈ کیا جا رہا تھاجبکہ مزید راشن کی پیکنگ بھی جاری تھی،معلوم ہوا کہ ان کا یہ قابل تحسین کا م میڈیا کی چکا چوند سے آزاد اور بغیر تشہیر کے اتنا منظم اور مکمل فلاحی ورک 03اپریل 2020سے تا حال مسلسل جاری ہے حالانکہ ایسے ہی حالات میں فوٹو سیشن کو تو بعض مخیر حضرات اور سرکاری امداد کو لوگوں اور افسران نے وطیرہ بنا رکھا ہے۔ دلچسپ بات یہ کہ المعیز گروپ مستحقین کو ایک جگہ اکٹھاکر نے،مجمع لگانے اور فوٹو سیشن کرنے کے بالکل برعکس خاموشی کے ساتھ ان کے گھر راشن پہنچایا جا رہا تھا اس پیکج میں 20کلو آٹا 03کلو چاول 03کلو چینی 02کلو دال 02کلو گھی اور 02عددصابن کی ٹکیہ شامل تھیں،چونکہ فلاحی اداروں سے میری اکثر وابستگی رہتی ہے تو انسانیت کے ناطے ان کا تعارف کرانا اخلاقی طور پر جائز اور اپنا فرض سمجھتا ہوں تاکہ باقی حضرات کو بھی اسی طرح ہی کام کرنے کی ترغیب ملے،اس موقع پر بابا فرید شوگر ملز کے جنرل مینجر جاوید اقبال کاہلوں جو اس گروپ کے ساتھ طویل عرصہ سے منسلک ہیں سے خصوصی ملاقات ہوئی،انھوں نے بتایاکہ المعیز گروپ پاکستان کا ایک اہم تجارتی گروپ ہے جو فوڈ اینڈبیوریج،شوگر، ایگریکلچر، اینمل فیڈز، اسٹیل انرجی اور ٹیکسٹائیل جیسے شعبوں میں کسی تعارف کا محتاج نہیں، چونکہ یہ گروپ کسی سیاسی وابستگی کے بغیر اپنے کاروبار میں مصروف عمل ہیں لہٰذا آپ نے کبھی میڈیا میں اس گروپ کا نام نہیں سنا ہو گا، جاوید اقبال کاہلوں کے مطابق المعیز گروپ نے ریلیف پیکیچ کے لئے پانچ کڑور روپے مختص کئے ہیں جو بیک وقت سات شہروں کے گردو نواح کے علاقوں کو چنا گیا ہے جہاں جہاں المعیز گروپ اپنی کاروباری سرگرمیوں کو آپریٹ کر تا ہے، اب تک اوکاڑہ اور اس کے گرد و نواح میں 1000کے لگ بھگ خاندانوں تک یہ راشن پہنچایا جا چکا ہے،مزید 2000ہزار آن لائن درخواستیں موصول ہو چکی ہیں جن کو ضروری کاروائی کے بعد یہ پیکج جاری کردیا جائے گا۔ انھوں نے بتایا کہ المعیز گروپ کی جانب سے قدرتی آفات سے وابستہ ریلیف سرگرمیوں کے علاوہ کمیونٹی ڈویلپمنٹ میں کام جاری رہتا ہے،جس میں رورل سپورٹ یا دیہی ترقی فروغ تعلیم ہیلتھ کئیر اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی جیسے پراجیکٹ شامل ہیں،المعیز گروپ ننے نمل یونیورسٹی میں الیکٹریکل انجیئرنگ لیب کے قیام کے علاوہ سالانہ کی بنیاد پر درجنوں کے حساب سے مستحق طلبہ کوسکالر شپ دی اور LUMSکے نیشنل آوٹ رینج پروگرام میں ہر سال چار طلبہ کو سکالر شپ فراہم کر رہے ہیں، المعیز گروپ کے ہیلتھ پروگرام کی تفصیلات بتاتے ہوئے جاوید اقبال کاہلوں نے بتایا کہ ہم شوکت خانم ہسپتال کے ابتدائی دور کے ڈونرز میں شامل ہیں اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے،ملتان میں بختاور امین میموریل ہسپتال چلانے میں ہمارا کلیدی کردار ہے،آلودہ پانی کی بیماریوں سے بچاو کے لئے ہم نے اپنی کمیونٹی کے لئے ہر جگہ آزاد فلٹریشن پلانٹ لگائے ہیں دل کے پیدائشی امراض میں مبتلا بچوں کا اور مکمل علاج اور آپریشن کے لئے ہم سالانہ چھ بچوں کو آغا خان ہسپتال کراچی بھیجتے ہیں جس کے مکمل اخراجات ہم برداشت کرتے ہیں اس موقع پر مزیدپتہ چلا کہ المعیزگروپ مختلف ٹیکسوں کی مد میں سرکاری خزانے میں ہر سال 12ارب روپے کا ٹیکس ادا کرتا ہے اور شوگر ملز انڈسڑی کے اندر سب سے زیادہ منظم شفاف اور جامع ریکارڈ اور دستاویزات کا حامل گروپ ہے جن کے پاس کاروباری لین دین کے ایک ایک پائی کا حساب موجود ہے شوگر ملوں کے کسانوں کے ساتھ ادائیگیوں میں تاخیر کی خبریں آئے روز میڈیا پر ہوتی ہیں جہاں ایک سیزن کی ادائیگی دوسرے سیزن تک موخر ہوتی ہے مگر المعیزگروپ تیسرے دن ہی کسان کو رقم کی ادائیگی کر دیتا ہے۔ گزشتہ سال کسانوں کو 25ارب روپے کی نقد ادائیگی کی گئی،یہ پاکستان کا پہلا ادارہ ہے جس نے چقندر سے چینی بنانے پر ایک غیر ملکی کمپنی کے ساتھ مل کر ریسرچ اور ٹرائل کا آغاز کیا ہے جس سے پاکستان میں چینی کی قیمت کم ہو سکتی ہے، المعیز گروپ کو بابا فرید شوگر ملز اوکاڑہ کا نظام سنبھالے محض ایک سال کا عرصہ ہی ہوا ہے مگر اس ادارے نے پہلے سال ہی گنے کی کرشنگ پر 100فی صد نقد ادائیگی کر کے علاقے کے پسے ہوئے کاشتکاروں کیلئے امید کی کرن پیدا کر دی ہے کہ ان کی پیداوار پر اب کوئی ادارہ یا مڈل مین شب خون نہیں مارسکتاککککک کیونکہ المعیز گروپ کا ذیلی ادارہ اس بات پہ مکمل یقین رکھتا ہے کہ گنے کی خریداری مڈل مین کی بجائے برائے راست زمیندار یا کاشت کار سے کی جائے تاکہ فصل کا تمام پیسہ کاشتکار کو ملے جس سے اس کے معاشی حالات بہتر ہوں اور یہ رقم وہ اپنے خاندان پراور مزید کاشتکاری میں کی بہتری کے لئے استعمال کریں،اس ادارے کی کسان دوست پالیسیاں، فلاحی سرگرمیاں اور خدمت خلق کا یہ جذبہ جاری رہا تو غریب اور نادار وں کی دعائیں اس ادارے کو مزید عروج تک لے جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں  لاہور سے کراچی لائی جانے والی اسٹیٹ بینک کی رقم سے 3 کروڑ روپےغائب

یہ بھی پڑھیے :

What is your opinion on this news?

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker