شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / بڑے شہر میں کرکٹ کے بڑے میلے کا آغاز

بڑے شہر میں کرکٹ کے بڑے میلے کا آغاز

کرکٹ کا سب سے بڑا میلہ پی ایس ایل 4 دلچسپ مرحلے میں داخل ہو نے کے بعد آج پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں سجے گا،پاکستانی اور غیر ملکی اسٹار کئی دنوں سے بے تاب اور انتظار میں سلگتے شائقین کرکٹ کا لہو گرمائیں گے،میلے کے لئے تیاریاں عروج پر پہنچ گئیں،شہر کی شاہراؤں اور چوراہے ، خیرمقدمی بینرز اور اسٹارزکی تصاویر سے پوٹریٹس سے سجا دیئے گئے کراچی دلکش اور حسین مناظر میں بدل گیا، نیشنل سٹیڈیم کے ارد گرد پھولدار پودے اور رنگ برنگے برقی قمقمے عجب نظارا پیش کر رہے ہیں سٹیڈیم سخت حفاظتی حصار میں ،کراچی جسے خصوصی طور پر کرکٹ سٹی کا نام دیا گیا میں کرکٹ کا بخار عروج پر پہنچ گیا ہے دشمن ملک انڈیا کی جانب سے پیدا کردہ یقینی جنگی حالات بھی پی ایس ایل کے جنون میں کمی نہ لا سکے، شائقین کرکٹ کی دلچسپی کا عالم یہ کہ وہ بلیک میں بھی مہنگی ٹکٹیں خرید کربھی سٹیڈیم پہنچنے کے لئے بے حد بے چین ہیں کیا بچے ،کیا نوجوان کیا بوڑھے سبھی سٹیڈیم پہنچنے کے لئے بے تاب ،شائقین نے اپنی پسندیدہ ٹیموں کی شرٹس خرید رکھی ہیں جو دھڑا دھڑا فروخت ہوئیں پی ایس ایل میں شامل تمام ٹیموں کے کھلاڑی تین دن میں مختلف پروازوں کے ذریعے کراچی پہنچ چکے ہیں جن کا انتہائی والہانہ اور پرتپاک استقبال کیا گیا،کراچی میں کرکٹ میلے پر سندھ حکومت اور کراچی انتظامیہ نے سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے ہیں،اس حوالے سے چیرمین پی سی بی احسان مانی نے اسلام آباد میں ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر جنرل آصف غفور سے ملاقات کے بعدکراچی میں نیشنل سٹیڈیم کا دورہ کرتے ہوئے انتظامات کا جائزہ لیا احسان مانی نے اس موقع پر کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور بلدیاتی اداروں نے پی ایس ایل میچز منعقد کرانے کے لئے بہت محنت کی ہے کراچی والوں کو ان پر فخر کرنا چاہئے اور آئی سی سی اور فیکا کے چیف ایگزیکٹو آفیسرزڈیوڈ رچرڈسن،ٹونی آئرش سمیت کئی ممالک کے ماہرین ،آسٹریلیا کے چیف سیکیورٹی آفیسرزچیف سین کیرول ،بنگلہ دیش بورڈ کے سربراہاور ایشین کرکٹ کونسل کے صدر تنظیم الحسن بھی آئیں گے کراچی میں میچز کے انعقاد سے پاکستان میں ناقص سیکیورٹی کا تاثر زائل ہوگا،اایک ایڈیشنل آئی جی کراچی ڈاکٹر امیر شیخ نے کہاکراچی میں میچز کا انعقاد فورسز پر اعتماد کی عکاسی ہے میچز کے لئے مجموعی طور پر 50ایس ایس پی لیول کے افسران تمام معامالات کی نگرانی کریں گے13ہزارسے زائد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران و اہلکاران سیکیورٹی کے لئے تعینات کئے گئے ہیں جن میں700لیڈی اہلکار بھی شامل ہیں،سیکیورٹی کے تین حصار ہوں گے ہوٹل سے سٹیڈیم روٹ پر کھلاڑیوں کے آنے جانے والے راستوں پر سپیشل اہلکار وں اور کمانڈوز کا سخت ترین حصار قائم ہو گا اس حوالے ستے شاہراہ فیصل کو استعمال کیا جائے گا،چیکنگ کے لئے چار سیکیورٹی پوائنٹس،کنٹرول روم،عارضی ہسپتال ،پانچ مقامات پر پارکنگ جہاں سے500شٹل چلا کر شائقین کو سٹیڈیم تک پہنچایا جائے گاان میں سے چار پارکنگ یونیورسٹی روڈ اور ایک غریب نواز پارک ڈالمیا روڈ پر بنائی گئی ہیں،شائقین کو بغیر اضافی چیزوں (کھانا وغیرہ )اور شناختی کارڈہمراہ لا کر پہلے پہنچنے کی ہدایت میچ شروع ہونے سے دو گھنٹے قبل گیٹ بند کر دئے جائیں گے شائقین کی ریفرشمنٹ کے لئے سٹالزلگائے گئے ہین، تین گھنٹے قبل سٹیڈیم روڈ اور اطراف کی ٹریفک کو موڑ دیا جائے گا سٹیڈیم روڈ پر موجود ہسپتال جانے والی سڑک کھلی رہے گی کارساز سے سٹیڈیم ،ڈالمیا روڈ،حسن اسکوائر سے سٹیڈیم روڈ مکمل بند کر دی جائے گیاٹریفک روانی کے لئے ایک ہزار سے زائد ٹریفک پولیس اہلکار فرائض انجام دیں گے،سٹیڈیم کے باہر پولیس جبکہ سٹیڈیم کے اندر کی سیکیورٹی رینجرز کے ذمہ ہے جنکی مدد کے لئے فوج کے دسے دو روز قبل ہی سے سٹیڈیم میں موجود ہیں،50موٹر سائیکلز پر سوار100کمانڈوز سٹیڈیم کے ارد گردمصروف گشت اوردو ہیلی کاپٹر فضائی نگرانی جاری رکھیں گے تمام نگرانی سی سی ٹی وی اور نئے80نائٹ ویژن کیمروں سے مکمل مانیٹرنگ ہو گی،تاہم ایک حساس ادارے کی جانب سے دو روز قبل سیکیورٹی خدشات پر مبنی مراسلہ ملنے پر پولیس حکام نے پلان نے کئی اہم تبدیلیاں کرتے ہوئے 3بیک اپ منصوبے بھی تیار کر لئے ہیں کھلاڑیوں کی آمدورفت کاکے روٹس بھی تبدیل کئے جا سکتے ہیں اس نئے پلان سے صرف اعلیٰ افسران ہی آگاہ ہیں بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ایک درجن سے زائد ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن میں سے5ٹیمیں صرف کھلاڑیوں کے روٹس پر مختص ہیں6ٹیموں کے اہلکار پارنگ ایریاز اور سٹیدیم کے اطراف میں موجود ہوں گی ،سٹیڈیم کے اطراف اور رو ٹ پر واقع تمام بلند عمارتوں پر ماہر نشانہ باز وں کو تعینات کیا گیا ہے ،شہر بھر میں بھی سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی تمام داخلی و خارجہ راستوں پر سخت چیکنگ کا سلسلہ شروع ہے، میچز شام سات بجے شروع ہوں گے البتہ 11مارچ کو دو میچ ہونے کی وجہ سے پہلا میچ دو بجے سہ پہر شروع ہو گا،17مارچ کو اختتامی تقریب شام6بجے اور میچ رات8بجے ہو گا،حالات کو فول پروف بنانے کے لئے کراچی کے متعدد علاقوں میں کومبنگ آپریشن بھی کئے گئے ، نیشنل سٹیڈیم میں پی ایس ایل میچزکے لئے گذشتہ دو سال سے تزئین و آرائش کا کام جاری ہے جن میں کچھ ابھی تک نا مکمل رہا ،سٹیڈیم میں 8میچوں کے لئے 5وکٹیں تیار کی گئی ہیں اور یہ سب بیٹنگ وکٹیں ہیں جس سے چوکوں چھکوں کی برسات سے شائقین میں مزید دلچسپی بڑھے گی ،متحدہ عرب امارات کے کے تین مقامات دوبئی ،شارجہ اور ابوظہبی میں26میچز کے بعد آج سے11تک چار میچوں کے ساتھ لیگز میچوں کا پہلا مرحلہ مکمل ہو جائے گاجہاں دیار غیر میں ہونے والے میچز نے پاکستانیوں کو اپنے سحر میں جکڑے رکھا اب ان کے اپنے وطن اور شہر میں ہونے والے مقابلوں پر ان کے جذبات کا کیا عالم ہو گا ؟،یو اے ای سے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور پشاور زلمی پلے آف کی پوزیشن کے ساتھ دیس پہنچے ہیں ،باقی تین ٹیموں میں گھمسان کا رن پڑے گا ملتان سلطان واحد ٹیم ہے جو پلے آف مرحلہ میں سب پہلے باہر ہو کر وطن واپس پہنچی ،کوئٹہ گلیڈیایٹرز9میچوں میں سے7جیت کر14پوائنٹس کے ساتھ پہلے ،پشاور زلمی 12پوائنٹس کے ساتھ دوسرے اور اسلام آباد یونائٹیڈ8پوائنٹس کے ساتھ تیسری پوزیشن پر ہیں لاہور قلندر اور کراچی کنگز کے 2.2میچز باقی ہیں پہلا ٹاکراآج لاہور قلندر اور اسلام آباد یونائٹیڈ کے درمیان پڑے گا10کو کراچی کنگز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز،11کو کراچی کنگز بمقابلہ پشاور زلمی اور لاہور قلندر بمقابلہ ملتان سلطان کے درمیان کھیلے جائیں گے اس کے بعد کوالیفائر مرحلہ میں 13مارچ کونمبرV1نمبر2ٹیم،14کو ایلیمیٹر ون میں3 V 4نمبرٹیم،دوسرا ایلمینیٹرمیچ15مارچ کو کو ہو گا اور فائنل17مارچ کودیکھو پی ایس ایل 4کا تاج کس ٹیم کے سر سجے گا،ان مقابلوں میں اسلام آباد یونائٹیڈ نے اگر پہلا میچ ہی جیت لیا تو پلے آف کے لئے کوالیفائی کر جائے گا،لاہور قلندر ملتان سلطان کو ہرا اگلی ڈور تک پہنچے گا،کراچی کنگز کے دونوں باقی میچ ایونٹ کی مضبوط ترین ٹیموں کوئٹہ گلیڈی ایترز اور پشاور زلمی کے ساتھ ہیں اور اس کے لئے یہی بات پریشان کن ہے کراچی کنگز کو اپنے دونوں میچ جیتنا لازمی ہونگے اگر کراچی کنگز ایک میچ جیتتا ہے تو تیسری پوزیشن اور ہارنے کے صورت میں چوتھی پوزیشن اسی طرح اسلام آباد یونائٹیڈ کے ہارنے پر تینوں ٹیموں کے پوائنٹس 8.8ہو جائیں گے پھر ان میں سے دو ٹیمیں بہتر رن ریٹ پر پلے آف کا حصہ ہوں گی ملتان کے علاوہ باقی تین میں سے کوئی دو پلے آف مرحلے کا حصہ بن سکتی ہیں اس لئے ان کے درمیان کانٹے دار مقابلے ہوں گے اور تینوں ٹیموں کے لئے کسی غلطی کی گنجائش نہیں لاہور قلندر کو مجموعی طور پرناقص ترین فیلڈنگ نے ناکامی کی راہ پر گامزن کیا ہے اس شعبہ میں اب ذرا سی کمزوری اسے لے ڈوبے گی،والدہ کی وفات کی وجہ سے واپس پہنچنے والے محمد عامر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے ساتھ میچ سے قبل اپنی ٹیم کو جوائن کر لیں گے یو ای اے میں اس بار میچوں کے دوران شائقین توقع سے کہیں کم نظر آئے مگر یہ سب کسر کراچی میں نظر آئے گی اور اہلیان کراچی ثابت کریں گے کہ غیرملکی کھلاڑیوں شین واٹسن،رولی روسو،ڈیوائن براوو،فواد احمد،لیونک رونکی،کیمرون ڈیلپورٹ،فلپ سالٹ،سمت پٹیل،کولن انگرام،کولن منرو،لیام لیونگسٹن،سکندر رضا،روی بوپارہ،لیام ڈائسن ،آندرے فلیچر ،وائن میڈسن،کیرن پولارڈ،اینٹن ڈیوچ،ڈیوڈ ویز،سندیپ المی لاجے،برینڈن ٹیکر،جانسن چارلس،جیمز ونسن ،ڈینئیل کرسچن ،اور ڈیرن سیمی کا پاکستان آنے کا فیصلہ انتہائی درست تھا اور وہ انہیں مدتوں خوشگوار لمحات اور حقیقی مہمان نوازی کو کبھی فراموش نہیں کر پائیں گے،بعض کھلاڑی اپنی قومی ٹیموں میں شمولیت اور انجری کی وجہ سے پی ایس ایل کے لئے نہیں آئے یا واپس چلے گئے مگر لاہور قلندر میں پہلی بار شامل ہونے والے اے بی ڈی ویلئیر نے کمر میں درد کا بہانہ بنا کر پاکستان آنے سے انکار کر دیا،ایسا عمل ٹیموں کے لئے شدید دھچکے کا باعث بنتے ہیں گذشتہ سیزن میں بھی کئی غیر ملکی کھلاڑیوں نے جب پاکستان آنے سے انکار کیا تھا تب پی سی بی کی جانب سے یہ کہا گیا کہ آئندہ صرف وہی غیر ملکی کھلاڑی پی ایس ایل کا حصہ بنیں گے جو پاکستان آنے سے انکار نہیں کریں گے،غیر ملکی کھلاڑیوں کے ایسے انکار سے نہ صرف ٹیموں کو نقصان ہوتا ہے بلکہ عالمی سطع پر پاکستان کا امیج بھی خراب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے،اب تک کے ہونے والے میچوں میںآسٹریلوی آل راؤنڈر شین واٹس بیٹنگ میں332رنز سے پہلے لیونک رونکی297دوسرے اور لیونگسٹن 280تیسرے نمبر پر ہیں باؤلنگ میں پاکستانی باؤلرز حسن علی 18وکٹ،سہیل تنویر 14اور فہیم اشر13وکٹوں پہلے تین پوزیشن پر ہیں،چھکوں کے حوالے سے آصف علی18،کیرن پولارڈ 16اور لیونگسٹن 14چھکوں کے ساتھ سر فہرست ہیں،شین واسٹن نے پی ایس ایل میں باؤلنگ کو انتہائی معیاری قرار کہتے ہوئے کہا ہے کہ ہر ٹیم میں ایسے پاکستانی باؤلرز ہیں جوkm 150کی سپیڈ سے باؤلنگ کر سکتے ہیں ،پی سی بی نے وزیر اعظم سمیت چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ،گورنرز ،وفاقی وزراء،کرکٹ کھیلنے والے تمام ممالک کے بورڈ سربراہان سمیت دیگر اہم شخصیات کو پی ایس ایل کا فائنل دیکھنے کا دعوت نامے بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم بھارتی وفد پہلے ہی انکار یا معذرت کر چکا ہے، ،توقع کی جا رہی ہے کہ پی ایس ایل 4کے فائنل میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان بھی میچ دیکھنے نیشنل سٹیڈیم جائیں گے،کراچی سے تعلق رکھنے والے مگر اس وقت سر فہرست ٹیم کے کھلاڑی سرفراز احمد نے شائقین سے اپیل کی ہے کہ وہ جوق در جوق سٹیڈیم پہنچیں،پاکستانیوں کے ہر دلعزیز غیر ملکی کھلاڑی ڈیرن سیمی پاکستان میرا دوسرا گھر ہے مجھے یہاں آکر بہت خوشی ہوتی ہے پاکستانیوں کی کرکٹ سے دیوانگی اور مہمان نوازی دنیا میںؓ کہیں اور نہیں ملتی،کوئی شک نہیں کہ پاکستانی ڈیرن سیمی کی دل سے عزت کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  بھائی پھیرو:وزیر اعلی پنجاب کی ڈینگی کے خلاف چلائی مہم پر بھائی پھیرو بلدیہ اور تحصیل انتظامیہ خاموش