تازہ ترینکالم

CPECپر سیاسی قیادت کا قابل تحسین اتفاق

qasim ali logoاگر یہ کہا جائے کہ 14اگست کو پاکستان کا قیام عمل میں آیا ،28مئی 1998ء کو ایٹمی دھماکے کے ذریعے پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہوا اور 28مئی 2015ء کو تمام سیاسی قیادت نے پاک چین اکنامک ڈور کو ہر حال میں مکمل کرنے پر اتفاق کر کے انتہائی اہم قومی ایشو پر اپنی سیاسی بصیرت اور اتفاق رائے کا مظاہرہ کے ملک کو معاشی استحکام کی جانب گامزن کردیا ہے تو یہ غلط نہیں ہوگا پاکستان اور چین کی دوستی کے بارے میں کوئی بھی ملک کسی شک و شبہے کا شکار نہیں ہے یہ دوستی ہمیشہ اور ہر آزمائش میں پوری اتری ہے اور پاک چائنا اکنامک کوریڈ ور اس دوستی کی تازہ ترین اور ایک بہترین مثال ہے جس کی تکمیل سے نہ صرف پاکستانیوں کو بے پناہ روزگار کے مواقع دستیاب ہوں گے بلکہ گوادر پورٹ جنوبی ایشیا میں دبئی طرز کی ایک ایسی بندرگاہ ہوگی جو پورے ایشیا کا معاشی حب ہوگی یوں گوادر پورٹ پاکستان کی ڈگمگاتی معیشت کو اپنے پاؤں پر لاکھڑا کرے گایہاں ہمیں یہ بات ہرگز نہیں بھولنی چاہئے کہ چین نے پاکستان میں ایک ایسے وقت میں 46ارب ڈالر کی خطیر سرمایہ کاری کی ہے جب کوئی ملک پاکستان کے خراب حالات کے باعث آنے کو تیار نہیں تھا بلکہ پاکستان سے سرمایہ کار دوسرے ممالک کا رخ کررہے تھے ۔پاک چین اکنامک کوریڈور وہ منصوبہ ہے جو چند سڑکوں کی تعمیر تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ایسا ترقی و خوشحالی کا منصوبہ ہے جس کے ذریعے انرجی،گوادر پورٹ،انفراسٹرکچر اور صنعتی تعاون بھی شامل ہے اس منصوبے کے تحت مختلف سڑکو ں کو ایک دوسرے سے لنک کرکے خنجراب تک پہنچایا جائے گاجس کا فائدہ تمام صوبوں کے علاوہ گلگت و بلتستان کو بھی ہوگا۔یہاں ایک بات انتہائی قابل غور ہے کہ اس منصوبے کیلئے مختص 46ارب ڈالر کی خطیر رقم میں سے 34ارب ڈالر توانائی منصوبوں کیلئے ہیں جن کی تکمیل سے پاکستان کو گھن کی طرح چاٹ جانیوالے والے توانائی بحران سے پاکستان کی ہمیشہ کیلئے جان چھوٹ جائے گی ۔گزشتہ دنوں خیبر پختونخواہ کے بعض وزراء کی جانب سے ایسے بیانات سامنے آئے جن کے باعث اس منصوبے کے حوالے سے بعض خدشات نے جنم لینا شروع کردیا جن میں کہا گیا تھا کہ حکومت کی جانب سے اکنامک ڈور منصوبے میں تبدیلی کرتے ہوئے پنجاب کو نوازنے کیلئے اس کی طرف سے گزرنے والے راستوں کو پہلے مکمل کیا جارہا ہے اگر ایسا کیا گیا تو کالاباغ کی طرح یہ منصوبہ بھی مکمل نہیں ہونے دیں گے مگر مقام شکر ہے کہ حکومت نے سیاسی بالغ نظری کا مطاہرہ کرتے ہوئے تمام جماعتوں کے تحفظات دور کردئیے ہیں بلکہ یہ فیصلہ یقیناََ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کیلئے باعث طمانیت ہوگا کہ حکومت نے اس حصے کو پہلے مکمل کرنے کا اعلان کیا ہے جو خیبر پختونخواہ اور بلوچستان سے گزرتا ہے اس کے علاوہ اس منصوبے کی نگرانی کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی کی تشکیل اور تمام سڑکوں کی تعمیر فوجی ادارے ایف ڈبلیو او کے سپرد کئے جانے جیسے اقدامات یقیناًحکومت کی دانشمندی کا مظہر ہے جس کے بعد دوسری جماعتوں کے پاس بھی مخالفت کی گنجائش نہیں تھی یوں سب نے باہم آواز کہا کہ ہم اس اہم ترین قومی ایشو پر ایک ہیں اور یہ منصوبہ ہر حال میں کسی تاخیر کے بغیرمکمل کیا جائے گا دوسری جانب اس اہم ترین منصوبے پر بھارت میں ایک طوفان بدتمیزی ابھی سے شروع ہوگیا ہے اور متعصب بھارتی میڈیا نے اس منصوبے کو بھارت کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف قراردے دیا ہے اور انتہائی باخبر ذرائع کے مطابق بھارت سرکار نے تو” را”میں ایک سپیشل ڈیسک صرف اسی منصوبے کو ناکام کرنے کیلئے تشکیل دے دیا ہے جس کی نگرانی ”را”کا سربراہ راچندرکھنہ خود کررہاہے یہ بھارتی خفیہ ایجنسی ”را”کی جانب سے 1971ء کے مکتی باہنی پروجیکٹ طرز کا ایک وسیع منصوبہ ہے جو انشااللہ تعالیٰ ناکام و نامراد ٹھہرے گا حال ہی میں بھارتی وزیردفاع کی جانب سے دہشتگردی کی سرپرستی جیسے بیانات واضح کررہے ہیں کہ انڈیا اس منصوبے پر کس قدر بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور وہ اس کو ناکام کرنے کیلئے کس حد تک جاسکتا ہے ۔ قصہ مختصریہ کہ EPECمنصوبہ جس قدر اہم ہے اسی طرح بھارتی سازشوں کا مقابلہ بھی ہے کون نہیں جانتا کہ بلوچستان میں دہشتگردی کا معاملہ ہو یا کالاباغ ڈیم کی تعمیر رکوانے کیلئے ڈالروں کی تقسیم یاکہ افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کیلئے مکروہ مکروہ سازشوں کا جال ان سب کے پیچھے بھارت کے علاوہ کون ہوسکتا ہے کیوں کہ بھارت وہ ملک ہے جس نے قیام پاکستان سے لے کر اب تک ہمیں تسلیم نہیں کیا اور تین جنگیں ہم پر مسلط کرچکا ہے لہٰذا ہماری فوجی و سیاسی قیادت کو خوب ہوشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اغیار کی سازشوں کو سمجھنے اور انہیں ناکام کرنے کیلئے جامع اور ٹھوس منصوبہ بندی کرنا ہوگی اور یقیناََ ہماری قیادت اس سے غافل نہیں ہے اور اس نے اس منصوبے کی تکمیل کیلئے سیکیورٹی و اس کی راہ میں رکاوٹ کا باعث بن سکنے والے دیگر خدشات کو ختم کرنے کیلئے فول پروف منصوبہ بندی کی ہوگی اورانشااللہ یہ منصوبہ تمام ترسازشوں کے باوجود پایہ تکمیل تک پہنچے گا اور پاکستان حقیقی معنوں میں خطے میں ایشیین ٹائیگر بن کر ابھرے گا۔
ع ہزار برق گرے لاکھ آندھیاں اٹھیں
وہ پھول کھل کے رہیں گے جو کھلنے والے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں  صدر زرداری کے خلاف کیس نہیں کھل سکتے، سوئس حکام

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker