تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

کسٹم ایکٹ کے اور ممبران اسمبلی

zafarکیابوڑھااورکیاجوان ،مرد کیااورعورت کیاعوامی جذبات ،اضطرابی کیفیت اورہرزہ سرائی کے تناظرمیں دیکھاجائے تومحسوس ہوتاہے کہ مالاکنڈڈویژن میں کسٹم ایکٹ کے نفاذکامعاملہ یہاں کے عوام کے لئے موت وحیات کا مسئلہ بن گیاہے جس نے علاقہ بھرکے ماحول کوانتہائی افسردہ کردیاہے۔پچھلے کئی ماہ سے یہاں کسٹم ایکٹ کایشوزبان زدعام ہے اوربنتی ٹوٹتی امیدوں کے دکھائی دیتے منظرمیں کسی کوا نان کسٹم پیڈگاڑی کی فکرلاحق ہے توکسی کواپنی لینڈپراپرٹی اور کاروبارکے لالے پڑگئے ہیں۔سرکاری ملازمین ہوںیاکاروباری طبقہ ، بیرون ممالک مقیم لوگ ہوں یاکسان مزدور،سیاسی کارکن ہویاسماجی ورکر،طالب علم ہوپراپرٹی ڈیلرسب کی حالت ایک جیسی ہے آپس کی عداوتیں اورسیاسی اختلافات اپنی جگہ تاہم کسٹم ایکٹ کے معاملے پرپوری قوم یکجاہوکرایک ساتھ سراپااحتجاج ہے۔کسٹم ایکٹ کے خلاف احتجاج کا لائحہ عمل طے کرنے اوراس ایکٹ کی واپسی کے لئے حکومتی ذمہ داران کے ساتھ مذاکرات سمیت دیگرذرائع اپنانے کی غرض سے انٹی کسٹم ایکشن کمیٹی کے نام سے مالاکنڈڈویژن کی سطح پر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں ،منتخب ممبران اسمبلی،وکلاء،تاجربرادری اوردیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افرادپرمشتمل ایک متفقہ کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے ۔ 18 جولائی کوسوات میں مذکورہ کمیٹی کے ہونے والے اجلاس میں جوچار اہم فیصلے کئے گئے تھے ان میں ایک یہ تھاکہ 24 جولائی کوچکدرہ میں مالاکنڈڈویژن کے تمام ممبران قومی وصوبائی اسمبلی اورسینیٹرزکااہم اجلاس ہوگااوریہ بھی کہاگیاتھاکہ جوبھی ممبراس اجلاس میں شرکت سے قاصررہااسے قوم کاغددارسمجھاجائے گااس اعلان کی روشنی میں 24 جولائی کوقومی وطن پارٹی کے ایم پی اے بخت بیدارخان کی زیرصدارت مختلف سیاسی جماعتوں کے منتخب ممبران قومی وصوبائی اسمبلی کا فشنگ ہٹ چکدرہ میں اہم بیٹھک ہوئی جس کے اختتام پرجاری کردہ اعلامیہ میں کہاگیا کہ کسٹم ایکٹ کے معاملے پر مالاکنڈ ڈویژن کے عوام سراپااحتجاج ہیں جبکہ حکومتیں ٹس سے مس نہیں ہورہی ہیں۔انٹی کسٹم ایکشن کمیٹی کے احتجاج کاشیڈول برقراررہے گاجس کے مطابق 27 جولائی کوڈویژن بھرمیں مکمل شٹرڈاؤن،5اگست کوپہیہ جام ہڑتال جبکہ 10اگست کووفاقی دارالحکومت اسلام آبادمیں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنادیاجائے گا،قومی وصوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ میں قراردادیں لائی جائیں گی اور ایکشن کمیٹی اضلاع کی سطح پر قوم کواعتماد میں لے گی۔اس سے قبل قومی وطن پارٹی کے ایم پی اے بخت بیدارخان کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں شریک جن منتخب ممبران اسمبلی اور دیگر مقررین نے خطاب کیا ان میں مسلم لیگ نون سے تعلق رکھتے ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹرعباداللہ، تحریک انصاف کے ایم این اے جنید اکبر خان،جماعت اسلامی کے شیراکبرخان جبکہ صوبائی اسمبلی کے ممبران میں پی پی پی کے صاحبزادہ ثناء اللہ ،تحریک انصاف کے ڈاکٹر حیدرعلی اورفضل حکیم،جے یوآئی کے مفتی فضل غفور ،عوامی نیشنل پارٹی کے سیدجعفرشاہ اور قومی وطن پارٹی کے بخت بیدارخان شامل تھے۔مقررین نے تشویش ظاہر کی کہ صوبائی حکومت مختلف شعبوں میں آئے روزوفاق کوسمری بھجواتی ہے جن پر کوئی بھی عملدرآمد نہیں کیاجاتا جبکہ کسٹم ایکٹ کی سمری کی منظوری میں عجلت سے کام لیاگیاجوکہ بدنیتی کی علامت ہے۔ ممبران اسمبلی نے کہاکہ منتخب ایوانوں میں قراردایں لانے سمیت 8 اگست سے شروع ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر شدید احتجاج کیاجائے گااوراگرایکشن کمیٹی نے اسمبلی رکنیت سے مستعفی ہونے کاحکم دیاتووہ ایک بھی لمحہ ضائع نہیں کریں گے۔ اس موقع پرتجاویزدیتے ہوئے مقررین نے کہاکہ ایکشن کمیٹی وزیراعظم ،صدرمملکت اور وفاقی وزیرخزانہ اوروزیراعلیٰ پرویزخٹک سے ملاقات کرکے اپنامؤقف ان کے سامنے رکھیں اور اگرمعاملہ اس سے بھی حل نہیں ہوتاتومنتخب ممبران اسمبلی سے استعفے طلب کئے جائیں۔اگرچہ مالاکنڈڈویژن میں منتخب ممبران اسمبلی کی خاصی اچھی تعداد ہے جن میں صوبائی اسمبلی کے27 قومی اسمبلی کے 10اورسینٹ کے 5ممبرز ہیں اوراگریہ سارے اس ایک ایشوپر متحد ہوگئے تویہ معاملہ حل ہونے میں دیر نہیں لگے گی کیونکہ منتخب ممبران کی اتنی بڑی تعداد کسی بھی حکومت کو مشکلات سے دوچارکرنے اوراپنی بات منوانے کے لئے کافی ہوتی ہے مگرنظرآتی اس حقیقت کے باوجودمایوس کن صورتحال یہ ہے کہ 24جولائی کوچکدرہ میں کسٹم ایکٹ کے خلاف جو اجلاس ہوااس میں مسلم لیگ نون کے ڈاکٹرعباداللہ،تحریک انصاف کے جنیداکبرخان اورجماعت اسلامی کے شیراکبرخان پر مشتمل قومی اسمبلی کے تین اورتحریک انصاف کے ڈاکٹرحیدرعلی،فضل حکیم،جمعیت علمائے اسلام کے مفتی فضل غفور،پیپلزپارٹی کے صاحبزادہ ثناء اللہ،قومی وطن پارٹی کے بخت بیدارخان اور عوامی نیشنل پارٹی کے سید جعفرشاہ پر مشتمل مجموی طورپر کل 9اراکین نے شرکت کی جبکہ پانچ سینیٹرزمیں سے ایک بھی شریک نہ ہوسکا۔ اجلاس سے غیرحاضررہنے والوں میں وزیر اعظم کے مشیر انجینئر امیر مقام ،ممبران قومی اسمبلی میں صاحبزادہ طارق اللہ،صاحبزادہ محمد یعقوب خان، سلیم الرحمان اور مرادسعید، سینیٹرزمیں سراج الحق، زاہدہ بی بی ، نثار مالاکنڈ، احمدحسن خان اورثمینہ عابد جبکہ وزیر اعلیٰ کے مشیر شکیل خان سمیت ممبران صوبائی اسمبلی میں ڈاکٹر امجد ، عزیز اللہ گران،عبد المنعم ،صوبائی وزراء محمود خان،حبیب الرحمان، محمد علی شاہ باچا،سلیم خان ، محمدعلی کوہستانی صوبائی وزراء عنایت اللہ اورمظفر سیدشامل ہیں جبکہ ڈویژن بھرسے کوئی ایک بھی خاتون ممبر شریک نہ ہوسکی۔ واضح رہے کہ چندروزقبل جماعت اسلامی دیربالا نے کسٹم ایکٹ کے معاملے پر کل جماعتی کانفرنس تو بلائی تھی جس میں دیگرجماعتوں کے رہنماؤں سمیت جماعت اسلامی کے ایم این اے صاحبزادہ طارق اللہ اور صوبائی وزیرعنایت اللہ شریک تھے مگر تشکیل کردہ متفقہ ڈویژنل انٹی کسٹم ایکشن کمیٹی کے اعلان کردہ اجلاس میں ایم این اے شیراکبر کے علاوہ جماعت اسلامی کے کسی بھی ممبرنے شرکت کی زحمت گوارانہیں کی جوکہ کسٹم ایکٹ کے خلاف جاری احتجاجی تحریک کی کامیابی پر سوالیہ نشان ہے۔

یہ بھی پڑھیں  کوئٹہ : نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 3 افراد جاں بحق

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker