تازہ ترینعلاقائی

داؤدخیل :چمنیوں کے دھوئیں سے بیماریاں کینسر، فالج، مہروں کی بیماری ،گردوں کی بیماریاں پھیل رہی ہیں

داؤدخیل (نامہ نگار) کیا داؤدخیل کی عوام کو اسی طرح بیماریوں کے تحفے ملتے رہے گے اور عوام جن کو ان فیکٹریوں میں روزگار کے مواقع تو میئسر نہیں لیکن بیماریاں ان کا مقدر بن گئی ہیں پہلے فیکٹریوں کی چمنیوں سے نکلنے والے دھوئیں نے عوام کو کئی بیماریوں میں مبتلا کیا اور اب کول پلانٹ نصب کر دیا گیا ہے جس سے انسان ہی نہیں جانور بھی متاثر ہو گے وہیں ہماری زمینیوں پر ابھی اس سے خارج ہونے والی گیسوں سے ہماری زراعت بھی متاثر ہو گی ان خیالات کا اظہار میونسپل کمیٹی داؤدخیل کے کونسلروں آصف علی خان ،حبیب اللہ خان خنجری خیل نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ داؤدخیل میں سیمنٹ فیکٹری کی جانب سے 40میگا واٹ کا کول پلانٹ نصب کیا گیاہے جو زرعی اور فضائی آلودگی کا سبب بنے گا جہاں کول پلانٹ علاقے کی عوام اور زراعت کے لیے نقصانات پیدا کرئے گا وہی ان علاقوں کے جانوروں کو شدید خطرات لاحق ہو نگے اور یہ کول پلانٹ فی گھنٹہ 40کلو کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرئے گا اور زرعی علاقوں میں تیزابی بارشوں سے اناج کی پیداوار بے حد متاثر ہو گئی اور جانوروں کی بہترین نسلیں بھی ناپید ہو نے کے خطرات لاحق ہو نگے دنیا کے باقی ممالک میں کول پلانٹ کو ختم کیا جا رہا ہے جبکہ پاکستان میں کول پلانٹ لگائے جا رہے ہیں ان کول پلانٹوں سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں سب سے زیادہ کینسر ،پھیپھڑوں کی بیماری ،جلدی بیماریا ں انتہائی خطرناک ہو گی انسانوں کے لیے بجلی تو سستی پیدا ہو گی لیکن اس کے مقابلے میں اس سے پیدا ہونے والی بیماریاں عوام کے لیے انتہائی خطرناک ہو گئیں اور جس سے اموات کی شرح 2فیصد تک بڑھنے کا امکان ہے کیونکہ کوئلہ اور گیسیں جلانے سے کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا ہو تی ہے جس سے اس بجلی کے فوائد سے زیادہ انسان کے لیے بیماریوں کے خطرات زیادہ ہو نگے لیکن اب تو شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کا رجحان زیادہ ہو رہا ہے اور شمسی بجلی کوئلے کے مقابلے میں بھی اب سستی ہے لیکن حکومت کول پلانٹ پر اپنی توجہ کیوں مرکوز کیے ہوئے ہے اب ان پلانٹ کی نسبت شمسی توانائی کے پلانٹ سستے ہیں اور ان سے کوئی بیماریاں بھی پھیلنے کا خطرہ نہیں ہے جبکہ کوئلے کے استعمال سے کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دوسری زہریلی گیسز فضا میں جائیں گی اور پھر وہ نیچے آئیں گی اور تیزابی بارش بن کر ہماری فصلوں پر پڑئے گئیں اور پاکستان دنیا میں پانچواں بڑا ملک ہے دودھ پیدا کرنے میں جس سے ہمارے جانوروں کی نسلوں کے ناپید ہو نے سے ہمیں جہاں دودھ میں مشکلات پید اہو سکتی ہیں وہی جانوروں کی افزائش نسل کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں پہلے ہی ہمیں ان سیمنٹ فیکٹری اور ایگری ٹیک فرٹیلائزر فیکٹری کی چمنیوں سے نکلنے والے دھوئیں نے کئی بیماریوں میں مبتلا کر رکھا ہے جب کہ محکمہ ماحولیات بھی مکمل طور پر خاموش ہے اور خواب خرگوش کے مزے لینے میں مصروف ہے لیکن افسوس کہ فیکٹری انتظامیہ نے داؤدخیل کو کوئی سہولت مہیاء نہیں کی ہے اس بار نئے پلانٹ کے لگنے کی وجہ سے علاقائی عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے 20بیڈ اور سکول کے لیے کچھ کرسیاں دیکر بڑا کارنامہ سر انجام دیا ہے وہ داؤدخیل کے ممبران کو چونا لگا گئے ہیں جب کہ ان کی فیکٹری میں مقامی افراد کو بھرتی نہیں کیا جاتا اگر کوئی ان سے حق مانگ بھی لے تو ان پر دہشت گردی کے دفعات لگا کر انہیں جیل بجھوا دیتے ہیں تاکہ کوئی اور دوبارہ ہمت نہ کرئے جس کی وجہ سے عوام ان مالکان سے نالاں نظر آتی ہے اور افسوس کہ آج تک ہمارے عوامی نمائندوں ایم این اے اور ایم پی اے نے بھی کھبی توجہ نہیں دی کہ ان فیکٹریوں میں مقامی لوگوں کو بھرتی کیا جائے اور ان علاقوں کو سہولیات بھی دی جائے بجلی فری ،سکول ،سڑکیں وغیرہ ان فیکٹری مالکان کا حق ہے لیکن وہ صرف پیسہ کمانے میں لگے ہیں جبکہ سہولیات تو نہیں مل رہیں ہیں لیکن عوام بچاری کو چمنیوں کے دھوئیں سے بیماریاں کینسر ،فالج ،مہروں کی بیماری ،گردوں کی بیماری مل رہی ہیں اور اب تک سینکڑوں افراد کینسر ،فالج ،گردوں کی بیماریوں کی وجہ سے موت کی وادی میں جا چکے ہیں اب کول پلانٹ نے کام شروع کر دیا ہے اور ا سکی چمنیوں سے زہریلا دھواں نکلنا شروع ہو گیا ہے اور اب کول پلانٹ لگنے کے بعد مزید بیماریوں کے تحفے داؤدخیل اور گردونوا ح کی عوام کو ملے گے ا س پلانٹ سے نکلنے والا زہریلا دھواں داؤدخیل ،گلن خیل ،خیر آباد ،پکی شاہ مردان ،ماڑی انڈس ،ٹھٹھی ، و دیگر علاقوں کو متاثر کرئے گا ۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button