تازہ ترینعلاقائی

اوکاڑہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا جرمن اور فرانسیسی یونیورسٹیو ں کے سربراہان کومراسلہ

اوکاڑہ (محمد مظہررشید چودھری سے )یورپی پروفیسرز اور محققین کو مذہبی منافرت کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے،اوکاڑہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا جرمن اور فرانسیسی یونیورسٹیو ں کے سربراہان کومراسلہ، اسلام کے خلاف نفرت انگیز ی عالمی امن کے لیے خطرہ ہے ،وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد زکریا ذاکر تفصیلات کے مطابق فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر عالمی دنیا نے شدید رد عمل ظاہر کیاہے۔ اوکاڑہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد زکریا ذاکر نے جرمن اور فرانسیسی یونیورسٹیوں کے سربراہان کو ایک مراسلہ لکھا جس میں انہوں نے اس بات پہ زور دیا کہ آزادی اظہار رائے کے نام پہ مذہبی منافرت نہ پھیلائی جائے بلکہ عوام کو اس کے بھیانک نتائج پہ آگہی دی جائے ،پروفیسر زکریا کا مزیدکہنا تھاکہ ہر قوم اور شخص کی مذہبی عبادات اور رسومات کا احترام کرنا چاہیے دوسرے مذاہب اور مقدس مذہبی شخصیات کی توہین کرناایک غیر آئینی اور غیر اخلاقی فعل ہے جس کی توقع کسی بھی مذہب معاشرے سے نہیں کی جا سکتی ،وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر زکریا ذاکر جن کی اپنی پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی جرمنی سے ہے اور وہ ایک جرمن یونیورسٹی میں بطور پروفیسر خدمات بھی سر انجام دے چکے ہیں، نے یورپی پروفیسرز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عوام اور حکام کو اس بات کی تعلیم دیں کہ کسی مذہب کی توہین کے نتائج انسانی تہذیب کے لیے کس قدر بھیانک ہو سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ اسلام دنیا کا دوسرا بڑا مذہب ہے اور اس کے ماننے والے دو ارب سے زائد ہیں جن کے جذبات کو مجروح کرنا ایک غیر دانش مندانہ فعل ہے۔ جب کچھ شر پسند عناصر مسلمانوں کی مقدس شخصیات کی مجرمانہ توہین کرتے ہیں تو اس سے اقوام کے درمیان عدم برداشت اور تشدد جیسے رویے بھی جنم لیتے ہیں،پروفیسر زکریا کا کہنا تھاکہ دنیا ایک گلوبل ویلیج بن چکی ہے اور آج کے دور میں ہمیں انسانی زندگی کو لاحق مختلف خطرات کا اجتماعی حل ڈھونڈنے کی ضرورت ہے۔ ان خطرات میں گلوبل وارمنگ، پانی کا بحران، جان لیوا بیماریاں ، غربت اور بھوک شامل ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ یورپی اقوام مذہبی منافرت اور اسلام کے خلاف نفرت جیسے رویوں کو ترک کریں اور مل کر ان مسائل پہ قابو پانے کی کوشش کریںفرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خوفناک نتائج پہ بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ اس فعل سے یورپی معاشروں میں بھی تفریق مزید بڑھے گی اور اس طرح دنیا تقسیم ہو کر رہ جائے گی۔ ہمیں تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے تاکہ مستقبل میں ہولوکاسٹ جیسے المناک واقعات کی روک تھام کی جا سکے٭

یہ بھی پڑھیں  پھولنگر:انشاء اللہ بہت جلد علاقہ جرائم پیشہ عناصر سے پاک ہو جائے گا،ایس ایچ اوپھولنگر

یہ بھی پڑھیے :

What is your opinion on this news?

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker