تازہ ترینعلاقائی

داؤدخیل :90سال سے قائم زراعت آفس کی عمارت خستہ حال اور اس میں کسانوں کو مشورے دینے والے ملازمین غائب

داؤدخیل( ضیانیازی سے ) داؤدخیل کی نواحی گاؤں ڈھیر امید علی شاہ میں 90سال سے قائم زراعت آفس کی عمارت خستہ حال اور اس میں کسانوں کو مفید مشورے دینے والے ملازمین غائب ،تفصیلات کے مطابق روزنامہ دنیا نے جب ڈھیر امید علی شاہ کا دورہ کیا تو شہریوں غلام علی ،امیر مختیار نے بتایا کہ 1925میں قائم ہونے والا یہ آفس انگریز دور میں قائم ہو اتاکہ یہاں کہ کسانوں ،زمینداروں کو فصلوں کی کاشت کے بارے میں بہتر مشورے دے کر گندم کی بہتر پیداوار حاصل کی جا سکے لیکن اب کافی عرصے سے اس کی بلڈنگ مکمل ہو گئی تھی لیکن اس کے باوجود اس میں جس فیلڈ اسٹنٹ کو بھرتی کیا گیا ہے وہ تو یہاں آتا ہی نہیں ہے اور نہ ہی کسانوں کوکوئی مشورے یا اچھا بیج مہیاء نہیں کیا جاتا جس سے ہماری فصلوں کی پیداوار کم ہوتی ہے مجاہد عباس ،عرفان نے کہا اب تو یہاں کسانوں ،زمینداروں کو مشورے دینے کی بجائے ایک وویٹرنری ڈاکٹر آتا ہے جو علاقے کے بیمار جانوروں کا علاج کرتا ہے اور جو اسٹنٹ ہے وہ یہاں آنا بھی گوارہ نہیں کرتا اس سے قبل یہاں مقامی اسٹنٹ تھا جو ہمیں ہر روز آفس میں میسر ہوتا تھا اور وہ کسانوں کو محکمہ زراعت کی جانب سے جدید طریقوں کے ذریعے گندم کی کاشت کے طریقوں سے آگاہی دیتا تھا ،طاہر ،آصف ،فرحت عبا س نے بتایا کہ ہم پہلے تو روزنامہ دنیا کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے ہمارے پسماندہ گاؤں کا سروے کیااور ہمارے مسئلے کو اعلی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے آئے انہوں نے کہا کہ ہمارا گاؤں کو آباد ہوئے سو سال سے بھی زائد کا عرصہ ہو چکا ہے لیکن آج بھی اکسیویں صدی کے جدید دور میں یہ بنیادی سہولتوں سے محروم ہے اتنی زیادہ آبادی ہونے کے باوجو دیہاں عوام کے لیے صرف ایک اکلوتی ڈسپینسری ہے جس میں ایک عام سا ڈسپینسر ہے جو ہم لوگوں کا علاج کرتا ہے ا سکے علاوہ اور بہت سے مسائل ہیں لیکن زراعت کے آفس کو قائم ہوئے اس وقت 90سال ہو گئے ہیں لیکن آج تک نہ ہمیں حکومت کی جانب سے کھبی کوئی اچھا بیج مہیاء کیا گیا ہے اور نہ کھبی کوئی زراعت کا اعلی افسر ہمیں گندم کی کاشت اور دیگر فصلوں کی کاشت کے بارے میں بتانے آیا ہے اب بھی ا سمیں جس ملازم کی ڈیوٹی ہے وہ یہاں نہیں آتا بلکہ وہ وہ کہیں اور اپنی ڈیوٹی دے رہا ہے نادر ،اکبر نے کہا ہے کہ اس آفس کی حالت بھی ا سوقت انتہائی خستہ ہو چکی ہے اس کی تعمیر کہ بعد کھبی اس پر توجہ نہیں دی گئی اور جس کی وجہ سے اس کی حالت ابتر ہوتی جا رہی ہے اور اب تو اس دفتر میں ایک وویٹرنری ڈاکٹر محمد خان ہے جو اس دفتر میں لوگوں کے جانوروں کو دیکھتا ہے اور فیلڈ اسٹنٹ میانوالی میں زراعت کے اعلی افسران کے پاس ڈیو ٹی دے رہا ہے ہمارا محکمہ زراعت کے اعلی افسران سے مطالبہ ہے کہ ہمیں یہاں ایک مستقل ملازم دیا جائے اور ہمارے علاقے کے کسانوں کو فصلوں کے بارے میں مفید مشو رے دیں تاکہ ان پے عمل کر گندم اور دوسری فصلوں کی پیدا وار میں اضافہ ہو سکے اور ہماری روزنامہ دنیا سے بھی التماس ہے کہ ہمارے علاقے کے مسائل کو کوریج دیں تاکہ اعلی افسران کے علم میں آئے کہ ڈھیر امید علی شاہ میں بھی انسان رہتے ہیں ۔۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button