احمد رضا میاںتازہ ترینکالم

دادی اماں اور۔۔۔ بجلی

ahmad razaعلی۔۔۔ علی بیٹا آجاؤ۔۔۔ میں نے لالٹین جلا دی ہے ۔ آ کر ہوم ورک کر لو۔۔۔ دادی اماں نے لالٹین جلا کر کمرے کے درمیان میں رکھے ہوئے ٹیبل پر رکھتے ہوئے علی کو آواز دی۔۔۔۔
ہا ۔۔۔ ایک ہمارا زمانہ تھا کہ کبھی لوڈ شیڈنگ کا کانسیپٹ(Concept) بھی نہیں تھا اور ایک یہ زمانہ ۔۔۔ کہ بجلی کا ہی کانسیپٹ نہیں ۔کم از کم دن میں دو چارگھنٹے ہی آ جایا کرے جس سے موبائل فون کی بیٹری ہی چارج ہوجائے۔یو پی ایس بھی چارج نہ ہو نے کی وجہ سے بے کار پڑے ہیں۔۔۔۔ بجلی بھی نہیں ہے گیس بھی ختم ہوتی جا رہی ہے اور پانی ۔۔۔۔۔۔ہائے ہائے کیا بنے گا اس ملک کا ۔ جانے کس کی نظرلگ گئی ہے ہمارے ملک کو۔۔۔۔دادی اماں نے ٹھنڈی آہیں بھرتے ہوئے کہا۔
دادی اماں آپ کس سے باتیں کر رہی ہیں؟۔۔۔۔کمرے میں تو کوئی بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ علی نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے شرارتی انداز سے پوچھا۔۔۔۔
اپنے ملک کی تقدیر سے باتیں کر رہی ہوں بیٹاجو اس وقت ظالم اور کرپٹ حکمرانوں کے شکنجے میں ہے۔۔۔دادی نے رنجیدہ ہو کر جواب دیا۔۔۔۔۔
دادی اماں یہ لوڈ شیڈنگ کی آپ کیا بات کر رہی تھیں یہ کیا ہو تی ہے؟۔۔۔۔ علی نے معصومیت سے پوچھا۔
لوڈ شیڈنگ ۔۔۔ بیٹا۔ جب بجلی کی کمی کو پوراکرنے کے لیئے کچھ وقت کے لیئے بجلی کو بند کیا جاتا ہے تو اسے لوڈ شیڈنگ کہتے ہیں۔۔۔۔ شروع شروع میں تو دن میں دو یا تین گھنٹے ہی بجلی بند ہوا کرتی تھی لیکن بعد میں جیسے جیسے حکوتیں تبدیل ہوتی گئیں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بھی بڑھتا گیا۔اور ایک وقت ایسا آگیا تھا کہ دن میں صرف دو یا تین گھنٹے کے لیئے ہی بجلی آتی تھی۔۔۔۔ لیکن اب !۔۔۔۔ اب تو بجلی کا تصور ہی ختم ہو چکا ہے۔۔۔ ہمارے اباؤ اجداد ہمیں بتایا کرتے تھے کہ اُن کے زمانے میں لوگ لالٹین اور چراغوں کو روشنیوں میں پڑھا کرتے تھے۔اب وہی دور دوبارا آ چکا ہے۔۔۔۔ جن لوگوں کے پاس روپیہ پیسہ وافر ہے اُن کے لیئے تو کوئی مشکل بات نہیں اُنہوں نے تو بڑے بڑے جنریٹر خرید رکھے ہیں جن کی مدد سے وہ بجلی پیدا کرتے ہیں اور آرام کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اور رہ گئے ہمارے جیسے مڈل کلاس اور غریب لوگ جن کے مقدر میں وہی لالٹین وہی چراغ اور وہی موم بتی۔۔۔۔۔دادی اماں نے افسردگی سے کہا۔
داد ی اماں ہم نے تو کتابوں میں پڑھا ہوا ہے کہ یہ کمپیوٹر کا زمانہ ہے اور دنیا بڑی تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ نئی نئی ایجادات ہو رہی ہیں۔تو کیا وہ لوگ بھی لالٹین اور چراغوں کی روشنی میں تعلیم حاصل کرتے ہیں؟۔۔۔۔علی نے معصومیت سے پوچھا۔
نہیں بیٹا ۔۔۔ وہ لوگ ہم سے بہت آگے نکل چکے ہیں۔وہاں چور لٹیرے اور کرپٹ حکمران حکومت نہیں کرتے۔اور نہ ہی وہ قومیں ہم جیسی ہیں جن کے ضمیر بھی مر چکے ہیں اور بے حس بھی ہو چکے ہیں۔اُن ملکوں میں ہر کوئی اپنی ذمہ داری بڑی ایمانداری سے نبھاتا ہے۔۔۔ وہ لوگ جتنی تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں ہم اُتنی ہی تیزی سے پیچھے جا رہے ہیں اور اگر یہی صورت حال رہی تو وہ دن دور نہیں کہ دنیا میں ہمارا نام نشان تک باقی نہیں رہے گا۔۔۔۔ دادی اماں نے رنجیدہ ہوتے ہوئے کہا۔
نہیں دادی اماں ۔۔۔ آپ اس قدر مایوس نہ ہوں۔۔۔اس ملک کی نئی نسل میں اتنی غیرت ہے کہ وہ اپنے پیارے ملک کو تباہ ہونے سے بچالیں۔ ہم بدلیں گے پاکستان کو ۔ ہم روشن کریں گے اپنے ملک کے کونے کونے کو۔ ہم کریں گے ترقی کی راہ پر گامزن اپنے پیارے وطن کو۔ ہم مار بھگائیں گے اُن چور لٹیروں کو جو ہمارے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں ۔ آپ دیکھنا دادی اماں ہم ایک دن ضرور ترقی کریں گے۔ ہم فخر سے اپنا سر اونچا کر کے پوری دنیا کو بتائیں گے کہ ہم ہیں پاکستانی ہم زندہ قوم ہیں ۔۔ہم زندہ قوم ہیں۔۔ہم زندہ قوم ہیں۔۔ ۔۔۔ علی نے بڑے جذباتی انداز سے تقریر کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
شاباس بیٹاشاباش۔۔۔تم نے میری ٹوٹتی ہوئی امید کو بچا لیاہے۔خدا تمہیں اور تمہارے جیسے سب نوجوانوں کوسلامت رکھے۔۔۔۔ اس ملک کی آخری کرن تم نوجوان ہی ہو۔۔۔اور تم نے ہی اس ملک کو ختم ہونے سے بچانا ہے۔۔۔۔ خدا تمہیں سلامت رکھے۔۔۔خدا تمہیں سلامت رکھے۔۔۔۔ دادی اماں نے لرزتے ہوئے ہونٹوں سے علی کی پیشانی کو noteچوماخدا کا شکر ادا کیا اور اپنی بھیگی پلکوں کو ڈوپٹے سے صاف کرتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔۔

یہ بھی پڑھیں  قائد حزب اختلاف خورشید شاہ چیئرمین پبلک اکاوٴنٹس کمیٹی نامزد

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker