تازہ ترینصفدر علی حیدریکالم

کلچر نکل پڑا ہے منوں کے حساب سے

کرونا کے خونی وار جاری ہیں – بنی نوع انسان نے اپنی پوری تاریخ میں کسی ایک دشمن کے ہاتھوں اتنا زیادہ نقصان نہیں اٹھایا – اور  وہ بھی اس دور میں کہ جب دنیا گلوبل ویلیج کا روپ دھار چکی ہے – مقام حیرت بے کہ بے مثال سائنسی ارتقاء بھی اس وبا نما بلا  کا بال بھی بیگا نہیں کر پایا  – ابھی تک یہ بھی اندازہ نہیں لگایا جا سکا کہ اس مصیبت سے جان کب چھوٹے گی – تاہم ابھی سے ان نقصانات کے ازالے کی کوششیں شروع کرنا ہوں گے تاکہ غریب ممالک اور اس کی عوام کے زخموں پر مرہم رکھا جا سکے –
ہمارے وزیر اعظم پاکستانی عوام کی فلاح کے لیے کچھ کر پائے ہوں یا نہیں لیکن عالمی سطح پر ایک انتہائی مقبول لیڈر کے طور پر ضرور ابھرے ہیں – چند روز پہلے انہوں نے غریب ممالک کے قرضے معاف کرنے کی جو اپیل کی تھی اس کا خاطر خواہ نتیجہ برآمد ہوا ہے اور چھہتر ممالک کو قرض کی ادائیگی میں ایک سال کی چھوٹ دے دی گئی ہے – ترقی یافتہ ممالک کو ایک قدم اور آگے بڑھاتے ہوئے تمام قرضے یکسر معاف کر دینے چاہیے تھے – تاہم عمران خان کو خراج تحسین پیش کیے بنا کوئی چارہ نہیں کہ جن کی بروقت اپیل سنی گئی اور چھہتر غریب ممالک کو کچھ ریلیف ملا –
سورہ فیل کی تلاوت کرتے ہوئے اکثر یہ سوال ذہن کے دریچوں میں کلبلاتا تھا کہ چھوٹی چھوٹی کنکریوں سے ہاتھیوں کو کیسے تہس نہس کر دیا گیا ہو گا – کرونا نے ایک طرف تو  انسانی بے بسی آشکارا کی ہے اور  دوسری طرف صدیوں پرانی حقیقتوں کی بھی تصدیق کی ہے –
اسلحے کے ابنار لگا کر انسان نے یہ سمجھ لیا تگا کہ اس نے دشمنوں سے خود کو محفوظ کر لیا ہے – اکثر کہا جاتا تھا کہ اتنا اسلحہ ایجاد ہو چکا ہے جس سے  دنیا کو سات بار تباہ کیا جا سکتا ہے – پتہ چلا کہ ان دیکھے منحنی دشمن نے انسان اور اس کے تمام اسلحے کو یکسر ناکارہ کر کے رکھ دیا ہے – انسان کی منفی اپروچ تو دیکھیں کہ اس نے اپنے ہی جیسے انسانوں کی تباہی کے لیے مختلف قسم کے ہتھیاروں کے ڈھیر لگا دیے – اپنی بہترین صلاحیتوں کو بجائے فلاح کے فساد کے لیے استعمال کیا – کاش وہ سوچتا کہ یہ وبائیں یہ بلائیں انسان کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہیں – اسے کب یہ احساس ہو گا کہ اسے تخریب کے لیے نہیں تعمیر کے لیے بھیجا گیا ہے – خلافت ارضی کا تاج یونہی تو اس کے سر پر نہیں سجایا گیا – اس موقع پر مجھے احمد ندیم قاسمی کی ایک مشہور  نظم  چوگا یاد  آتی ہے – فرماتے ہیں
چوگا
باجرے کا اک دانہ اپنی چونچ میں رکھے
چڑیا اماں چوگا دینے آئی ہے
بچے اتنے ننھے مُنے سے ہیں
جب وہ چیختے ہیں
سر سے پنجوں تک چونچیں بن جاتے ہیں
دانہ ایک اور بچے دس ہیں
کس کس کی چونچ سے چونچ ملا کر ڈھارس دے
ٌٌذرہ توڑ کے حشر بپا کرنا تو تم نے سیکھ لیا ہے
دانہ توڑ کے زندگی برپا کرنا اس سے اونچا فن ہے
کیا تم دانہ توڑ سکو گے؟
دانہ ایک اور بچے دس ہیں
دانہ توڑ کے زندگی برپا کرنا واقعی ایک اونچا فن ہے – کرونا کے بعد سے تو انسان کو یہ فن سیکھ لینا چاہیے – آج وقت کا یہی تقاضا ہے کہ انسان اپنے جیسے دوسرے انسان کا دکھ درد سمجھے اور اگر اس کے بس میں کچھ ہے تو اسے  آگے آنا چاہیے – انسانیت کا تقاضا ہے کہ وہ انسانوں کی فلاح کی فکر کرے – ورنہ تو صورت حال وہی ہوگی جو انور مسعود د نے شعروں کے قالب میں ڈھالی ہے –
وہ شہر نامراد ہڑپہ ہے جس کا نام
اس قریہ خموش دیار خراب سے
عبرت کی اک چھٹانک برآمد نہ ہو سکی
کلچر نکل پڑا ہے منوں کے حساب سے
یہ بھی پڑھیں  دفتر خارجہ کشمیر پر عمران خان کا پیغام دنیا تک پہنچانے میں ناکام رہا: شیریں مزاری

یہ بھی پڑھیے :

What is your opinion on this news?

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker