تازہ ترینکالممحمد جاوید اقبال

داغ

javidسفید پر کالا داغ ہو یا کالے پر سفید۔ جسم پر قدرتی برص کا داغ ہو یا کردار پر لگا ہوا کبھی نہ مٹنے والا داغ، داغ ہر صورت میں صرف داغ ہی ہوتا ہے اور جس کے بھی دامن پر یہ لگ جائے وہ اسے مٹانے کے لئے بے چین ہی نظر آتا ہے۔ کسی بھی قسم کے داغ کو عزت کی نظر سے دیکھ کر دل سے لگانے کی غلطی کوئی نہیں کرتا سوائے اس عاشقِ نامراد کے جس کی نظر میں فراقِ یار کا داغ بھی باعثِ تسکینِ قلب ہی ہوا کرتا ہے۔ فلمی نغموں میں بھی داغ کا استعمال بد نمائی کی صورت میں ہی ہوا کرتا ہے کبھی منّا ڈے کی آواز میں۔ ’’ لاگا چنری میں داغ چھپاؤں کیسے‘‘ تو کبھی مکیش کی آواز میں۔ ’’ کہیں داغ نہ لگ جائے‘‘ ویسے تو قاتل بھی دامن پر لگے ہوئے خون کے داغ کو مٹانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں اب یہ الگ بات ہے کہ ان کی ہر کوشش ناکام ثابت ہوتی ہے اس لئے کہ خنجر کی زبان چپ رہتی ہے تو آستین کا لہو گواہی دے دیتا ہے۔مختصر یہ کہ داغ چاہے جیسا بھی ہو صرف بدنمائی کی ہی پہچان ہوتا ہے۔ اگر انسانوں کی زندگی پر نظر ڈالیں تو یہاں بھی یہ داغ مختلف صورتوں میں نظر آئے گا۔ آج پاکستانی عوام کی جو حالت ہے وہ کل نہیں تھی یوں ان کے ماتھے پر بھی داغ لگا دیا گیا ہے۔ کرپشن کا داغ، مہنگائی کا داغ، دہشت گردی کا داغ، ٹارگٹ کلنگ کا داغ، لوڈ شیڈنگ کا داغ،بے روزگاری کا داغ، اس کے علاوہ بھی کئی اقسام کے داغ ہیں جو اس ملک کے غیور عوام پر لگا دیئے گئے ہیں۔ اس معاملے میں اتنا کچھ لکھا جا چکا ہے کہ اب لکھنے کو بھی جی نہیں چاہتا ، میں تو بس اس شعر پر ہی اکتفا کروں گا کہ:
نیکیاں واجب تھیں جن پر وہ بدی کرنے لگے
قوم کے رہبر بھی دیکھو رہزنی کرنے لگے
یہاں تو اتنے داغ لگ چکے ہیں کہ اب اسے تولنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ یہ داغ گننے کے شمار سے باہر ہیں۔ مطلب یہ کہ داغوں کے اچھے یا بُرے ہونے کے پیمانے بھی حالات کی مناسبت کو نظر میں رکھ کر طے کئے جا رہے ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ جب دل بہلانے کے زمانے میں صرف پی ٹی وی کا راج چلتا تھا۔ اس وقت نہ تو سینکڑوں چینلوں کی بھرمار تھی اور نہ ہی آنکھوں کو چکا چوندھ کر دینے والے اشتہاروں کی چمک دمک ۔ اُس وقت بھی ’’سرف ‘‘کا اشتہار چلا کرتا تھا اور آج بھی سرف کا اشتہار بلا ناغہ سینکڑوں چینلوں پر چلا کرتا ہے اور اس کا نعرہ بھی صرف داغ کو صاف کرنے کا ہوتا ہے،سرف ترقی کرتے کرتے سرف ایکسل ہوگیا لیکن داغ دھونے کا کام بدستور جاری ہے، مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ عوام پر لگے ہوئے داغ آج تک برقرار ہیں۔ اسے دھونے کے لئے کوئی بھی جواں ہمت موجود نہیں ہے۔ سیدھی بات یہ ہے اگر آپ کی سمجھ میں آجائے کہ بدنما داغوں کا زمانہ اب لد گیا۔ اب جس کا جی چاہے وہ دل کھول کر کیچڑ میں کودے، کپڑوں میں ہاتھ سے مل مل کر داغ لگائے اور ’’ سرف ایکسل ‘‘ کی خدمات لے کر آرام سے بے داغ ہو جائے اس لئے کہ اب نہ تو داغ لگنے میں کوئی برائی ہے اور نہ ہی داغ لگانے میں۔ ملک کے پوش طبقات ہر طرح کی داغوں میں لدے ہوئے ہوتے ہیں مگر پھر اُن الزامات سے ایسے دھو دیئے جاتے ہیں کہ جیسے دودھ کے دُھلے ہوں۔
اگر اپنے ملک کے موجودہ حالات پر نظر کریں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ آزادی کے بعد سے ہی اس ملک میں داغیوں کا پروڈکشن بہت تیزی سے بڑھا ہے اور اس وقت تو یہ حال ہے کہ بے داغ اور داغی کے بیچ کے فرق کو پہچاننا ہی مشکل ہو گیا ہے۔ جو بھی معتبر ہستی آج ہم کو داغی نظر آتی ہے وہ کچھ ہی دنوں بعد ایک ہی جھٹکے میں بے داغ ہو جاتی ہے۔ دراصل گندگی کی کیچڑ میں مکس ہوئی ہمارے ملک کی سیاست ایک ایسا ڈٹرجنٹ ہے جو ضدّی سے ضدّی داغ کو بھی آسانی سے دھو دینے کا دَم رکھتا ہے۔الیکشن بھی ہو گئے اُس میں صاف اور بے داغ لوگوں کے علاوہ چند داغی لوگ بھی جیت کر آ گئے۔ جب داغی بھی جیت گئے تو اُس وقت ہماری سمجھ میں آیا کہ داغی اور بے داغ کے تمغے الیکشن کی ضرورتوں کے حساب سے بانٹے جاتے ہیں۔ اب جو داغی جیت کر آگئے ہیں وہ اپنی پہلی ترجیحات میں عوام کو نہیں بلکہ اپنے داغ دھونے کے لئے کسی ڈٹرجنٹ کا سہارا ضرور لیں گے۔ہمارے پارلیمنٹ اور مختلف اسمبلیوں میں جو کچھ داغی کرسیوں پر بیٹھے ہیں وہ اپنے داغ دھونے کے لئے ہی سیاسی میدان میں آتے ہیں اور ہماری بے داغ سفید پوش سیاسی پارٹیاں خوشی خوشی ان کو گلے لگاتی ہیں۔ دراصل ہمارے قول و عمل کے کچھ نکات ان داغیوں کے لئے محفوظ پناہ گاہ کی طرح ہیں جن کے مطابق ہر داغی اس وقت تک بے داغ ہے جب تک عدالت کی طرف سے سزا یافتہ قرار نہ دے دیا جائے۔ اگر کسی عدالت سے سزا مل بھی جاتی ہے تو دوسری بڑی عدالتوں میں اپیل کرنے کی گنجائش بھی باقی رہتی ہے اس لئے اگر کوئی نچلی عدالت سزا کا فیصلہ سنا کر داغی بنا بھی دے تو دوسری بڑی عدالتوں کے ڈٹرجنٹ ان داغوں کو آسانی سے دھو بھی دیتے ہیں۔ اس لئے ملک میں داغیوں کا جو کاروبار چلتا آ رہا ہے وہ ویسے ہی بدستور چلتا رہتا ہے۔ اس کاروبار کو آپ ہوشیاریاں بھی کہہ سکتے ہیں۔معاملہ چونکہ داغ اور داغیوں کا ہے اس لئے سیاست پر لگے ہوئے داغ کی باتوں کو اُجاگر کرنا پڑ ورنہ ہمیں کیا پڑی تھی کہ اس طرف سوچتے۔
مستقبل قریب میں ایسا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا ہے کہ کوئی قارون غریبوں کا مسیحا بن جائے۔ قرآئین بتاتے ہیں کہ ابھی وہ دن بہت دور ہے کہ یہ دبے کچلے ہوئے لوگوں کے لئے کوئی مسیحا پیدا ہو۔جب تک یہ خود غرض حکمرانوں ، بے رحم دولت مندوں اور ظالموں کو پناہ ملتا رہے گا تب تک غریبوں کا بھلا نہیں ہونے والا۔آپ خود ہی اپنے چاروں اطرف پھیلے ہوئے داغوں پر نظر ڈالیئے، سب سے بڑا داغ مہنگائی کا ہے جسے دھونے کی اشد ضرورت ہے مگر اس طرف توجہ برائے نام ہی ہے۔ ایک غریب دس ہزار روپئے کی نوکری میں اپنے چار افراد کے کنبے کا پورے مہینے پیٹ کس طرح بھر سکتا ہے، کیا اس طرف کوئی بھی حکومت سوچتی ہے کہ یہ داغ دھو کر عوام کی خیر خواہی کی جائے۔ویسے تو اس ملک کے غریبوں پر بے شمار داغ لگے ہوئے ہیں مگر اس وقت جو داغ بہت بُرا محسوس ہو رہا ہے وہ ہے مہنگائی، بے روزگاری، لوڈ شیڈنگ، دہشت گردی۔ حکمران کم از کم اس طرف ضرور توجہ دیں تاکہ اس ملک کے غریب باسیوں کی تقدیر بھی بدل جائے اور وہ اگلے الیکشن میں آپ کے خیر خواہ بنے رہیں ، ورنہ تو حکومتیں آتی اور جاتی رہتی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ زبانی باتیں تو بہت ہوتی ہیں لیکن معاشرے اور غریب عوام کے سدھرنے کی طرف جان بوجھ کر مثبت قدم نہیں اٹھائے جاتے ۔ ایسی صورت میں مختلف ڈٹرجنٹ کمپنیوں والے داغوں کو دھو کر اچھا بنا رہے ہیں تو بدلتے ہوئے زمانے کی ہوا کو دیکھ کر ٹھیک ہی کر رہے ہیں۔ یہ ایسا اشتہار ہے جس نے بہت سے داغیوں کو داغ دھونے کا ایک راستہ دکھایا ہے خاص طور سے ملک کی خدمت میں جڑے ان لیڈروں کو جن کی پوری زندگی ہی کچھ اچھا کرنے میں گزر جاتی ہے مگر کچھ اچھا ہوتا ہی نہیں۔قانون اور دستور ایسا ہونا چاہیئے جس پر عمل در آمد یقینی بنایا جا سکے۔ اگر کسی سر پھرے نے کوئی داغ لگا بھی دیا تو داغی سیاست کا بے داغ ڈٹرجنت اس کے سارے داغوں کو آسانی سے یہ کہہ کر دھو دے کہ ’’اگر اچھے کاموں کے لئے داغ لگائے جائیں تو داغ تو اچھے ہیں‘‘note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button