تازہ ترینحکیم کرامت علیکالم

ضمیر پروف

hakeem karamatایک دن رات بیٹھے ہوئے تھے ہنسی مذاق کی خوب محفل سجی ہوئی تھی ۔مگر محفل کا اس دن کوئی خاص موضوع نہیں تھا ۔یہ روز رات کا معمول ہے کہ چند دوست جو صحافت اور طب سے وابسطہ ہیں آ جاتے ہیں اور کچھ دیر کے لیے کسی نہ کسی موضوع پر گفتگو شروع ہو جاتی ۔رائے ذاکر حسین کھرل صاحب جو کہ ہم سب سے سنیئر ہیں ۔کہنے لگے کہ آج میں ایک لطیفہ سناتا ہوں جو مجھے ایک دوست نے موبائل پر سنڈ کیا ہے ہم سب نے خاموشی اختیار کر لی اب رائے صاحب لطیفہ سنانے لگے اور میرا دماغ کسی اور زاویہ پر گھومنے لگا پہلے ان کا لطیفہ جو میرے نذدیک ایک بہت بڑا طعنہ ہے قارئین کے لیے حاضر ہے ۔ایک سکھ سردار فوت ہو گیا اور اس کی بیوی اپنے شوہر کی نا گہانی موت پر بین کرنے لگی ،، وئے تو کتھے ٹُر گیا ائیں جتھے نہ روٹی نہ پانی،،نہ بجلی دا چانن وئے جتھے ہنیرا ای ہینرا ائے،،وئے جتھے نہ گھر نہ بسترا،،وہ اس طرح کے بین کر رہی تھی اور مرحوم سردار کا ایک چھوٹا سا بیٹااپنی امی کے یہ الفاظ سنتا رہا ۔تھوڑی دیر سوچتا رہا پھر اپنی ماں سے پو چھتا ہے کہ،،امی باپو پاکستان تے نیں ٹر گیا،،
یہ ایک لطیفہ ہے مان لیتا ہوں کہ اس میں کوئی سچائی نہ ہو گی ۔مگر ہمارے ملک کا حال واقع ہی ایسا ہے ۔یہاں نہ بجلی نہ پانی نہ گیس بیروزگاری انتہا درجے پر لوگ بھوک و افلاس کی زندگی گزار رہے ہیں ۔دوسرے ممالک ہم پر ہنس رہے ہیں مگر ہم ان کی اس طنزیہ ہنسی کو محسوس ہی نہیں کرتے احساسات کا تعلق زندہ ضمیری میں مضمر ہے جو ہمارے حکمرانوں میں نہیں ہے ۔ان کا حال اب کچھ اس طرح ہے کہ ۔ہم نے سنا تھا کہ بلٹ پروف جیکٹس تیارہوئی ہیں جن میں سے کسی کو ئی گولی نہیں لگتی پھر ہم نے کہیں دیکھا کہیں سنا کہ ساونڈ پروف اور واٹر پروف بلٹ پروف دروازے بھی تیار ہو گے ہیں ۔ابھی حال ہی میں دنیا نے دیکھا کہ ،،بلٹ پروف کینٹینر بھی معرض وجود میں آگیا ۔مگر ایک چیز شاید ہمیں نظر نہیں آئی کہ کچھ لوگ بھی بلٹ پروف ہوتے ہیں جن کو اصطلاح میں بے عزتی پروف بھی کہا جا سکتا ہے ۔آئے دن کہیں نہ کہیں واپڈا کے دفاترزمیں جا کر لوگ ہنگامہ آرائی کر رہے ہیں ۔کہیں گیس کے ملازمین کے ساتھ یہ سلوک ہو رہا ہے کہ خدا کی پناہ مگر اتنا کچھ ہو نے کے باوجود بھی حکومتی نمائندوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ۔وہ اس بات کو محسوس ہی نہیں کرتے کہ عوام کن مسائل سے دوچار ہے ۔ٹی وی چینلز پر اخبارات میں خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں کہ ،فلاں شہر میں بچے گیس نا ہونے کے صورت میں بغیر ناشتہ کیے بھوکے سکول گے ۔یہ روز مرہ کی ہی نہیں بلکہ ہر لمحہ کی ضرور بن چکی ہے ۔
اس کے علاوہ ان چیزوں کے عدمِ دستیابی کی وجہ سے ملکی معشیت پر بہت اثر پڑھ رہا ہے ۔انڈسٹریز بند ہو رہی ہیں جس میں کام کرنے والوں کے چولہے بھی انڈسٹریز کے ساتھ ہی بند ہو جاتے ہیں ۔ہم ترقی کی جانب جانے کی بجائے تنزلی کی راہ ہموار کر رہے ہیں ۔کیا یہ سب کچھ حکمرانوں کو نظر نہیں آتا ۔یا یہ سب اپنے ریچھ کا پیٹ پالنے والے ہیں پاکستانی عوام کا رونا نالہ و فریاد کرنا ۔غیر ملکیوں کا طنز کرنا یہ سب ہمارے لیے باعث شرم ہے ،،مرزا اسداللہ خاں غالب کی روح سے بڑی معذرت کے ساتھ ۔تم شرم کی باتیں کرتے جاو چاہے جتنی ۔۔۔جو تم چاہتے ہو وہ ہم کو آتی نہیں ۔نہ شرم آئی ہے نہ آئے گی ویسے بھی وہ شاید اس معقولے کی قائل ہیں کہ ،، شرم تو آنے جانے والی چیز ہے بندہ بے شرم ہو نا چاہیے۔بے شرم بھی نہیں بلکہ جدید دور میں ،،بے عزتی پروف ہو نا چاہیے ،،یا ضمیر پروف

یہ بھی پڑھیں  پیف سکولز پیمنٹ میں تاخیر اور نئے داخلوں پر پابندی حکومتی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے ،شبیر ہاشمی

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker