تازہ ترینعلاقائی

داؤدخیل:پانی کم ہونے کی وجہ سے کچہ کے زمینداروں کو شدید مشکلات درپیش ہیں

داؤدخیل(نامہ نگار)پاکستان کی سب سے بڑی نہر تھل سے داؤدخیل کچہ کی زمینوں کے لیے نکلنے والی داؤدخیل مائینرز جو کے داؤدخیل کچہ کے علاقہ کی ہزاروں کنال اراضی کو سیراب کرتی ہے اور جس کو بنے اس وقت تقریبا 22سال سے زائد کا عرصہ ہو گیا ہے لیکن آج تک اس کی مکمل صفائی نہیں ہوئی جس کی وجہ سے ٹیل تک پانی نہیں پہنچتا ہے اور پانی کم ہونے کی وجہ سے کچہ کے زمینداروں کو شدید مشکلات درپیش ہیں داؤدخیل کچہ کے زمینداروں نے سروے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا اقبال خان نے کہا کے عرصہ داراز سے اس نہر کی صفائی نہیں ہوئی محکمہ نہر کی جانب سے ان نہروں کی صفائی کرنے کے ٹینڈر کر دیے جاتے ہیں لیکن ان کی صفائی نہیں ہوتی ہے جسکی وجہ سے نہر میں پانی کم ہوتا ہے اور جس زمینداروں کو پانی لگانے میں مشکلا ت پیش آتی ہیں اور ٹھیکے دار محکمہ نہر سے اپنے پیسے لیکر چلے جاتے ہیں اور جس کے بعد پورا سال ہم لوگ ذلیل و خوار ہو تے ہیں رئیس خان نے کہا کے اس نہر کو بنے تقریبا 22سال سے زائد کا عرصہ ہو گیا ہے اور اس نہر میں جب ہم زمینداروں کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے تو اس میں پانی نہیں ہوتا کیونکہ اس نہر سے داؤدخیل کچہ کا ہزاروں ایکڑ رقبہ سیراب ہو تا ہے اور اس نہر میں پانی آنے سے پہلے جو زمیندار ہوتے ہیں وہ نہر کو بند کر خود پانی لگاتے ہیں جس کی وجہ سے جو زمیندار آخر پر ہیں انہیں پانی دیر سے ملتا ہے جس سے فصلوں کی کاشت پر بہت اثر پڑتا ہے اورجس سے ہماری پیداوار پر بھی اثر پڑتا ہے اور اس نہر کی آج تک ٹیل تک صفائی نہیں ہوئی جس کی وجہ سے اس میں پانی کم آتا ہے اور جس سے ہمیں پانی کے وقت بہت دقت ہوتی ہے امیر عالم خان نے بتایا کے اس نہر میں پانی ہونے سے ہمیں ہزاروں روپے کے پانی لگانے سے ہماری بچت ہو جاتی ہے کیونکہ اس مہنگائی کے دور میں ٹیوب ویلوں کا پانی لگانا ہم غریب زمینداروں کے بہت مشکل ہے اگر ہم لوگ ٹیوب ویل کا پانی لگائے تو اتنا خرچہ ہو جاتا ہے کے ہمیں کچھ نہیں بچتا انہوں نے کہا کے ہماری ڈی سی میانوالی سے گزارش ہے کے ہمیں ا س نہر کی مکمل صفائی کرا کے دیں تاکہ ہمیں نہر میں پانی ملے اور ہم زمینوں کو بر وقت پانی لگا کر ہم اپنی زمینوں سے بہتر پیداوار حاصل کر سکیں جابر خان نے کہا ہے کے ہر سال محکمہ نہر کی جانب سے ان چھوٹی نہروں کی صفائی کے ٹینڈر بھی کیے جاتے ہیں لیکن وہ ٹینڈر صرف کاغذی کارروائی ہوتے ہیں نہر کے افسران ٹھیکے داروں سے مل کر ان نہروں کی صفائی کی رقم خورد برد کر لیتے ہیں اور جس کے بعد نہر میں مٹی بھرنے سے ہماری نہر میں پانی کی مقدار کم ہو تی رہتی ہے اور جس کی وجہ سے ہمیں پانی کم ملتا ہے اور بعض بااثر افراد پہلے نہر کو بند کر کے اپنی سینکڑوں کنال کو پانی لگاتے ہیں اس کے بعد ٹیل کی جانب پانی جاتا ہے اور اس وقت زیادہ تر لوگ اپنی فصلوں کو پانی لگا لیتے ہیں نعمت اللہ خان اور محمد حیات نے کہا کے ا س نہر میں پانی کمی کی وجہ سے ٹیل کے قریبی زمینداروں نے اپنے ٹیوب ویل لگوا لیے ہیں کیونکہ کے انہیں اپنے وقت پر پانی نہیں ملتا اور جس کی وجہ سے ان کی فصلوں پر بہت اثر پڑتا ہے اور پیداوار بھی کم ہوتی ہے انہوں نے کہا کے پاکستان کی سب سے بڑی نہر جناح بیراج کے مقام داؤدخیل سے نکل رہی ہے اور اس نہر کے لیے ہم لوگوں نے اپنی سونا اگلنے والی زمینیں محکمہ نہر کو دیں مگراس کے باوجود ستم ظریفی کے ہمارے داؤدخیل کچہ کے لیے صرف فلڈ سیزن میں پانی ہے ورنہ ا سکے علاوہ ہمیں پانی نہیں ملتا محکمہ نہر کے افسران کہتے ہیں کے آپ لوگوں کو صرف فلڈ سیزن میں تین ماہ پانی ملے گا ہماری وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف اور ڈی سی میانوالی شوزب سعید سے اپیل ہے کے ہماری ا س نہر کی وارہ بندی کر کے کے تمام زمینداروں کو برابری کی بنیاد پر پانی دیا جائے اور محکمہ نہر کے افسران کو بھی پابند بنایا جائے کے ان نہروں کی بھل صفائی ہر سال کی جائے تاکہ پانی ٹیل تک کے زمینداروں کو ملے اور وارہ بندی ہونے سے کسی کی حق تلفی بھی نہیں ہو گی اور امیر اور غریب کو اپنے مقرر کردہ وقت پر پانی ملے گا اور کوئی پھر نہر کو بند کر پانی نہیں لگائے گا انہوں نے کہا کے اس نہر کے پانی لگانے سے ہمیں بہت سی بچت ہو جاتی ہے کیونکہ ا س مہنگائی کے دور میں ڈیزل بھی بہت مہنگا ہو چکا ہے اور ہم غریب لوگ 400 روپے تک گھنٹہ پانی لگانے کی سکت نہیں رکھتے ہیں ہماری وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف ،ڈی سی میانوالی شوزب سعیداور محکمہ نہر کے اعلی افسران سے اپیل ہے کے ہماری نہروں داؤدخیل مائینرز ،بخارا مائینرز ،اور پائی خیل مائینرز کی بھل صفائی کے موقع پر ان کی مکمل بھل صفائی ہو اور تاکہ ٹیل تک تمام زمینداروں کو نہری پانی کی سہولت میسر ہو اور وہ نہری پانی سے فائدہ حاصل کر یں اور محکمہ انہار ہر سال نہر تھل کی سالانہ مرمت اور راجباہوں کی صفائی کے لیے کروڑوں روپے خرچ کرتے ہیں لیکن صرف کاغذوں کی حدوں تک تو مکمل صفائی ہوتی ہے لیکن عملی طور پر کوئی صفائی نہیں ہوتی ہے جس کی وجہ سے داؤدخیل مائینرز ،پائی خیل مائینرز میں مٹی بھر ی ہوئی ہے جس کی وجہ سے ان میں پانی کم ہوتا ہے اور جس کی وجہ سے زمینداروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہوتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button