شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / قو نصل جنرل بارسلوناکا اپنی کیمو نٹی سے ایک گلہ

قو نصل جنرل بارسلوناکا اپنی کیمو نٹی سے ایک گلہ

پر وگر ام، محفل، ادبی تقر یب، یا کہیں اور کچھ لو گوں کا جمع ہو نا، جو وقت صر ف کیا جا تا ہے، اس کا حا صل ایسا ہو جو ہم میں حقیقی تبد یل لا ئے، صر ف خو اب خیال والی با تیں نہ کی جا ئیں، بلکے نیت صا ف نظر آ ئے تو، وقت کا صرف مثبت حا صل دیتا ہے، با رسلونا کی ادبی محفل، ہما ری ایک لا ئن
لفظ سے مطلب اور مطلب سے حا صل ہو
کچھ دن پہلے اکیڈمی با رسلونا اسپین، ادبی و ثقا فتی تنظیم قلم قا فلہ اور ریڈ یو پاکسلو نا کے زیر اہتما م جرمنی سے آ ئے نا مو ر لکھاریوں ڈاکٹر عشر ت معین سیما اور سید انو ر ظہیر رہبر کے اعز از میں با ر سلونا میں ایک ادبی تقر یب منعقد کی گئی، اس پر وگرام کی شر کت کی دعوت ہما رے عز یز دوست اور اسپین کے مشہور شا عر ارشد نذ یر سا حل صا حب اور ادب سے لگا ؤ رکھنے والے حا فظ احمد صا حب نے دی، کچھ ماہ پہلے انہی کی طر ف سے دعو ت تھی ایک مشا عر ے کی، ہم میں خا می یہ ہے کہ اس سو چ کے ما لک ہیں جو اس با ت کا یقین رکھتے ہیں کہ جو خا می نظر آ ئے اس کی نشا ند ہی کر دیں تا کہ ا گلی بار بہتر ی آ ئے، تنقید کا مقصد ہی بہتری چاہنا ہو تا ہے، نہ کہ منفی رویہ، اب کی بار پہلے جو خامی دیکھی، ہما ری نظر میں جو خامی تھی، شا ہد با قیوں کو نہ لگی ہو، اس میں بہت بہتری، بلکے بہت ہی زبر دست، اس محفل میں قو نصل جنر ل با سلو رنا عمران علی چو ہد ری صا حب بھی مو جو د تھے، جن سے سلا م دعا کر تے ہو ئے ان کی طر ف سے یہ سنے کو ملا کہ تم یہاں کے پر و گراموں میں کم نظر آ تے ہو تو کو ئی خاص وجہ، عر ض کہ با س بس جا ب کے معا ملا ت، پر وگر ام کا آ غا ز حا فظ احمد صا حب نے کیا اور وہ بات دہر ائی جو دعو ت نا مہ پر تھی کہ اس ہال کو اتنے مقر رہ وقت کے لیے بک کیا گیا ہے لہذا شا عر اپنا کلا م سنا ئیں لیکن سا تھ وقت کا احسا س بھی رکھیں، مقامی شا عر کلام سنا تے گے، سب کا انداز اپنا اپنا، ڈاکٹر عر فان مجید صا حب کے کلا م کو سن کر بہت گہر ائی ملی، نو جو ان شا عر سید شیر از کا کلام بھی داد کے قا بل، پھر اسپین کے معر وف شا عر ارشد نذ یر سا حل صا حب کی شا عری تو کمال کی، ان کی تعر یف تو امجد اسلا م امجد صا حب بھی کر تے آ ئے ہیں، اس پر وگرام میں ایک با ت بہت دلچسپ تھی، وہ یہ کہ کو شش نظر آ رہی ہے کہ خو اتین جو شا عر ی اور ادب کے حو الے سے کچھ لکھتی ہیں تو ان کو پلیٹ فا رم دیا جا ئے اور اس محفل میں یہ چیز نظر بھی آ ئی، ڈاکٹر ارم بتول نے نو جو ان لڑکی کا حو صلہ بڑھا یا جو اپنی شا عر ی پیش کر نے کے لیے سا منے آ ئیں، یہ با ت بہت قا بل تعر یف کہ نیو ٹیلنٹ کی حو صلہ افزا ئی کر نی چا ہیے، ویسے یہ روایت کم کم نہی نظر آتی ہے، جر منی سے جو مہمان تشر یف لا ئے ان کی کلام نے فضا ء ہی بد ل دی، گوکہ وقت کی کمی کے با عث تھو ڑا کلا م سنا یا گیا، شا عر ی ختم ہو ئی تو آ خر میں قو نصل جنرل با ر سلو نا عمران علی چو ہدری صا حب سے در خو است کی گئی کہ وہ اپنے خیالا ت کا اظہا ر کر یں، عین میر ی تو قع کہ، عمران علی صا حب نے کہا کہ شعر و شا عر ی سے اتنا لگاؤ نہیں رہا یا رہا بھی تو اظہا ر نہیں کیا مگر با ر سلونا میں بہت سے پر وگراموں شر کت کر تے ہو ئے اب احسا س ہو ا کہ شعر و شا عر ی سے زیا رہ لگا ؤ ہو جا ئے گا اور اردو س ے دلی لگا ؤ بڑ ھتا جا ئے گا ، جیسے ہم اس تحر یر میں انتظا میہ کی تعر یف کر رہے ہیں، ایسے قو نصل جنر ل صا حب نے بھی تعر یف کی اچھا پر وگر ام منعقد کر نے پر، سا تھ جو اہم بات کی قو نصل جنر ل صا حب نے وہ بہت، بہت ہی اہم تھی، یہ گلہ بھی تھا، اور ایک خو اہش بھی، خو شی ہو ئی کہ کیمو نٹی کا سر براہ اس با ت کو نو ٹ کر رہا اور اظہا ر بھی کیا جا رہا ہے، مگر سا تھ افسو س یہ ہوا کہ اس طر ح کے خیالا ت کا اظہا ر ان لو گو ں کی طر ف کیوں نہیں آ ج تک کیا گیا شا ہد کیا بھی گیا مگر خا کسا ر نے نہ سنا ہو، وہ لو گ جو تھکتے نہیں ہیں یہ کہتے ہو ئے کہ ہم با رسلو نا میں اپنی کیمو نٹی کے لیے ہر اقدام اٹھا نے اور ہر طر ح کا تعاون پیش کر نے کے لیے تیا ر ہیں، اس محفل میں قو نصل جنرل صا حب نے کہا کہ بہت سے پر و گراموں میں شر کت کی، اس طر ح کی اد بی محفل بھی، مگر پہلے کی طر ح آ ج بھی صر ف دو خو اتین پر و گرام میں شا مل ہو ئی ہیں، ایک صحا فی اور دوسری نیو ٹیلنٹ، اور مجھے لگتا یہ بھی جلد بھا گ جا ئیں گئیں، حا لا نکہ ہما ری خو اہش ہے کی با قی دنیا میں جیسے پر و گراموں میں خو اتین شر کت کر تی ہیں ایسے اس شہر با ر سلونا میں بھی ہو، مگر ایسا نہیں ہو رہا اور یہ اپنی کیمو نٹی سے گلہ ہے،اور امید کر تے ہیں جو ہما ری خو اہش ویسا نظر آ ئے، قو نصل جنر ل صا حب کے یہ الفا ظ ادا ہو نے تھے کہ پر و گرام کے آخر میں تین چا ر خو اتین ہال میں انٹر ہو ئیں،تو عمران علی چو ہد ری صا حب نے کہاکہ چلیں آ ج کے پر و گرام میں گلہ کچھ کم ہو ا، چو ہد ری صا حب کا گلہ بجا ہے کہ اردو ادب کی محفل میں ہما ری خو اتین شا مل نہیں ہو ں گئیں تو ہما ری آ نے والی نسل اور یہاں پڑ وھان چڑ ھنے والی نسل کیسے اردو سے واقف رہے گی، اور ہم تو کھولے عام اعتر اف کر رہے ہیں کہ صر ف با تیں کی جا تی ہیں کہ ہم میں، ہماری سو چ میں مثبت تبدیل، مگر یہ خا م خیا لی، اور صر ف با تیں ہیں، حقیقی اظہا ر کے سا تھ سا منے نظر بھی آ نا چا ہیے، چو ہدری صا حب کی با ت بہت دل کو لگی کہ کسی اور نو عیت کے پر و گرام میں جس مر ضی کو شر کت کی دعو ت دی جا ئے بلکے سب کو دعو ت دینی چا ہیے مگر اردو ادب کے حو الے سے کو ئی پر و گرام ہو تو اسپیشل صا حب کو مد عو کیا جا ئے اور تمام کیمو نٹی کو شر کت کی دعو ت دی جائے، اس اظہا ر خیا ل نے وا ضع کر دیا کہ جو اہم سیٹ پر ہو تا وہ کیمو نٹی کا سر برا ہ ہو تا ہے،اور جب کیمو نٹی کا سر بر اہ اپنی ذمہ دای سے با خو بی وا قف ہو تو پھر بہتری ضر ور آ تی ہے، ہال سے نکلتے ار شد نذ یرسا حل صا حب کے الفا ظ ضر ور کو ڈ کر وں گا جو خا کسا ر سے کہا گیا کہ تم کی تنقید والی تحر یر کا انتظا ر رہے گا، پر وگر ام، محفل، ادبی تقر یب، یا کہیں اور کچھ لو گوں کا جمع ہو نا، جو وقت صر ف کیا جا تا ہے، اس کا حا صل ایسا ہو جو ہم میں حقیقی تبد یل لا ئے، صر ف خو اب خیال والی با تیں نہ کی جا ئیں، بلکے نیت صا ف نظر آ ئے تو، وقت کا صرف مثبت حا صل دیتا ہے، با رسلونا کی ادبی محفل، ہما ری ایک لا ئن
لفظ سے مطلب اور مطلب سے حا صل ہو

یہ بھی پڑھیں  کالعدم لشکرجھنگوی کے سابق سربراہ ملک اسحاق پولیس مقابلے میں ہلاک

error: Content is Protected!!